$header_html

Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

باہَرتشریف لائے اور اِعلان کروادیاکہ جس کاکسی پر کوئی حق ہے یاجس کوکوئی مسئلہ دَرپیش ہے وہ آجائے میں اُسے اُس کاحق دلواؤں گااور اس کے مسائل حل کروں گا ۔ (سیرت ابن جوزی ص۶۷ملخصا)

اپنے غصے پر قابو پائیے

            ایک بار حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزیز کسی بات پر سَخت بَرہَم ہوئے ، آپ کے شہزادے حضرت سیِّدناعبدُالملک عَلَیْہِ رَحمَۃُاللّٰہِ الْخالِق بھی وہاں موجو د تھے ۔ جب امیرُ المُؤمنینکا غصّہ ٹھنڈا ہوا تو عَرض کی: آپ اس قَدَر غصّہ ہوتے ہیں ؟ فرمایا: تو کیا تمہیں غصّہ نہیں آتا؟ عَرض کی: اگر میں غصّہ کو نہ پی سکوں تومیری تَوند سے کیا فائدہ !‘‘(حلیۃ الاولیاء ج۵ ص ۳۹۳)

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے کہ ہمارے بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ المُبِین کا ظَرف کتنا وسیع ہوتا تھا کہ اپنے سے چھوٹے کی بھی اِصلاح قَبول کر لیا کرتے تھے ، اور ایک طرف ہم ہیں کہ اگر کوئی کم عمر یا کم مرتبہ ہمیں کوئی بات سمجھانے کی کوشِش کرے تو بُرامان جاتے ہیں بلکہ اسے ایسا جواب دیتے ہیں کہ وہ اپنا سا منہ لے کر رہ جاتا ہے مثلاً جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں اس شعبے میں آئے ہوئے ، مجھے  سمجھاتے ہو؟ یہ منہ اور مسور کی دال ، تم مجھے سمجھانے آئے ہو؟بلکہ آج کل اگر کسی کی اِصلاح کی کوئی بات کی جائے تو بعض اوقات جواب مِلتا ہے ’’ میاں ! تم اپنی کرو‘‘ ایسا جواب نہایت ہی مَذمُوم ہے ، چنانچہحضرتِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں :’’ اللہعَزَّوَجَلَّ کے نزدیک یہ ایک بڑا گناہ ہے کہ کوئی شخص دوسرے کو بطورِ نصیحت کہے کہ تو اللہعَزَّوَجَلَّ سے ڈر ، تو بُرائی کرنے والا اِس کا جواب دے ’’تو اپنے آپ کو سنبھال‘‘ ۔ (تَنبِیہُ الْمُغتَرِّیْن ص ۲۳۷)

نَاصِحا ! مت کر نصیحت دل مرا گھبرائے ہے

اُس کو دُشمن جانتا ہوں جو مجھے سمجھائے ہے

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حق داروں کو ان کا حق دلایا

            خلفائے بنو اُمیّہ کے دور میں رِعایا کے مال وجائیداد پر بڑے پیمانے پر ظالِمانہ قبضے ہوچکے تھے ، حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزنے بارِ خلافت سنبھالنے کے بعدحضرت سیِّدِینامیمون بن مِہران، مکحول اور ابوقِلابہ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہم جیسی بَرگُزِیدہ ہستیوں سے اِس بارے میں مشورہ کیا تو حضرت سیِّدُنا مکحول رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے اِشاروں کِنایوں میں اپنی رائے دی جسے حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزنے قَبول نہیں کیا اور حضرت میمون بن مہران علیہ رحمۃُ الحنّان کے چہرے کی طرف دیکھا تو وہ فرمانے لگے : اپنے صاحبزادے عبدالملک کو بھی طَلَب فرمالیجئے ، وہ عَقل وفہم میں ہم لوگوں سے کم نہیں ہیں ۔ حضرت سیِّدُنا عبدالملک علیہ رحمۃُ الحنّان بلانے پرآئے تو ان سے پوچھا کہ لوگ اَموالِ مَغصُوبہ(یعنی قبضہ کئے گئے مالوں ) کی واپسی کا مطالبہ کررہے ہیں ، تمہاری کیا رائے ہے ؟ عَرض کی :اُن کے مال فوراً واپس کردیجئے ورنہ آپ بھی غاصِبانہ قبضہ کرنے والوں کے مددگار وشریک کار ہوں گے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۱۲۶)

