Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

             حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزیزاپنے بچوں سے اگرچہ بہت زیادہ محبت رکھتے تھے ، لیکن اُس محبت کا اِظہار کبھی دُنیوی زیب و زِینت اور عَیش و عِشرت کی صورت میں نہیں ہوتا تھا، ایک بار انہوں نے اپنی بیٹی امینہ کو نہایت پیار سے آواز دے کر بلایا لیکن وہ نہ آئی ۔ جب بعد میں اُس سے نہ آنے کی وجہ پوچھی توعَرض کی: میرے پاس ستر ڈھانپنے کے لئے کپڑا نہ تھا ۔ امیرُ المُؤمنین نے  مُزاحِم کو  حُکم دیا کہ فرش پر بچھی ہوئی چادر کو پھاڑ کر اس کے لیے ایک قمیض تیار کروادو ۔ حُسنِ اتفاق سے لڑکی کی پھوپھی اُمُّ البِنِین نہایت دولت مند تھیں ، ایک آدمی ان کے پاس گیا اور سارا ماجرا بیان کیا ۔ انہوں نے ایک تھان کپڑا بھیج دیا اور کہا عمر(رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ) سے کچھ نہ مانگو ۔ (سیرت ابن جوزی ص۳۱۵)

موٹے کپڑے

             ایک بارحضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کے صاحبزادے عبداللّٰہ آئے اور کپڑے مانگے ۔ آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہنے ان کو خیار بن رباح بصری کے پاس بھیج دیا کہ ہمارے کپڑے وہاں رکھے ہوئے ہیں ۔ وہ گئے تو خیار نے چند موٹے کپڑے نکال کر سامنے رکھ دیئے اور کہا کہ جس قدر ضرورت ہو لے لو ، صاحبزادے نے کہا : یہ میری اور میرے خاندان کی پوشِش(یعنی لباس) نہیں ہے ۔ خیار نے کہا : امیرُ المُؤمنین کے یہی کپڑے ہیں جو میرے پاس ہیں ۔ یہ سن کر عبداللّٰہ  واپس ہولئے اور حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز سے واقعہ بیان کیا تو فرمایا:’’وہ ٹھیک ہی تو کہتے ہیں ، ہمارے پاس تو یہی کپڑے ہیں ۔ ‘‘ اب صاحبزادے نے مایوس ہو کر پلٹنا چاہا تو پیش کش کی کہ اگر لینا چاہو تو میں تمہیں 100 درہم قرض دِلواسکتا ہوں ۔ وہ راضی ہوگئے توآپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے سو درہم دلوادیئے ، جب وظیفہ تقسیم ہوا تو ان کے وظیفے سے وہ رقم کاٹ لی ۔ (سیرت ابن جوزی، ص۳۱۲)

ہزار بھوکوں کا پیٹ بھر دو

            حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کی اولاد میں اگر کوئی بیش قیمت چیز کا استعمال کرتا تو اُس کو بھی مَنع کرتے ۔ ایک بار ان کے صاحبزادے نے انگوٹھی بنوائی اور اس کے لیے ہزار دِرہم کا نگینہ خریدا ۔ آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ کو معلوم ہوا تو لکھا کہ اس انگوٹھی کو فروخت کر ڈالو اور اس رقم سے ہزار بھوکوں کا پیٹ بھردو ۔ (سیرت ابن جوزی ص۳۱۴)

بیتُ المال سوکنیں جمع کرنے کے لئے نہیں ہے

            حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کے ایک صاحبزادے  نے آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ کی خدمت میں یہ درخواست بھیجی کہ میں شادی کرنا چاہتا ہوں ، میرا مَہر بیتُ المال سے ادا فرمادیجئے ۔ یہ صاحبزادے پہلے سے شادی شدہ تھے ، آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ اس پر بے حد ناراض ہوئے اور اسے لکھا:’’ تم نے اپنے خط میں مجھ سے درخواست کی ہے کہ میں تمہارے لیے مسلمانوں کے بیتُ المال کی رقم خَرچ کرکے سوکنیں جمع کردوں ؟ (یعنی تمہاری دوسری شادی کردوں ) حالانکہ مہاجرین کی اولاد میں بعض ایسے افراد بھی ہیں جنہیں اپنی عِفَّت و عِصمَت کی حفاظت کے لیے ایک بیوی بھی مُیَسَّر نہیں ، خبردار! آئندہ ایسی بات مجھے نہ لکھنا ۔ ’’ بعد اَزاں آپ نے اُسی صاحبزادے کو ایک خط اورلکھا جس میں فرمایا:’’تمہارے پاس جو ہمارا تانبا اور گھریلو سامان ہے اگر چاہو تو اُسے فروخت کرکے اپنی ضَرورت پوری کرلو ۔ ‘‘(سیرت ابن عبدالحکم ص۱۰۶)

