Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

فرمایا: تم فاروق ہو، جس کے ذریعہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے دین کو عزت بخشی مگر یہاں معاملہ کسی اور کے سِپُرد ہے ۔ یہ بھی کچھ دیر کھڑے رہے ، پھر آواز آئی: ان کو چھوڑ دیا گیا ۔ چنانچہ آپ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ حضرت ابوبکر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہکے پاس بیٹھ گئے ۔ اسی طرح ایک ایک خلیفہ کو لایا جاتا رہا، یہاں تک کہ آپ کا نمبر آیا، حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز یہ سنتے ہی کانپتے ہوئے کھڑے ہوگئے اور فرمایا :’’ہاں !ابوالمِقدم !ذرا جلدی بتائیے کہ میرے ساتھ کیا گزری ؟‘‘انہوں نے کہا : آپ کے دونوں ہاتھ گردن سے بندھے ہوئے تھے بڑی دیر تک آپ کو حُضُورِ اکرم صلّی اﷲ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلّم کے سامنے کھڑا رکھا گیا بالآخر رہائی کا  حُکم ہوا اور آپ کو شَیخَین کَرِیمَین (یعنی حضرت ابوبکرو عمر) رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما کے قریب بٹھادیا گیا ۔ حضرت عمر بن عبدالعزیزعَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کو اِس خواب سے بڑی حیرت ہوئی اورحضرتِ سیِّدنا رَجا بن حَیوَۃ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہسے فرمایا: اگر مجھے آپ کے وَرَع و تقویٰ ، صِدق و وَفا اور دوستی و رَفاقت پر اِعتماد نہ ہوتا تو میں یہی کہتا کہ آپ کا خواب صحیح نہیں کیونکہ میں نے فیصلہ کررکھا ہے کہ میں کبھی اِس امرِ خلافت کو ہاتھ نہیں لگاؤں گا، مگر آپ کا خواب اور آپ کی گفتگو سن کرمجھے خیال ہوتا ہے کہ خواہی نخواہی مجھے اِس اُمت کی خلافت میں مُبتَلا ہونا ہی پڑے گا ۔ بخدا! اگر میں اس میں مُبتَلا ہوا تو یہ دنیا کا شَرف تو ہے ہی مگر میں اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے ذریعہ آخرت کا  شَرف حاصل کرلوں گا ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۱۱۸ ملخصًا)  اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔ اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

خلیفہ کیسے بنے ؟

             دَابق کے مقام پر (جو فوج کی اجتماع گاہ تھی ) خلیفہ سلیمان بن عبدُالملک شدیدبیمار ہوگیا ۔ جب زندگی کی کوئی اُمّید باقی نہ رہی تواس نے اپنے کم سِن بیٹے ایوب کے نام خلافت کی وَصِیَّت لکھ دی مگرحضرتِ سیِّدُنارَجاء بن حَیوَۃ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہنے مشورہ دیا :یاامیرَالمُؤمنین !یہ آپ نے کیا کیا ؟ خلیفہ کو اُس کی قَبر میں جو چیز محفوظ رکھے گی وہ یہ ہے کہ وہ کسی نیک آدمی کو خلیفہ بنائے ۔ یہ سُن کر سلیمان نے کہا: میں اِس بارے میں اِستخارہ کرتا ہوں کیونکہ ابھی میرا اَیّوب کو جانشین بنانے کا اِرادہ پُختہ نہیں ہے ۔ ایک یا دودن بعدسلیمان نے وہ تحریر پھاڑ دی اورحضرتِ سیِّدُنارَجاء بن  حَیوَۃ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ سے کہا :میرے بیٹے داوٗد بن سلیمان کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟انہوں نے جواب دیا: وہ یہاں سے بہت دُور قُسطُنطُنیَہ میں ہے اوریہ بھی پتا نہیں کہ زندہ بھی ہے یا نہیں !کافی دیر سوچنے کے بعد سلیمان بن عبدالملک نے  پوچھا : عمر بن عبدالعزیز (رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ) کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ حضرتِ سیِّدُنارجاء بن حَیوَۃ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہنے کہا: اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی قسم! میں  انہیں عُمدہ او ر بہترین مسلمان سمجھتا ہوں ۔ سلیمان نے ان کی تائید کی اور کہا :واللّٰہ! وہ یقینابہترین ہیں لیکن اگر عبدالملک کی اولاد کو چھوڑ کر میں انہیں خلیفہ بنادوں تو فتنہ اُٹھ کھڑا ہوگا اور وہ لوگ انہیں چین سے حکومت نہیں کرنے دیں گے ، ہاں !ایک صورت ہے کہ اگر میں عمربن عبدالعزیز(رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ) کے بعد عبدالملک کی اولاد میں سے بھی کسی کو خلیفہ نامزَد کردوں تویہ انہیں قبول ہوں گے ۔ چنانچہ سلیمان بن عبدالملک نے حضرت سیِّدنا عمر بن عبدُالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز اور یزید بن عبدُالملک کو بالترتیب اپنا جانشین مقرر کرنے کے لئے اپنے ہاتھوں سے یہ خلافت نامہ لکھا :اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے نا م سے شروع جو بہت مہربان اور نہایت رحم کرنے والاہے !یہ خط اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کے بندے ، امیرُ المُؤمنین سلیمان کی طرف سے عمر بن عبدالعزیز (رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ) کے لئے ہے ۔ بے شک میں نے اپنے بعد اِن کو خلافت کا مُتَوَلِّی بنایا اور اس کے بعد یزید بن عبدالملک کو، پس تم لوگ اِن کی بات سنو اور اِطاعت کرو اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  سے ڈرو اور آپس میں اِختلاف مت کرو ۔ ‘‘یہ وَصِیَّت نامہ لکھا اورمہر بند کرکے ’’کَعب بن جابر ‘‘نامی پولیس افسرکے حوالہ کیا کہ وہ اس وَصِیَّت نامے پر بنو اُمیہ سے بَیعَت لے چنانچہ سلیمان بن عبدالملک کی زندگی ہی میں اِس پر بَیعَت لے لی گئی ۔ چونکہ سلیمان کو بَنُواُمَیَّہ کی طرف سے خطرہ لاحِق تھاا س لئے مرنے پہلے حضرتِ سیِّدُنا رَجاء  رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہکو دوبارہبَیْعَت کی تاکید کی ۔ (سیرت ابن جوزی۶۰، ۶۱)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

