Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

ہمارے پاس کسی کی غیبت نہ کرے (۵) ہماری اور تمام لوگوں کی اَمانت کا حق ادا کرے ۔ جو شخص اِن اُمُور کا اِلتِزام نہیں کرسکتا اُسے ہماری صُحبت و ہم نَشینی کی اِجازت نہیں ۔ (سیرت ابن جوزی۷۹)

حارِسین  ( یعنی سیکورٹی گارڈ ز) سے بے نیازی

             بَنوُ اُمَیَّہ کے سابق خلفاء کے پاس 300دربان اور 300سپاہی ذاتی حفاظت کے لئے رہا کرتے تھے ، جب حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز خلیفہ بنے تو آپ نے سپاہیوں اور دربانوں سے فرمایا:مجھے تمہاری حفاظت کی ضَرورت نہیں ہے کیونکہ میرے پاس قَضَاوقَدر کے نگہبان موجود ہیں ، اس کے باوجود اگر تم میں کوئی میرے پاس رہنا چاہے تو اسے 10دِینار تنخواہ ملے گی اور اگر کوئی نہ رہنا چاہے یا یہ تنخواہ منظور نہ ہو تو وہ اپنے گھر چلا جائے ۔ (تاریخ الخلفاء ص۱۹۰)

حارِس بنانے کے لئے نَمازی کوچُنا

             حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے حارِسین کے نگران  (سیکورٹی انچارج) خالد بن ریّان کو مَعزُول کردیا کیونکہ وہ سابق خلفاء کے کہنے پر خلافِ شریعت سزائیں دیا کرتا تھا ، پھر آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے عَمرو بن مہاجر اَنصاری کو اپنے پاس بلوایا اور فرمایا:تم جانتے ہو کہ میرے اور تمہارے درمیان سوائے اسلام کے کوئی رشتہ نہیں ہے ، میں نے تمہیں کثرت سے تلاوتِ قراٰن کرتے اور لوگوں سے چھپ کر نوافِل پڑھتے دیکھا ہے ، تم نَماز بہت اچھی پڑھتے ہو ، یہ تلوار سنبھالو میں تمہیں اپنا حارِس ( یعنی سیکورٹی گارڈ ) مقرر کرتا ہوں ۔ (حلیۃ الاولیاء ج ۵ ص ۳۱۳ وسیرت ابن جوزی۵۰)

شُعراء کی دال نہ گلی

             حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزیز سے پہلے کے خلفاء کی بَزم میں سب سے زیادہ ہُجوم شُعرا کا ہوتا تھا، اسی بناء پر جب آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ خلیفہ ہوئے توحسبِ معمول حَرَمَین طَیِّبَین اور عراق کے شُعرا نے ان کے دربار کا رُخ کیا اور بڑے بڑے شعراء مثلاً نُصَیب ، جَرِیر، فَرَزدَق، اَحوَص اور اَخطَل وغیرہ آئے اور مہینوں قیام کیا لیکن یہاں تومجلس ہی کا رنگ بدلا ہوا تھا، شُعرا کی کوئی قدر دانی نہیں  کی جاتی تھی مگر قرّاء وفقہاء اَطراف سے بلائے جاتے تھے اوراُن کو خواص میں داخل کیا جاتا تھا، مجبوراً بعض شعرا نے ایک فقیہ سے اِعانَت(یعنی مدد) طلب کی اور اپنی ناقدری کا اِظہار اِن اَشعار میں کیا:

یَا اَیُّھَا الْقَارِیْ اَلْمُرْخِیْ عَمَامَتَہُ                                                                                                              ھٰذَازَمَانُکَ اِنِّیْ قَدْ مَضٰی زَمَنِیْ

اے وہ قاری جس کا عمامہ لٹک رہا ہے                              یہ تیرا زمانہ ہے ، میرا زمانہ گزر گیا

اَبْلِغْ خَلِیْفَتَنَااِنْ کُنْتَ لَاقِیَہ                                                                                                                     اَنِّیْ لَدَی الْبَابِ کَالْمَصْفُوْدِفِیْقَرَنِ

اگر ہمارے خلیفہ سے ملو تو اس کو یہ پیغام پہنچادو                       کہ میں دروازے پربیڑیوں میں جکڑا ہوا ہوں

(ابن جوزی ص۱۹۶)

