Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

غورسے سنااورپھردھمکی آمیزلہجے میں فرمایا: ’’اگرآئندہ پھرتم نے اِس قسم کی باتیں کیں توسن لو!میں نہ صرف تمہاراشہرچھوڑکرمدینہ طیبہ چلا جاؤں گا بلکہ خلافت کامعاملہ شوریٰ پرچھوڑ دوں گا، میں اس کے اہل کواچھی طرح پہچانتا ہوں ۔ ‘‘ (طبقات ابن سعد، ج۵، ص۲۶۵ )

عمر بن ولید کا خط اور اس کا جواب

            جب حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کے عَدل واِنصاف پر مبنی ان فیصلوں کی خبر ولید بن عبد الملک کے بیٹے ’’ عمر‘‘کوپہنچی تو اُس نے اِس عادِلانہ طرزِ عمل کو نہایت ناپسندیدگی سے دیکھا اور آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ کی طرف ایک مکتوب بھیجاجس میں آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ کوبہت زیادہ سخت الفاظ سے مُخَاطَب کیا ۔ چنانچہ اس نے لکھا: ’’اے عمربن عبدالعزیز  ! تم نے اپنے سے پہلے تمام خلفا پر عیب لگایاہے اور تم حد سے تَجاوُز کرگئے ہو، تم نے بُغض وعِناد کی وجہ سے اپنے پیش رَوؤں کے طریقوں کو چھوڑدیاہے اور ان کے خلاف چل رہے ہو، تم نے قریش اور ان کی اولاد کی مِیراث کو جبراََبیت المال میں داخل کرکے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی کی ہے اور قَطع رَحمی سے کام لیاہے ۔ اے عمر بن عبد العزیز !اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  سے ڈرو اور اس بات کاخیال کرو کہ تم ظُلم وزِیادَتی سے کام لے رہے ہو، اے عمر بن عبد العزیز !ابھی تمہارے پاؤں صحیح طور پر تختِ خلافت پر جَمے بھی نہیں اور تم نے ایسے سخت فیصلے کرناشروع کردئیے ہیں ۔ یاد رکھو!تم  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی نگاہ میں ہوجوبہت جَبَّار وقَہَّار ہے ۔ ‘‘

            جب حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزکواُس کایہ خط ملاتواگرچہ آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ سراپأ حِلم تھے تاہم اِس معاملے میں کوئی نَرمی نہیں برتی بلکہ اُسی کے انداز میں عَدل واِنصاف اور جرأتِ اِیمانی سے بھرپور جوابی خط روانہ کیاجس کامضمون کچھ اس طرح تھا:بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمط

            اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کے بندے عمربن عبدالعزیز کی طرف سے عمربن ولید کو ۔ تمام تعریفیں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں جوتمام جہانوں کاپالنے والاہے اور سلام ہوتمام رسولوں پر ۔ امَّابعد! اے عمر بن ولید!مجھے تمہاری طرف سے جو مکتوب ملاہے اُس کاجواب اُسی اندازمیں لکھ رہاہوں ۔ اے عمر بن ولید!تو ذرا اپنے آپ کو پہچان کہ کس کی اولادہے ؟ تو ایک ایسی لونڈی کے بَطن سے پیداہواتھاجسے ذبیان بن دیان نے خریدا تھااور اُس کی قیمت بیت المال سے ادا کی تھی پھر اس نے وہ لونڈی تیرے والدکو تحفۃََ دے دی تھی ۔ اور اب تو اتناشدید وسخت بن رہاہے اور تو گمان کررہاہے کہ میں نے حدودُاللّٰہ نافذ کرکے ظُلم کیاہے ۔ یاد رکھ! وہ زمین اور جائداد جو تمہارے خاندان والوں کے پاس ناحق تھی وہ میں نے ان کے حق داروں کودے کرظُلم نہیں کیابلکہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کی کتاب کے مطابق فیصلہ کیاہے ۔ ظالم تو وہ شخص ہے جس نے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے اَحکام کالحاظ نہ رکھا اور جس نے ایسے لوگوں کوگورنر اوربلند حکومتی عہدے دئیے جو صرف اپنے اہل خانہ اور اپنی اولاد کا بھلا چاہتے تھے اور مسلمانوں کی مشکلات اور اُن کے حقوق سے انہیں کوئی غرض نہ تھی اوروہ اپنی مرضی سے فیصلے کرتے تھے ۔ اے عمر بن ولید! تجھ پر اور تیرے باپ پر بہت زیادہ افسوس ہے ، بروزِقیامت تم دونوں سے حق مانگنے والوں کی تعدادبہت زیادہ ہوگی، اس دن لوگ تم سے اپنے حقوق کامطالبہ کریں گے اور مجھ سے زیادہ ظالِم تو حجاج بن یوسف تھاجس نے ناحق خون بہایااور مالِ حرام پر قبضہ کیااور مجھ سے زیادہ ظالم و نافرمان تو وہ شخص تھاجس نے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کی حُدُود قائم کرنے کے لئے قرہ بن شریک جیسے شخص کومِصرکاگورنرمقرر کیا حالانکہ وہ نِراجاہل تھا، اس نے شراب کو عام کیااور آلاتِ لہوولعب کوخوب پَروان چڑھایا ۔ اے عمر بن ولید! تمہیں مہلت ہے کہ جن جن کاحق تم پرہے جلد اُن کو واپس کردو ورنہ تمہارے اور تمہارے گھر والوں کے پاس جوبھی ایسا مال ہے کہ اس میں کسی غیرکاحق شامل ہے تو میں اسے حق داروں میں تقسیم کردوں گااور اگر تم غور وفِکر کرو تو تمہارے اَموال میں بہت سارے لوگو ں کا حق شامل ہے ۔ اگردنیاوآخر ت کی بھلائی چاہتے ہوتو دوسروں کے حق واپس کردو ۔ وَالسَّلَامُ عَلَیْنَاوَلَاسَلَامُ اللّٰہِ عَلٰی الظّٰلِمِیْن یعنی ہم پر سلامتی ہواور ظالموں پر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کی طرف سے سلامتی نہ ہو ۔ (سیرت ابن جوزی ص۱۳۳)