دونوں میں کتنا فرق ہے ؟

            حضرتِ سیِّدُنارَجا بن حَیوَۃرحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہفرماتے ہیں :جب پہلی مرتبہ سلیمان کی زندگی میں ہی نئے خلیفہ کے لئے بَیعَت لے لی گئی اورلو گ چلے گئے تو عمربن عبدالعزیز(رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ) میرے پاس آکر کہنے لگے : بے شک سلیمان میری بڑ ی عزت کرتاہے ، مجھ سے بڑی محبت رکھتا ہے اور لُطف وکَرَم سے پیش آتا ہے ، اِس لئے مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں اِس وَصِیَّت نامے میں میرا نام نہ لکھ دیا ہو، اگر ایسی بات ہے تو مجھے بتا دیجئے تا کہ میں ابھی اُس سے معذرت کرلوں ۔ مگر میں نے جواب دیا:’’  اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی قسم!میں آپ کو ایک حَرف بھی نہیں بتا نے والا ۔ ‘‘تو وہ ناراض ہوکر چلے گئے ۔ جبکہ ہشام بن عبدالملک نے مجھ سے مل کر کہا: بے شک سلیما ن کی نظر میں میرے لئے بڑااِحترام او رمحبت ہے ، مجھے بتائیے کہ کیا یہ وَصِیَّت میرے لئے ہے کہ اگر ایسا ہے تو فبھا(یعنی ٹھیک ) ، ورنہ میں اس سے ابھی بات کرتا ہوں کیونکہ میرے ہوتے ہوئے کسی اور کو خلیفہ کیسے بنایا جاسکتا ہے !میں آپ کانام کسی سے ذِکرنہیں کروں گا ، مجھے ضروربتائیے ۔ تو میں نے اِنکارکیا اور کہا: اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی قسم!میں تمہیں ایک لفظ بھی نہیں بتاؤں گا ۔ ہشام نااُمّید ہوکروہاں سے چل دیااور  ہاتھ ملتے ہوئے کہہ رہا تھا:’’کیا خلافت مجھ سے پھیر دی جائیگی اور کیا خلافت عبدالملک کی اولاد سے نکل جائے گی !‘‘(سیرت ابن جوزی۶۱)

میرا نام نہ لیجئے گا

             حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزیزنے حضرتِ سیِّدُنارَجا بن حَیْوَۃ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہکووَصِیَّتِ خِلافت لکھے جانے سے قبل بھی قَسَم دے کر کہا تھا کہ اگر سلیمان بن عبدالملک ’’ولی عہدی‘‘ کے لئے میرا نام لے تو آپ مَنع کردیجئے گا اور اگر میرا نام نہ لے تو آپ بھی نہ لیجئے گا ۔ (سیرت ابن عبدالحکم، ص۲۸)

خلافت کا اعلان

             جب سلیمان بن عبدُالملک کا انتقال ہوگیا توحضرتِ سیِّدُنا رجاء رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہکو اندیشہ ہوا کہ  بَنُو اُمَیَّہ  آسانی سے حضرت سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کی خلافت قبول نہ کریں



Total Pages: 139

Go To