Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

جو چوری، رِشوت، غَصَب اور انہیں جیسے دیگر ذرائِع سے مِلاہو اِس کو حاصِل کرنے والا اِس کااصلاً یعنی بالکل مالِک ہی نہیں بنتا اور اِس مال کے لئے شَرعاً فرض ہے کہ جس کا ہے اُسی کو لوٹا دیا جائے وہ نہ رہا ہو تو وارِثوں کو دے اور ان کا بھی پتا نہ چلے تو بِلا نیّتِ ثواب فقیر پر خیرات کر دے (۲) دوسرا وہ حرام مال جس میں قبضہ کر لینے سے مِلکِ خبیث حاصِل ہو جاتی ہے اور یہ وہ مال ہے جو کسی عَقدِ فاسِد کے ذَرِیعہ حاصِل ہوا ہو جیسے سُودیا داڑھی مُونڈنے یا خَشخَشِی کرنے کی اُجرت وغیرہ ۔ اِس کا بھی وُہی حکم ہے مگر فرق یہ ہے کہ اس کو مالِک یا اِس کے وُرثا ہی کو لوٹا نا فرض نہیں اوّلاً فقیر کو بھی بِلا نیّتِ ثواب خیرات میں دے سکتا ہے ۔ البتّہ افضل یِہی ہے کہ مالِک یا وُرثا کو لوٹا دے ۔   ( ماخوذ ازـ:فتاویٰ رضویہ ج۲۳ ص۵۵۱، ۵۵۲ وغیرہ)  

کر لے توبہ ربّ کی رحمت ہے بڑی

                 قبر میں ورنہ سزا ہوگی کڑی(پُراسرار بھکاری ، ص۲۷)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

قُسطُنطُنیَہ کے مسلمان قیدیوں کو رقم بھیجی

             حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزنے  قُسطُنطُنیَہکے مسلمان قیدیوں کے نام خط لکھا:’’اَ مَّابَعد:تم اپنے آپ کوقیدی تصوُّرکرتے ہو؟مَعَاذَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ!تم قیدی نہیں ، بلکہ راہِ خداعَزَّوَجَلَّ میں مَحبُوس (یعنی روکے گئے ) ہواورتمہیں عِلم ہوناچاہیے کہ میں اپنی رِعایامیں کوئی چیزتقسیم کرتاہوں توتمہارے گھر والوں کواچھا اور زیادہ حصّہ پہنچاتاہوں ، میں تمہارے لئے پانچ پانچ دیناربھیج رہا ہوں اور اگریہ اندیشہ نہ ہوتا کہ زیادہ بھیجنے کی صورت میں رُومی اُس کوروک لیں گے اورتم تک نہیں پہنچنے دیں گے تواِس سے زیادہ بھیجتا، اورمیں فلاں صاحب کو تمہارے پاس بھیج رہاہوں وہ رُومیوں کومنہ مانگامُعاوَضَہ دے کرتم میں سے ہر چھوٹے بڑے ، مرد، عورت، آزاد اور غلام سب کورہاکرائے گا، والسلام ۔ ‘‘(سیرت ابن عبدالحکم ص۱۴۰)

بخل کا خوف

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز فرماتے ہیں کہ میں نے  جس کسی کو بھی کچھ دیا اُسے بہت تھوڑا سمجھا کیونکہ مجھے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  سے حیاآتی ہے کہ میں اُس سے اپنے اسلامی بھائیوں کے لئے جنت کا سوال کروں اور دنیا کے معاملے میں ان پربخل کروں یہاں تک کہ قیامت کے دن مجھ سے یہ سوال ہو:لَوْکَانَتِ الْجَنَّۃُ بِیَدِکَ کُنْتَ بِہَااَبْخَلَ  اگر جنت تمہارے ہاتھ میں ہوتی تو تم اس میں بھی بخل کرتے ؟ (سیرت ابن جوزی ص۱۸۷)