اَموال وجائیداد یں واپس کرنے کا اِعلانِ عام

              حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز نے اِعلانِ عام کروا دیا کہ جن لوگوں کے مال وجائیداد پر کسی نے قبضہ کررکھا ہے وہ اپنی شکایتیں پیش کریں ۔ اسی طرح جو بھی اَموال وجائیداد اور زمین وغیرہ شاہی خاندان کے پاس ناحق موجودتھی وہ سب کی سب آپ  رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے حق داروں کوواپس کرادی اور کسی کے ساتھ کوئی رعایت نہیں کی ۔ آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہنے اس معاملے میں بڑے عَدل واِنصاف کا مظاہرہ کیا اورشاہی خاندان کے پاس کوئی چیزبھی ایسی نہ چھوڑی جس پر کسی دوسرے کاحق ثابت ہورہا ہو ۔

اولاد کو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے حوالے کرتا ہوں

            یہ کام بہت خطرناک اور نازُک تھا، خود آپ کے پاس بڑی مَورُوثی جاگیر تھی جس کا بہت بڑا حصہ آپ نے اس کے حق داروں کو لوٹا دیااور اپنے پاس کوئی ایسی چیز باقی نہیں رکھی جس پر کسی اور کا حق بنتا ہو ۔ بعض افراد نے آکر آپ سے کہا کہ اگر آپ نے اپنی جاگیر واپس کردی تو اولاد کی کفالت کیسے کریں گے ؟ یہ بات سن کر آپ   کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے ، فرمایا: اُ ؤَکِّلُھُمْ اِلَی اللّٰہِ یعنی میں ان کو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے سپرد کرتا ہوں ۔ (سیرت ابن جوزی ص۱۳۰)

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! کیسی مَدَنی سوچ تھی حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزکی کہ اولاد کی کِفالت پر آخِرت کو ترجیح دی ، جبکہ ہم میں سے ہر دوسرے شخص کو یہ فِکر کھارہی ہوتی ہے کہ میرے دُنیا سے جانے کے بعد اولاد  کاکیا بنے گا ، کاش ! ہم یہ بھی سوچتے کہ ہمارے مرنے کے بعد ہمارا کیا بنے گا؟یا یہ سوچتے کہ اولاد کے مرنے کے بعد اُن کا کیا بنے گا؟اے کاش !ہمارا یہ مَدَنی ذہن بن جائے کہ جو رَزَّاق عَزَّوَجَلَّ  ہمیں رِزق دے رہا ہے وہی ہماری اولاد کو بھی رِزق دینے والا ہے تو ہم مال کمانے وجائیداد بنانے کے ناجائز ذرائع اختیار کرکے جہنم کا اِیندھن کیوں بنیں ؟پھر اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ ہمارا چھوڑا ہوا مال بچوں کے ہی کام آئے گا؟ اس سلسلے میں ذیل کی حدیثِ پاک پر غوروفکر کیجئے ، چُنانچِہ

بھروسے کا اِنعام

            حضرت ِ سیِّدُنا ابنِ مسعود  رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ سَروَرِ کونَین صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم نے فرمایا ، ’’ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  اپنے ان دو بندوں کو دوبارہ زندگی عطا فرمائے گا جنہیں اس نے دنیا میں کثیر مال اور اولا دسے نوازا تھا، پھرایک سے اِرشاد فرمائے گا: ’’ اے فُلا ں بن فُلا ں !‘‘ وہ عَر ض کرے گا: ’’لَبَّیْک یا رب ! ‘‘ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  فرمائے گا : ’’کیا میں نے تجھے ما ل اور کثیر اولا دعطا نہ فرمائی تھی؟‘‘ وہ عَر ض کرے گا :’’کیوں نہیں !‘ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  فرمائے گا : ’’تُو نے میرے عطا کردہ مال کاکیا کِیا؟ ‘‘وہ عَر ض کرے گا:’’ میں نے اُسے محتا جی کے خوف سے اپنے بچوں کے لئے رکھ چھوڑا ۔ ‘‘ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  فرمائے گا :’’اگر تُو حقیقت جا ن لیتا تو ہنستا کم اور رو تا زیا دہ، کیونکہ جس چیز کا تجھے اپنے بچوں پر خوف تھا میں نے انہیں اُسی میں مبتلا کردیا ۔ ‘‘ پھردوسرے بند ے سے فرمائے گا:’’ اے فلا ں بن فلا ں ! ‘‘وہ عر ض کرے گا:’’ لَبَّیْک  یا رب عَزَّوَجَلَّ  !‘‘اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  فرمائے گا:’’ کیا میں نے تجھے کثر ت سے مال اور اولاد عطا نہیں فرمائی تھی؟‘‘ وہ عر ض کرے گا:’’ یا رب عَزَّوَجَلَّ  ! کیوں نہیں ۔



Total Pages: 139

Go To
$footer_html