Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

میں جھوٹ نہ بُولوں کبھی گالی نہ نِکالوں

                                                     اللہمَرَض سے تُو گناہوں کے شِفا دے (وسائل بخشش ص۱۰۳)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حضرت خضر علیہ السلامسے شرفِ ملاقات

             حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزایک رات تن تنہا سوار ہو کر کہیں جانے کے لئے نکلے ، آپ کے خادم  مُزاحِم بھی آپ کے پیچھے ہولئے ۔ آپ رحمۃاللّٰہ تعالٰی علیہ ان سے آگے ذرا فاصلے پر تھے ،  مُزاحِم نے دیکھا کہ آپ کے ساتھ ایک اور شخص بھی ہے جس نے اپنا ہاتھ آپ کے کندھے پر رکھا ہوا ہے ، حالانکہ گھر سے آپ تنہا نکلے تھے ۔  مُزاحِم کہتے ہیں : میں نے سوچا یہ کوئی رہبر ہوگا جسے راستہ بتانے کے لیے ساتھ لے لیا ہوگا ۔ میں نے اپنی رفتار تیز کردی تاکہ آپ سے جا ملوں ۔ میں آپ تک پہنچا تو دیکھا کہ آپ تنہا چل رہے ہیں اور کوئی آپ کے ساتھ نہیں ۔ میں نے عَرض کی: میں نے ابھی آپ کے ساتھ ایک شخص کو دیکھا تھا ، وہ اپنا ہاتھ آپ کے کندھے پر رکھے آپ کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا، میں سمجھا کہ وہ کوئی رہبر ہوگا، لیکن میں آپ تک پہنچا تو دیکھا کہ آپ تنہا ہیں ۔ فرمایا:  مُزاحِم! کیاواقعی تم نے انہیں دیکھا ہے ؟عَرض کی: جی ہاں ، فرمایا: میرا گمان ہے تم نیک آدمی ہو، دراصل وہ حضرتِ سیِّدنا خضر علیہ  السلام تھے ، وہ مجھے بتارہے تھے کہ مجھے اس امر( یعنی خلافت) سے پالا پڑے گا اور ( حق تعالیٰ کی جانب سے ) اس پر میری مدد کی جائے گی ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۲۷)

حضرت خِضرعلیہ السلام کون ہیں ؟

             دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ561 صفحات پر مشتمل کتاب ’’ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت ‘‘کے صفحہ 483 پر ہے :حضرتِ سیِّدُنا خضر علیہ السلام نبی ہیں ، زندہ ہیں ۔ (عمدۃ القاری، کتاب العلم، باب ما ذکرفی ذہاب موسیالخ، ج۲، ص۸۴، ۸۵) فتاویٰ رضویہ شریف میں ہے : مالِکِ بَحروبَراورہرخشک وتَر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی ذات ہے اوراُس کی عطا سے حُضُورسیِّدعالم صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم، حُضُور (صلی اﷲتعالٰی علیہ والہٖ وسلم) کی نَیابت (یعنی نائب ہونے کی حیثیت ) سے خِضَرعلیہ السلام   کے تصرُّفات خشکی ودریادونوں میں ہیں ۔         (فتاوی رضویہ ج۲۶ ص۴۳۶)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