 خاندان کی عزت کا پاس

             حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزیز اگر چہ بعض حکومتی معاملات میں اپنے خاندان کے طریقہ کار کو پسند نہ فرماتے تھے ۔ تاہم ان کو اپنے  خاندان کی عزت و حُرمت کا کچھ کم پاس نہ تھا ۔ ایک بار خَوارِج نے اُن سے دورانِ مناظرہ کہا کہ جب تک آپ اپنے خاندان سے تبرّٰی (یعنی بیزاری کا اظہار) اور اُن پر لعنت و مَلامت نہ کریں گے ہم آپ کی اِطاعت قبول نہ کریں گے ۔ دریافت فرمایا: کیا تم نے فِرعَون پر لعنت کی ہے ؟ اُن سب نے کہا: نہیں ۔ فرمایا: جب تم نے فِرعَون جیسے کافِر سے چَشم پوشی کی تو میں اپنے خاندان سے کیوں نہ چَشم پوشی کروں حالانکہ اس میں بُرے بَھلے ، نیک و بَدہر قسم کے لوگ تھے ۔ (سیرت ابن جوزی، ص۹۵)

بیت المال پر کس کا حق ہے ؟

            ایک موقع پر عنبسہ بن سعید نے حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزسے کچھ مال دینے کی درخواست کی تو آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے فرمایا:جو مال تمہارے پاس پہلے سے موجود ہے اگر وہ حلال کا ہے تو تمہیں وہی کافی ہے اور اگر حرام کا ہے تو اس پر مزید حرام کا اِضافہ نہ کرو ۔ پھر پوچھا :اچھا یہ بتاؤ! کیا تم محتاج ہو ؟ عَرض کی: ’’نہیں ۔ ‘‘کیا تمہارے ذمّے قرض ہے ؟ جواب اِس مرتبہ بھی نفی میں تھا ۔ فرمایا: پھر تم کیا چاہتے ہو؟ کیا میں مسلمانوں کا مال بلاضرورت تمہیں دے ڈالوں اور حقداروں کو یونہی چھوڑ دوں ! ہاں !اگر تم مقروض ہوتے تو میں تمہارا قرضہ ادا کرسکتا تھا ، اگر محتاج ہوتے تو بقدرِ کِفایت تمہیں دے سکتا تھا ، لہٰذا جو مال تمہارے پاس موجود ہے اُسی کو خَرچ کرو ، سب سے پہلے تو یہ دیکھ لو کہ یہ مال کہاں سے جمع کیا ہے اور اپنی خیر مناؤ ، اس سے پہلے کہ تمہیں اُس ذات (یعنی اللّٰہعَزَّوَجَلَّ) کے سامنے پیش ہونا پڑے جس کے ہاں تمہار ا کوئی معاہدہ ہے نہ کسی حیلے بہانے کی گنجائش !(سیرت ابن عبدالحکم ص۱۳۲)

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے کہحضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز نے کیسی خیر خواہانہ نصیحت فرمائی ، ہمیں بھی چاہئے کہ ہاتھوں ہاتھ اپنے مال واَسباب پر غوروفکر کریں کہ خدانخواستہ کہیں اس میں حرام تو شامل نہیں ، اگر ہو توہاتھوں ہاتھ اُس سے جان چھڑا لیں ۔

مالِ حرام کے شَرعی احکام

                 دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ32 صفحات پر مشتمل رسالے ’’پُر اَسرار بھکاری‘‘کے صفحہ 27پر ہے :حرام مال کی دو صورَتیں ہیں : (۱) ایک وہ حرام مال



Total Pages: 139

Go To