Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

سلیمان کے بارے میں تھا اب اپنے بارے میں کیجئے ۔ اس کے بعد وہ شخص اٹھ کر چلا گیا ۔ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزنے فرمایا: اُسے میرے پاس بلاؤ ۔ جب وہ واپس آیاتو آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے دریافت فرمایا:تم نے مجھے یہ نصیحتیں کس لئے کیں ؟ اس نے کہا : جان کی اَمان پاؤں تو کچھ عَرض کروں ! فرمایا: تمہیں کوئی خطرہ نہیں ۔ وہ شخص بولا:میں نے آپ کو مدینۂ منوَّرہزادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً  میں دیکھا ہے کہ آپ کی چادر نیچے ڈھلکی اور زلفیں دَراز ہوتی تھیں ، آپ سے عِطر کی خوشبو مہکا کرتی تھی ، میں اُس وقت آپ کے اندازواَطوار دیکھ کر بہت حیران ہوتا اور سوچاکرتاتھا کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  آپ کو زمین پر رہنے کی مُہلت کیسے دے رہاہے ؟ اب جبکہ آپ اِس مَنصَب تک پہنچے تو میں نے اپنا فَرض سمجھا کہ(سلیمان کی وفات کی) تعزیت بھی کروں اور سمجھانے کی کوشِش بھی کروں ۔ یہ سن کر حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزنے فرمایا:بھائی! اگر تم ہمارے پاس رہنا پسند کرو تو بڑی اچھی بات ہے اور اگر جانا چاہوتو اِجازت ہے ۔ (سیرتِ ابن عبدالحکم ص۲۲)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

معافی مانگی

            خلافت سے پہلے حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز ایک مرتبہ مدینۂ منوَّرہزادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً  میں کہیں سے گزر رہے تھے ، آپ کی چادر زمین پر گِھسَٹ رہی تھی ، حضرت ِ محمد بن کَعبرحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے دیکھا تو پُکار کر کہا: اے عمر! رسولُاللّٰہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کا فرمان عبرت نشان ہے :’’ مَاجَاوَزَ الْکَعْبَیْنِ فَھُوَ فِی النَّارِ  یعنی جو چادر ٹخنوں سے نیچے ہو وہ دوزخ میں جلے گی ۔ ‘‘ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزنے غَضَبنَاک نگاہوں سے دیکھتے ہوئے جواب دیا: تم اپنی راہ لو ۔ پھر جب آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہخلیفہ بنے تو حضرت محمد بن کعب رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کے بارے میں دریافت کیا تو بتایا گیا کہ وہ جہاد کے  لئے تشریف لے گئے ہیں ، آپ نے دُرُوب کے گورنر کو لکھا کہ اگر محمد بن کعب رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ محاذ سے واپس آگئے ہوں تو انہیں زادِ سفر دے کر فوراًمیرے پاس بھیج دیا جائے ، ہاں ! اگر وہ آنا پسند نہ فرمائیں تو زبردستی نہ کی جائے ۔ جب حضرتِ سیِّدُنا محمد بن کعب رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہمحاذ سے واپس آئے تو گورنر نے ان سے امیرالمؤمنین کے پاس جانے کی درخواست کی اور خط بھی دکھایا ۔ محمد بن کعب رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے فرمایا: زادِ راہ تو مجھے نہیں چاہئے ، باقی رہا جانے کا مسئلہ! تو اُن کا خط نہ بھی آتا تو مجھے جانا ہی تھا ۔ جب محمد بن کعب رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز کے یہاں پہنچے تو دیکھا کہ ان کی حالت بہت تبدیل ہوچکی ہے ۔ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے پہلی بات یہ کہی: ابن کعب ! جب مدینۂ منوَّرہزادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً  میں تم نے مجھے نصیحت کی تھی تو میں نے اُلٹ جواب دیا تھا ، مجھے معاف کردیجئے ۔ یہ کہنے کے بعد رونے لگے یہاں تک کہ داڑھی آنسوؤں سے تَر ہوگئی ۔ آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہکی یہ کیفیت دیکھ کر حضرت سیِّدُنا محمد بن کعب رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ بہت متأثر ہوئے اور دعا دی :غَفَرَاللّٰہُ لَکَ یَااَمِیْرَالْمُؤْمِنِیْنَ وَاَقَالَکَ عَثْرَتَکَ یعنی  امیرُ المُؤمنین!اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  آپ کی بخشش فرمائے اور آپ کی لَغزِشیں معاف فرمائے ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۱۲۰)

             میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آپ نے دیکھا کہ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے دُنیا ہی میں معافی مانگنے میں کس قدر کوشِش فرمائی ،  اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  ہمیں بھی حقوقُ العباد کا خیال رکھنے اور جن جن کے حق ہم سے تَلف ہوگئے ہوں اُن سے معافی مانگنے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمارے پیارے اور میٹھے میٹھے آقا صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنے اُسوَئہ حَسَنہ کے ذَرِیعے ہم غلاموں کوحُقُوقُ العِباد کا خیال رکھنے کی جس حسین انداز میں تعلیم دی ہے اس کی ایک رِقّت انگیز جھلک مُلاحَظہ فرمایئے ۔ چُنانچِہ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ64 صفحات پر مشتمل رسالے ’’ظُلم کا اَنجام ‘‘کے صفحہ 22پر ہے :

آقا صلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہَ وَاٰلہٖ وسلَّم  کی بے اِنتِہا عاجِزی

             ہمارے جان سے بھی پیارے آقا مکّی مَدَنی مصطَفٰے صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے وفات ظاہِری کے وقت اِجتماعِ عام میں اِعلان فرمایا:’’ اگر میرے ذمّے کسی کا قرض آتا ہو ، اگر میں نے کسی کی جان ومال اور آبرو کو صَدمہ پہنچایا ہو تو میری جان ومال اور آبرو حاضِر ہے ، ’’ اِس دنیا میں بدلہ لے لے ۔ ‘‘ تم میں سے کوئی یہ اندیشہ نہ کرے کہ اگر کسی نے مجھ سے بدلہ لیا تو میں ناراض ہوجاؤں گایہ میری شان نہیں ۔ مجھے یہ اَمر بَہُت پسند ہے کہ اگر کسی کا حق میرے ذِمّے ہے تو وہ مجھ سے وُصُول کر لے یا مجھے مُعاف کردے ۔ پھرفرمایا:اے لوگو! جس شخص پر کوئی حق ہو اسے چاہئے کہ وہ ادا کرے اور یہ خیال نہ کرے کہ رُسوائی ہوگی اس لیے کہ دنیا کی رُسوائی آخِرت کی رُسوائی سے بَہُت آسان ہے ۔    (تاریخ دِمشق لابن عساکِر ج ۴۸ ص ۳۲۳ مُلَخَّصاً)

مُعافی مانگ لیجئے

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! سب گھبرا کر  اللہ عَزَّوَجَلَّ  کی بارگاہ میں رُجُوع کرلیجئے ، سچی توبہ کرلیجئے اور ٹھہرئے ! بندوں کی حق تَلَفی کے مُعامَلے میں بارگاہ ِ الہٰی عزوجل میں صرف توبہ کرنا کافی نہیں ، بندوں کے جو جو حُقُوق پامال کئے ہوں وہ بھی اداکرنے ہوں گے ، مَثَلاً مالی حق ہے تو اُس کا مال لَوٹانا ہوگا، دل دُکھایا ہے تو معاف کروانا ہو گا ۔ آج تک جس جس کا مذاق اُڑایا، بُرے اَلقاب سے پکارا، طعنہ زنی اور طنز بازی کی، دل آزار نَقلیں اُتاریں ، دل دُکھانے والے انداز میں آنکھیں دِکھائیں ، گُھورا، ڈرایا، گالی دی، غیبت کی اور اس کو پتا چل گیا ۔ جھاڑا، مارا، ذلیل کیا، اَلغَرَض کسی طرح بھی بے اجازتِ شَرعی اِیذاء کا باعِث بنے ان سب سے فرداً فرداً معاف کروالیجئے ، اگرکسی فرد کے بارے میں یہ سوچ کر باز رہے کہ مُعافی مانگنے سے اس کے سامنے میری ’’پوزیشن ڈاؤن‘‘ ہوجائے گی تو خُدارا غور فرما لیجئے !قِیامت کے روز اگر یہی فرد آپ کی نیکیاں حاصِل کرکے اپنے گناہ آپ کے سر ڈالدیگا اُس وقت کیا ہو گا! خدا کی قسم! صحیح معنوں میں آپ کی ’’پوزیشن‘‘ کی دھجیاں تو اُس وقت اڑیں گی اور آہ! کوئی دوست برادر یا عزیز ہمدردی کرنے والا بھی نہ ملے گا ۔ جلدی کیجئے ! جلدی کیجئے ! اپنے والِدین کے قدموں میں گر کر، اپنے عزیزوں کے آگے ہاتھ جوڑ کر، اپنے ماتَحتوں کے پاؤں پکڑ کر اپنے اسلامی بھائیوں اور دوستوں سے گِڑگِڑا کر، ان کے آگے خود کو ذلیل کرکے آج دنیا میں مُعافی مانگ کرآخِرت کی عزّت حاصِل کرنے کی سعی فرما لیجئے ۔ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرماتے ہیں :  مَنْ تَوَاضَعَ لِلّٰہِ رَفَعَہُ اللّٰہ یعنی جواللّٰہعَزَّوَجَلَّ  کیلئے عاجِزی کرتا ہے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ اس کو بلندی عطا فرماتاہے ۔ (شُعَبُ الایمان ج۶ ص۲۹۷ حدیث ۸۲۲۹)

                                                        ( ظُلم کا انجام، ص ۵۰ تا۵۲)

 



Total Pages: 139

Go To