شہزادیوں کی عید

            حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کی خدمت میں عِید سے ایک دِ ن قَبل آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہُ کی شہزادیاں حاضِر ہوئیں اور بولیں :’’بابا جان! کل عِید کے دِن ہم کون سے کپڑے پہنیں گی؟ ‘‘ فرمایا ، :’’یِہی کپڑے جو تم نے پہن رکھّے ہیں ، اِنہیں دھو لو، کَل پہن لینا!‘‘ ، ’’نہیں !بابا جان ! آپ ہمیں نَئے کپڑے بنوادیجئے ، ‘‘بچّیوں نے ضِد کرتے ہوئے کہا ۔ آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے فرمایا: ’’میری بچّیو!عِید کا دِن ا للّٰہُ رَبُّ الْعِزَّتعَزَّوَجَلَّ کی عِبادت کرنے ، اُ سکا شُکر بجالانے کا دِن ہے ، نئے کپڑے پہننا ضَروری تو نہیں ! ‘‘، ’’ بابا جان  ! آپ کا فرمانا بیشک دُرُست ہے لیکن ہماری سَہَیلیاں ہمیں طَعنے دیں گی کہ تم امیرُ المؤمنین کی لڑکیاں ہو اور عید کے روز بھی وُہی پُرانے کپڑے پَہن رکھے ہیں ! ‘‘ یہ کہتے ہوئے بچّیوں کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے ۔ بچّیوں کی باتیں سُن کر آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ کا دِل بھی بھر آیا ۔ آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہنے خازِن (وزیر مالیات) کو بُلا کر فرمایا:’’مجھے میری ایک ماہ کی تنخواہ پیشگی لادو ۔ ‘‘ خازِن نے عَرض کی ، ’’حُضُور! کیا آپ کو یقین ہے کہ آپ ایک ماہ تک زندہ رہیں گے ؟‘‘ آپ  رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے فرمایا:’’جَزَاکَ اللّٰہتُونے بیشک عُمدہ اور صحیح بات کہی ۔ ‘‘  خازِن چلا گیا ۔ آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے بچّیوں سے فرمایا، ’’پیاری بیٹیو! اللّٰہ و رسول عَزَّوَجَلَّ وَ  صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم کی رِضا پر اپنی خواہِشات کو قُربان کردو ۔ (مَعْدَنِ اَخلاق حصۂ اوّل ص ۲۵۷ تا ۲۵۸)

اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔  اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

        شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ اِس حکایت کو نَقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں :میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے ؟ گُزَشتہ دونوں حِکایات سے ہمیں یِہی دَرس مِلا کہ اُجلے کپڑے پَہن لینے کا نام ہی عِید نہیں ۔ اس کے بِغیربھی عِید مَنائی جا سکتی ہے ۔ اللّٰہُ اَکبر عَزَّوَجَلَّ ! امیرُالْمُؤمِنِینحضرتِ سَیِّدُنا عُمَر بن عبدُالعَزیز رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہکِس قَدر غریب ومسکین خَلیفہ تھے اِتنی بڑی سلطنت کے حاکِم ہونے کے باوُجُود آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے کوئی رقم جَمع نہ کی تھی ۔ آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ کے خازِن بھی کِس قَدَر دِیانَتدار تھے اور اُنہوں نے کیسے خُوبصورت انداز میں پیشگی تنخواہ دینے سے انکار کردیا ۔ اِس حِکایت سے ہم سب کو بھی عِبرت حاصِل کرنی چاہئیے اور پیشگی تنخواہ یا اُجرت لینے سے پہلے خوب اچھّی طرح غور کرلینا چاہئیے کہ ہم جتنی مُدّت کی پیشگی تنخواہ لے رہے ہیں آیا اُتنی مدّت تک زندہ بھی رہیں گے یا نہیں اور اگر زندہ رہ بھی گئے تو کام کاج کے قابِل بھی رہیں گے یا نہیں ! ظاہر ہے انسان حادِثہ یا بیماری کے سبب ناکارہ بھی تو ہو سکتا ہے ۔ (فیضانِ سنت ، ج ۱، ص ۱۳۰۵)

 



Total Pages: 139

Go To