یہ شخص شعراء کونہیں گداگروں کودیتاہے

            ایک روزاُس وقت کے مشہورشاعِرجَرِیرکوکسی طرح بارگاہِ خلافت میں اِذنِ باریابی مل گیا ۔ اُس نے ایک نظم پڑھی جس میں اہلِ مدینہ کے مصائب وآلام اور مشکلات کاذکرتھا ۔ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزیزنے ان کے لیے غلہ اورنَقد روپیہ بھیجنے کا  حُکم دیا اورجَرِیرسے پوچھا:تم کس جماعت کے ہو، مہاجرین سے یااَنصارسے یااُن کے اَعِزَّا   واَ قرِبا سے یامُجاہِدین سے ؟اس نے کہا:میں اُن میں سے کسی سے نہیں ہوں ۔ فرمایا:پھرمسلمانوں کے مال میں سے تمہارا کیاحق ہے ؟ اس نے کہا:’’اگرآپ میرے حق کونہ روکیں تواللّٰہعَزَّوَجَلَّ نے اپنی کتاب میں میراحق مقررفرمایاہے ۔ میں ’’ابنِ سبیل‘‘(مسافر) ہوں ۔ دُوردرازسے سفرکر کے آپ کے دروازے پرآکرٹھہراہوں ۔ آپ نے فرمایا:اچھا! تم میرے پاس آہی گئے ہو تو میں اپنی جیب سے تمہیں بیس درہم دیتاہوں ، اِس حقیررقم پرتم میری تعریف کرو یامَذَمَّت؟ میری مَدح کرویاہَجو(یعنی برائی) ؟جَرِیرنے اِس رقم کوبھی غنیمت سمجھ کرلے لیا اور باہر آگیا ۔ دوسرے شعرا نے اسے بارگاہِ خلافت سے باہرنکلتے دیکھا تو بے تابی سے پوچھا:’’کیسامعاملہ رہا؟‘‘جَرِیرنے جواب دیا: ’’اپناراستہ ناپو، یہ شخص شعراء کونہیں  گداگروں کودیتاہے ۔ ‘‘(سیرتِ ابن جوزی ص۱۹۷)

            بہرحال حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزیزنے خلفاء کی مجالِس کا رنگ بالکل بدل دیا اور اپنی صُحبت کے لیے صِرف علماء و فقہاء کومنتخب کیا جس میں حضرتِ سیِّدُنا میمون بن مِہران، حضرتِ سیِّدُنارَجا بن حَیوَۃ اورحضرتِ سیِّدُنا ریاح بن عُبَیدہ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہمکا شمار خواص میں تھا، انکے علاوہ بھی کئی علماء آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کے مُصَاحِبِین میں سے تھے ۔ (طبقات ابن سعد، ج۵ ، ص۳۰۸)

اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔ اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

خلیفہ بننے کے بعد تین فقہا ء کرام سے مَدَنی مشورہ

             خُود بِینی صاحبِ مَنصَب ووَجَاہت کو قبولِ نصیحت سے عُمُوماً باز رکھتی ہے لیکن  پَروَردگارِ عالَم عَزَّوَجَلَّ   نے حضرتِ سیِّدُناعمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کو ایک اثر پذیردل عطافرمایا تھا ، وہ یہ سمجھتے تھے کہ حقِ خلافت ادا کرنے کے لئے عُلماء ومشائخ کی صحبت ونصیحت بہت کارآمد ثابت ہوگی ، چُنانچہ خلافت کا بارِگراں اپنے کندھوں پر آنے کے بعد حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز نے تین فقہائے کرام حضرت سیِّدُنا سالِم بن عبداللّٰہ، حضرت سیِّدُنا محمد بن کَعب اور حضرت سیِّدُنا رَجا بن حَیوَۃ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہمکی خدمت میں عَرض کی :’’مجھ پر یہ آزمائش آن پڑی ہے مجھے اپنے مشوروں سے نوازئیے ۔ ‘‘ حضرت سیِّدُنا سالم بن عبداللّٰہرحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہنے آپ کو نصیحت کی:اِنْ اَرَدْتَّ النَّجَاۃَ مِنْ عَذَابِ اللّٰہِ فَصُمْ عَنِ الدُّنْیَا وَلْیَکُنْ اِفْطَارُکَ مِنْھَاعَلَی الْمَوْتِ یعنی  اگر آپ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے عذاب سے بچنا چاہتے ہیں تو دنیا سے روزہ رکھ لیجئے جسے موت ہی اِفطار کروائے گی ۔ ‘‘حضرت سیِّدُنا محمد بن کعب رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے فرمایا:اِنْ اَرَدْتَّ الْنَجَاۃَ مِنْ عَذَابِ اللّٰہِ فَلْیَکُنْ کَبِیْرَ الْمُسْلِمِیْنَ عِنْدَکَ اَباً وَاَوْسَطُھُمْ عِنْدَکَ اَخاَ وَاَصْغَرُھُمْ عِنْدَکَ وَلَداً فَوَقِّرْ اَباَکَ وَاَکْرِمْ اَخَاکَ وَتَحْنِنْ عَلٰی وَلَدِکَ یعنی اگر آپ عذابِ الہٰی سے نجات چاہتے ہیں تو بڑی عمر کے مسلمانوں کو اپنے باپ کی جگہ ، درمیانی عمر والوں کو بھائی کی جگہ اور چھوٹوں کو اولاد کی جگہ تصوُّر کیجئے پھر



Total Pages: 139

Go To