Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

(۹)  بے ہوش ہو کر گر گئے

            حضرت سَیِّدُنا یزید رَقّاشی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الہادی ایک مرتبہ حضرت سَیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز  کے پاس تشریف لے گئے تو انہوں نے عَرض کی کہ مجھے کچھ نصیحت فرمائیں ۔ آپ نے فرمایا:’’یاامیرَالمُؤمنین ! !یاد رکھئے کہ آپ پہلے خلیفہ نہیں ہیں جو مر جائیں گے ۔ (یعنی آپ سے پہلے گزرنے والے خلفاء کو موت نے آلیا تھا ۔ ) ‘‘یہ سن کر حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز رونے لگے اور عرض کرنے لگے : ’’کچھ اور بھی فرمائیے ۔ ‘‘ تو آپ نے کہا:’’ یاامیرَالمُؤمنین !  حضرتِ سیِّدُنا آدم  عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام سے لے کر آپ تک آپ کے سارے آباؤ اَجداد فوت ہوچکے ہیں ۔ ‘‘یہ سن کر آپ مزید رونے لگے اور عرض کی :’’مزید کچھ بتائیے ۔ ‘‘ حضرت سَیِّدُنا یزید رَقّاشی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الہادی نے فرمایا :’’آپ کے اور جنت ودوزخ کے درمیان کوئی منزل نہیں ہے ۔ (یعنی دوزخ میں ڈالا جائے گا یا جنت میں داخل کیا جائے گا ۔ ) یہ سن کر حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز بے ہوش ہو کر گر پڑے ۔ (احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴، ص ۲۲۹)

(۱۰)  آنسوؤں سے چولہا بجھ گیا

            ایک بُزرگ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزسے ملاقات کے لئے تشریف لائے ۔ اس وقت آپ کے سامنے آگ کا چولہا رکھا تھا، آپ نے اُن سے کہا :’’ مجھے کوئی نصیحت فرمایئے ۔ ‘‘انہوں نے فرمایا :امیرُ المُؤمنین! آپ کو کسی کے جنت میں داخل ہوجانے سے کیا فائدہ ؟ جب کہ آپ خود جہنم میں جارہے ہوں ، اور کسی کے جہنم میں داخل ہونے سے آپ کا کیا نقصان ؟ جب آپ خود جنت میں جارہے ہوں ۔ ‘‘ یہ سن کر حضرتِ عمر رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ اتنا روئے کہ سامنے رکھا آگ کا چولہا آپ کے آنسوؤں سے بجھ گیا ۔ (سیرت ابن جوزی ص۱۶۴)

(۱۱)   نصیحتوں بھرامکتوب

            ایک مرتبہ حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز نے حضرت سیِّدُنا سالم بن عبداللّٰہ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ کو ایک مکتوب لکھا جس کا مضمون کچھ اس طر ح تھا :السَّلام علیکم!اللّٰہ تعالیٰ کی حمد وثناء کے بعدعمر بن عبدالعزیزعَرض کرتا ہے : ’’میرے مشورے کے بغیر ہی اُمورِ خلافت میرے سپرد کردیئے گئے ہیں حالانکہ میں نے کبھی بھی خلافت کی خواہش نہ کی تھی ، اللّٰہ ربُّ العزَّت کے حُکم سے مجھے خلافت کی ذمہ داری ملی ہے ، لہٰذا میں اُمورِ خلافت کے تمام مسائل میں اُسی سے مدد طَلَب کرتا ہوں کہ وہ مجھے اچھے اعمال اورمخلوق پر شفقت ونرمی کی تو فیق مرحمت فرمائے ۔ وہی ذات میری مدد کرنے والی ہے ، (اے میرے بھائی) جب آپ کے پاس میری یہ تحریر پہنچے تو مجھے امیرُ المُؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر بن خطاب  رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کی سیرت  اور اُن کے فیصلوں کے بارے میں کچھ معلومات فراہم کیجئے گا اور یہ بتائیے گا کہ انہوں نے مسلمانوں اور ذِمّیوں کے ساتھ اپنے دورِ خلافت میں کیسا رویہ اختیار کیا؟ میں اُمورِ خلافت میں ان کی پیروی کرنا چاہتا ہوں ، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  میری مدد فرمائے گا ۔ وَالسَّلام:عمر بن عبدالعزیز  جب یہ مکتوب حضرتِ سیِّدُناسالم بن عبد اللّٰہ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ کو پہنچا تو انہوں نے اس کے جواب میں کچھ یوں لکھا:’’اے عمر بن عبدالعزیز  (عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْقَدیر) !آپ پر سلامتی ہو، اللّٰہ رب العزت کی حمد وثنا اور حضور  صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم پردُرُود وسلام کے بعدمیں کہتا ہوں :’’ اللّٰہ رب العزت قادرِ مُطلَق ہے ، اس کی عظمت وبلندی کوکوئی نہیں پہنچ سکتا ، اس کا کوئی شریک نہیں ، وہ کسی غیر کے شریک ہونے سیمُنَزَّہ و مُبَرَّأ ہے ، جب اس نے چاہا دنیا کو پیدا فرمایا اور جب تک چاہے گا باقی رکھے گا ، اس نے دنیاکی اِبتدا و اِنتہا کے درمیان بہت قلیل مدت رکھی جو حقیقتاً دن کے کچھ حصے کے برابربھی نہیں ۔ پھر اللّٰہ تعالیٰ نے اس دنیا اور اس میں موجود تمام مخلوقات کی فنا کا فیصلہ بھی فرمادیا اور یہ سب چیزیں فانی ہیں ، صرف اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کی ذات ہی کوبقاء ہے ، اس کے سوا باقی سب چیزیں فانی ہیں ، جیسا کہ قرآن کریم میں اللّٰہعَزَّوَجَلَّ اِرشادفرماتاہے :

