Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

بعد میں یہ رائے بنی کہ اپنی تحویل میں رکھنے کے بجائے اُن کے مالکوں کو لوٹا دینا بہتر ہے ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۷۷)

تمہارا کوئی حق نہیں مارا گیا

            ایک مرتبہ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز کے سامنے بے حد عُمدہ عنبر لاکر رکھی گئی اور ایک شخص نے کھڑے ہوکر بلند آواز سے پکارا: اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  اور آپ کی دہائی ہے یاامیرَالمُؤمنین ! فرمایا:کیا بات ہے ؟عَرض کی : ’’یاامیرَالمُؤمنین ! میرا عنبر!‘‘دریافت فرمایا: اِس عنبر کا کیا معاملہ ہے ؟اس نے کہا : میں نے یہ عنبر سلیمان بن عبدالملک کو سات ہزار درہم میں فروخت کیاتھا حالانکہ اس کی قیمت اٹھارہ ہزار سے بھی زیادہ ہے ۔ فرمایا: کیاانہوں نے تجھے ڈرایا دھمکایا تھا ؟ عَرض کی: نہیں ، فرمایا:کیاتجھے مجبور کیاتھا ؟کہا: نہیں ، فرمایا :کیاتجھ سے غَصَب کیا تھا ؟ کہا:نہیں ، فرمایا :تو پھر ؟اس کے منہ سے نکلا : میراعنبر ۔ مگر آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے فرمایا:جاؤ! تمہارا کوئی حق نہیں مارا گیا، کیونکہ میں بھی یہی پسند کرتاہوں کہ کوئی چیز خریدوں توسَستی خریدوں (اور سلیمان بن عبدالملک نے یہی کیا تھا) ۔ (سیرت ابن جوزی ص۹۹)

سائل سے ہمدردی

            ایک سائل حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کی خدمت میں حاضِر ہوا اور آپ کے مقرر کردہ گورنر کی شکایت کی کہ وہ میری زمین واپس نہیں دِلواتا، حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز نے فرمایا: اس کے حلئے نے ہمیں دھوکہ دیا کہ ہم نے اسے نیک سمجھ کر گورنر بنادیا، میں نے اُسے لکھا بھی تھا کہ جو شخص اپنے حق پر گواہی پیش کردے اُس کی چیز فوراً اُس کے حوالے کردیا کرو، مگر اُس نے میری تاکید نظر انداز کردی اور تمہیں خواہ مخواہ یہاں آنے کی زحمت دی ۔ پھر آپ نے گورنر کے نام تحریری  حُکم لکھا کہ اِس شخص کی زمین اِسے دلوائی جائے ۔ اس کے بعد سائل سے دریافت فرمایا: میرے پاس آنے میں تمہارا کتناخَرچ ہوا؟عَرض کی: یاامیرَالمُؤمنین ! آپ مجھ سے سفر کاخَرچ پوچھتے ہیں ، میری جوزمین آپ نے واپس دِلوائی ہے اس کی قیمت ایک لاکھ سے بھی زیادہ ہے ! حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز نے فرمایا: وہ توتمہارا حق تھا جو تمہیں مل گیایہ بتاؤ کہ سفر پر کتنی رقم خَرچ ہوئی؟ عَرض کی: جی! معلوم نہیں ۔ فرمایا: کچھ اندازہ تو ہوگا؟ عَرض کی: ’’یہی کوئی 60 دِرہم ۔ ‘‘ آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے  حُکم دیا کہ اس کا خَرچ بیتُ المال سے ادا کیا جائے ، جب وہ جانے لگا تواسے آواز دے کر بلایا اور فرمایا:خُذْھٰذِہٖ خَمْسَۃُ دَرَاہِمَ مِنْ مَّالِیْ فَکُلْ بِہَا لَحْماً حَتٰی تَرْجِعَ اِلٰی اَھْلِکَ یعنی لو! یہ پانچ درہم میرے ذاتی مال سے ہیں ، گھر جانے تک ان کا گوشت لے کر کھاتے رہنا ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۱۲۵)  اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔ اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حکومتی ذمّہ دار پر اِنفرادی کوشِش