کنیز واپس کردی

            حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ کی زوجہ حضرت فاطمہ بنت عبدُالملک رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہا کے پاس ایک کنیزتھی جو حسن وجمال میں بے مثال تھی، وہ آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ کو بہت پسند تھی، خلیفہ بننے سے پہلے آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے اپنی زوجہ سے کہابھی تھا:’’یہ کنیز مجھے ہِبہ کردو ۔ ‘‘ لیکن انہوں نے اِنکار کر دیا ۔ پھر جب آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ کو خلیفہ بنا یا گیا تو آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ کی زوجۂ محترمہ اُس کنیز کو تیار کرکے آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ کی خدمت میں لائیں اور عَرضکی: ’’میں یہ کنیز بخوشی آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہکو پیش کرتی ہوں کیونکہ آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ کو یہ بہت زیادہ پسند ہے ۔ ‘‘آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ  بہت خوش ہوئے ۔ جب وہ تنہائی میں آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہکے قریب آئی تو اُس کا حُسن وجمال آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہکو بہت بھایا ۔ آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہنے اُس سے قُربَت اِختیار کرنا چاہی مگر ایک دم رُک گئے اور اس کنیز سے کہا:’’ بیٹھ جاؤ، اور پہلے مجھے یہ بتاؤ کہ تم کون ہواور فاطمہ کے پاس تم کہا ں سے آئیں ؟‘‘ وہ کہنے لگی: میں ’’ کُوفہ‘‘ کے گورنر کی غلامی میں تھی اور وہ گورنر حجاج بن یوسف کا بہت مقروض تھا ، اُس نے مجھے حجاج بن یوسف کے پاس بھیج دیا ۔ حجاج بن یوسف نے مجھے عبدُالملک بن مَرو ان کے پاس بھیج دیا ۔ ان دنوں میرالڑکپن تھا ، پھر عبدُالملک نے مجھے اپنی بیٹی فاطمہ کوتحفے میں دے دیااوریوں میں آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ کے پاس پہنچ گئی ۔ ‘‘ آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے اس سے پوچھا :’’ اُس گو رنر کا کیا ہوا؟‘‘ کہنے لگی:’’ وہ فوت ہوچکا ہے ۔ ‘‘ آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے پوچھا:’’ کیا اُس کی کوئی اولاد ہے ؟‘‘اس نے جواب دیا:’’جی ہاں ! اس کا ایک لڑکاہے ۔ ‘‘ آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے اِستِفسار فرمایا: ’’اس کا کیا حال ہے ؟‘‘ کہنے لگی:’’ اس کاحال بہت براہے ، بہت زیادہ مُفلِسی کی زندگی گزار رہا ہے ۔ ‘‘ آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہنے اُسی وقت کُوفہ کے موجود ہ گورنر’’ عبدالحمید‘‘کو خط لکھا کہ فلاں شخص کو فوراً میرے پاس بھیج دو، فوراً حکم کی تعمیل ہوئی اور وہ شخص آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہکے پاس آگیا ۔ آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے پوچھا:’’ تجھ پر کتنا قرض ہے ؟‘‘  تواُس نے جتنا بتا یا آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے سارا اَدا کردیا ۔ پھر فرمایا :’’ یہ کنیز بھی تمہاری ہے ، اسے لے جاؤ ۔ ‘‘ یہ کہتے ہوئے آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے وہ کنیز اس کے حوالے کردی ۔

             اس نے کہا :’’امیرُالمُؤمنین ! یہ کنیز آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہہی رکھ لیجئے ۔ ‘‘ آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے فرمایا:’’مجھے اب اس کی کوئی حاجت نہیں ۔ ‘‘ اس نے پیش کش کی:’’اسے مجھ سے خرید لیں ۔ ‘‘ آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے خریدنے سے بھی اِنکار کردیا اور فرمایا:’’ جاؤ، اسے اپنے ساتھ ہی لے جاؤ ۔ ‘‘یہ سن کروہ کنیز کہنے لگی:’’یاامیرَالمُؤمنین ! آپ تو مجھے بہت چاہتے تھے ، اب وہ چاہت کہاں گئی ؟ ‘‘ آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے فرمایا:’’ وہ محبت وچاہت اپنی جگہ بر قرار ہے بلکہ اب تو اور زیادہ بڑھ گئی ہے ۔ ‘‘ پھر ان دونوں کو روانہ کردیا ۔ (عیون الحکایات، ص۵۴)

خارجِیوں نے آپ سے جنگ نہیں کی

            حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزکی سیرت وکردارسے آپ کے دُشمن بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے ، چنانچہ خارِجی گروہ جوہمیشہ خلفاء کے مقابلے میں عَلَمِ بَغاوت بُلند کرتا رہتا تھا، وہ لوگ پہلے پہل حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعزیز  کو بھی قَتل کرناچاہتے تھے ، لیکن جب ان کو آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہکی سیرت اور طرزِ حکومت کی خبر ہوئی تو انہوں نے آپس میں یہ طے کیاکہ ایسے عظیم شخص سے جنگ کرنا اور اُسے قتل کرنا ہمیں زیب نہیں دیتا، لہٰذا وہ اپنے اِس مَذمُوم فعل سے باز رہے اوریہ اِعتراف کیاکہ یہ مردِ مجاہدواقعی خلافت کے لائق ہے ۔ چُنانچِہ جب تک اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے چاہاآپ نہایت عَدل واِنصاف سے اُمورِخلافت اَنجام دیتے رہے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۶۷)

 اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صَدَقے ہماری مغفرت ہو

 



Total Pages: 139

Go To