كُلُّ شَیْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَهٗؕ-لَهُ الْحُكْمُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ۠(۸۸) ۲۰، القصص:۸۸)

ترجمۂ کنزالایمان:ہر چیز فانی ہے سوااس کی ذات کے ، اسی کاحکم ہے اور اسی کی طرف پھر جاؤگے ۔

            (اے عمر بن عبد العزیز رحمۃاللہ تعالٰی علیہ!) بے شک دنیا والے دنیا کی کسی چیز پر قادر نہیں ، وہ خودمختار نہیں ، جب انہیں حکمِ الٰہی  ہوگا وہ اس دنیا کو چھوڑ دیں گے اور یہ  بے وفا دنیا ان کو چھوڑ دے گی ۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  نے (لوگو ں کی رہنمائی کے لئے ) قراٰن کریم اور دیگر آسمانی کُتُب نازِل فرمائیں ، انبیاء ورُسُل علیہم الصلٰوۃوالسلام مبعوث فرمائے ، اپنی کتاب میں جزاء وسزا بیان فرمائی، سمجھانے کے لئے مثالیں بیان فرمائیں اور اپنے دین کی وضاحت قراٰن کریم میں فرمادی ، حرام وحلال اشیاء کا بیان اسی کتاب میں فرما دیا اورعبرت آموز واقعات اس میں بیان فرمائے ۔ اے عمر بن عبدالعزیز (رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ) ! کیاآپ سے اس بات کا وعدہ نہیں لیاگیا کہ آپ ہر ایک انسان کے کھانے پینے کے ذمہ دار ہیں ، بلکہ آپ کو تو خلافت دی گئی ہے ، اس لئے بے شک آپ کے لئے بھی اُتنا ہی کھانا اور لباس کافی ہے جتنا ایک عام انسان کے لئے کافی ہوتا ہے بے شک آپ کو یہ ذمہ داری اللّٰہ رب العزت ہی کی طر ف سے ملی ہے ۔

اگرآپ خُود کو اور اپنے اہلِ خانہ کو نقصان و بر بادی سے بچا سکتے ہیں تو ضَرور بچائیے اور قیامت کی ہولناکیوں سے بچئے ، نیکی کرنے کی طاقت اور برائی سے بچنے کی تو فیق اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہی کی طرف سے ہے ۔ بے شک جو لوگ آپ سے پہلے گزرے انہوں نے جو کچھ کرنا تھا وہ کیا ، جو ترقیاتی کام کرنے تھے کئے ، جن چیز وں کوختم کرنا تھا ختم کیا ، اور ہر شخص اپنے اپنے انداز میں اپنی ذمہ داریوں کوادا کرتا رہا اور یہی سمجھتا رہا کہ اصل طریقہ یہی ہے جو میں نے اختیار کیا ہے ، ان میں سے بعض لوگو ں نے قابلِ گِرِفت لوگو ں سے بھی نہایت نَرمی سے کام لیا اور ان کی سَرکَشی کے باوجود انہیں بے جا ڈِھیل دی تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے ایسے لوگو ں پر آزمائش کا دروازہ کھول دیا ۔ اگر آپ بھی کسی قابلِ گِرِ فت شخص سے نرمی کا بر تا ؤکریں گے تو اس کا انجام دیکھیں گے اور اگر آپ نے کسی مُجرِم سے کسی دینی معاملہ میں نرمی کا بر تاؤ کیا تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ آپ پر بھی آزمائش کے دروازے کھول دے گا ، اگر آپ کسی کو گورنر بننے کے قابل نہ سمجھیں تو بے دھڑک اس کو عہدے سے معزول کردیجئے اور اس بات سے نہ ڈرئیے کہ اب کون گورنر وحاکم بنے گا ؟ اللّٰہ ربُّ العٰلمین آپ کے لئے ان نا اہل گو رنروں اور حاکموں سے بھی اچھے مدد گار لوگ عطا فرما دے گا ۔ آپ مخلوق کی پرواہ مت کیجئے اور اپنی نیت کو خالص رکھئے ، ہر انسان کی مدد اس کی نیت کے مطابق کی جاتی ہے ، جس کی نیت کامل ہے تو اس کو اجر بھی کامل ہی ملے گا اور جس کی نیت میں فُتُور ہوگااس کو صِلہ بھی ایسا ہی دیا جائے گا ۔ اے عمر بن عبدالعزیز!  اگر آپ چاہتے ہیں کہ بر وز ِقیامت کوئی آپ کے خلاف ظُلم کا دعویدار نہ ہو اور جو لوگ آپ سے پہلے گزر گئے وہ آپ پر رشک کریں کہ دیکھو! اِس کے متبعین کو اس



Total Pages: 139

Go To