            حضرتِ سیِّدناعمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الْقَدِیر نے ایک گورنر کو لکھا :تم سے پہلے کے گورنر فِسق و فُجور اور ظُلم و عُدوان کی جس اِنتہا کو پہنچے ہوئے تھے تم سے ہوسکے تو عَدل و اِنصاف اور اِحسان و اِصلاح میں وہی مقام پیدا کرو ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۱۰۲)

پروٹوکول ختم کردیا

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزسے پہلے خلیفہ منتخب ہونے والے کے خاندان کو شاہی اہمیت مل جاتی تھی ، خلیفہ کی طرف سے ان کو خاص وظائف ملتے تھے ، وہ ہر جگہ نمایاں حیثیت میں نظر آتے تھے ، خود خلیفہ جب چلتا تھا تو اس کے ساتھ ساتھ نَقِیب وعلمبردار چلا کرتے تھے ، کسی جنازے میں شریک ہوتا تو اس کے لئے خاص طور پر چادر بچھائی جاتی لیکن حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز نے خلیفہ بنتے ہی تمام نشیب وفراز مٹا دئیے اور ’’محمود واَیاز ‘‘ کو ایک ہی صف میں کھڑا کر دیا ۔ خاندانِ شاہی کو عام مسلمانوں پر جو اِمتیاز حاصل ہوگیا تھا اُس کے بارے میں حضرتِ سیِّدناعمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الْقَدِیرنے ابوبکر بن حزم کو لکھا کہ دربارِ عام میں کسی کو کسی پر اِس لیے ترجیح نہ دو کہ وہ خاندانِ خلافت سے تعلق رکھتا ہے ، یہ لوگ میرے نزدیک تمام مسلمانوں کے برابر ہیں ۔ (طبقات ابن سعد، ج۵، ص۲۶۴ ) خود اپنے لئے لکھا کہ مذہبی اِجتماعات میں خاص میرے لئے دعا نہ کی جائے بلکہ عمومی طور پر سارے مسلمانوں کے لئے دعا کی جائے اگر میں اُن میں سے ہوں گا تو اس دعا میں حصّہ دار بن جاؤں گا ۔ (طبقات ابن سعد، ج۵ ، ص۲۹۵)

سب کے لئے کی جانے والی دعا زیادہ قبول ہوتی ہے

           وہ دعا زیادہ مقبول ہوتی ہے کہ جوسب کے لیے کی جائے کیونکہ اگرایک کے لیے بھی قَبول ہوئی تو اُمّید ہے کہ سب کے لیے قَبول ہو جائے گی ۔ اِسی لیے دعاکے اوَّل اور آخِر دُرُودِ پاک پڑھا جاتا ہے کیونکہ دُرُود شریف یقینا قَبول ہوتا ہے ، تَو رحمتِ الٰہیعَزَّوَجَلَّ سے ا مّیدِ قوی ہے کہ وہ دو۲  دُرُودوں کے درمیان کی جانے والی دعا کو نہ چھوڑے گا بلکہ اوَّل آخِر پڑھے جانے والے دُرُود شریف کی بَرَکت سے اِسے بھی قَبول فرما ہی لے گا ۔ (تفسیر کبیر ج۱، ص۲۱۹)

پڑوسی خُلد میں یارَبّ بنادے اپنے پیارے کا

         یِہی ہے آرزو میری یِہی دِل سے دعا نکلے (وسائل بخشش ص ۲۶۲)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

سب کے برابر بیٹھئے

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزکے برادرِ نسبتی (یعنی زوجہ محترمہ کے بھائی) حضرت مَسلَمَہ بن عبدالملک رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہکسی مقدمے میں بحیثیتِ فریق آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہکے دربار میں آئے تو درباری فرش پر آپ کے سامنے بیٹھ گئے ، مگر آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے فرمایا:اِن حالات میں یہاں نہ بیٹھئے اگر یہ گوارا نہ ہو تو کسی کو اپنا وکیل مقرر کر لیجئے ورنہ سب کے برابر بیٹھئے ۔ (سیرت ابن جوزی۹۱ملخصا)

 



Total Pages: 139

Go To