ایمان افروز  خواب

            حضرت سیِّدنا رَجا بن حَیوَۃرحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ’’ اُردن‘‘ کے رہنے والے تھے ، اپنے دور کے بہت بڑے عابِد، خوش اخلاق، دانا ، حلیم اور باوقار تھے ، خلفا انکی قَدَر کرتے تھے اور انہیں اپنا وزیر و مُشِیر اور اپنے حکام اور اولاد کا نگران مقررکیا کرتے تھے ۔ خلیفہ سلیمان بن عبدالملک کے ساتھ انکے مَراسِم بہت گہرے تھے ، اُسے اِن پر بڑا اِعتماد تھا اور اپنے راز اُن سے کہہ دیتا تھا ۔ جبکہ خاندانِ بنی مَروان میں سے حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کو سلیمان کے ہاں بڑا مرتبہ حاصل تھا اور اسے آپ سے خصوصی تعلُّق تھا ۔ جب سلیمان نے حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کو مدینۂ منوَّرہ زادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً وَّ تَکْرِیماً  کا گورنر بنایا تو حضرت سیِّدنا رَجا بن حَیوَۃرحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہکو ان کے پاس بھیجا تاکہ وہ انکے طور وطریق اور سیرت و رَوِش کی ٹھیک ٹھیک خبر لائیں ۔ غالباً سلیمان کے دل میں حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کو اپنے بعد خلیفہ بنانے کا اِرادہ موجود تھا ، وہ یہ معلوم کرنا چاہتا تھا کہ آپ کہاں تک اس کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ حضرت سیِّدنا رَجا بن حَیْوَۃ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہحضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کے پاس گئے توآپ  رحمۃاللّٰہ تعالٰی علیہنے انکی بہت زیادہ تعظیم و تکریم کی ۔ چند دن آپ کے یہاں انکاقیام رہا ۔ معمول یہ تھا کہ ہر صبح نَماز فجر کے بعد وہ حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کے پاس چلے جاتے ، دونوں کی نجی مجلس ہوتی، جب تک حضرت سیِّدنا رَجا بن حَیوَۃرحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ موجود رہتے کسی کو اندر جانے کی اجازت نہ ہوتی ۔ ایک دن جب یہ حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزکے پاس گئے تو مخاطب تو آپ رحمۃاللّٰہ تعالٰی علیہ سے تھے مگر ان کاذہن غیر حاضر تھا ۔ دراصل انہوں نے رات ایک خواب دیکھا تھا، اُسی کی سوچ میں لگے ہوئے تھے ۔ جب حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز نے ان سے دریافت کیا:کیا بات ہے ؟آپ کا ذہن کسی دوسری چیز کی طرف متوجہ ہے ؟ انہوں نے فرمایا : دراصل میں نے آج رات ایک خواب دیکھا ہے ، بس اُسی کے بارے میں سوچ سوچ کر تعجُّب کررہا ہوں ۔ کہا:’’  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ آپ پر رحم فرمائے بیان تو کیجئے کہ آپ نے کیا خواب دیکھا ؟ ‘‘ انہوں نے کہا : میں نے آج رات دیکھا کہ گویا آسمان کے دروازے کھل گئے ہیں ، میں ابھی اُن کھلے ہوئے دروازوں کو دیکھ ہی رہا تھا کہ اچانک دو فِرِشتے اُترے ، انکے ساتھ ایک تخت تھا، میں نے ایسا خوب صورت تخت کبھی نہیں دیکھا ، یہ تخت انہوں نے مدینۂ منوَّرہ زادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً وَّ تَکْرِیماً میں لا کر رکھا اور جس  راستے سے آئے تھے اسی سے واپس چلے گئے ۔ کچھ دیر بعد وہ دونوں دوبارہ آئے ، اِس بار اُن کے پاس ایسے سفید کپڑے تھے کہ میں نے ایسے بہترین کپڑے کبھی نہیں دیکھے ، اُنکی مہک میرے مَشامِ جاں کو معطَّر کررہی تھی ، میں ان دونوں کے قریب گیا اورپوچھا کہ یہ کپڑے کیسے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ یہ سُندُس واِستَبرَق ہیں ۔ پھر وہ اوپر چلے گئے اور تھوڑی دیر بعد وہ واپس آئے توا ن کے ساتھ ایک پیکرِ نُوربزرگ بھی تھے ، حلیہ یہ تھا: آنکھیں بڑی بڑی خوبصورت سرخ و سفید اور سُرمگیں ، زُلفیں نہایت سیاہ کانوں کی لَو تک، دونوں کندھوں کے درمیان کا فاصلہ اچھا خاصا ، جِسم سڈول اور شخصیت سراپا ہیبت ووقار کا مجسمہ دونوں فرشتوں نے نُورانی بُزرگ کو اُس تخت پر جو سُندُس واِستَبرَق کے فرش پر بچھا ہوا تھا لا کر بٹھادیا، میں نے قریب جا کر دریافت کیا:’’یہ کون بزرگ ہیں ؟‘‘ فرشتوں نے بتایا :’’ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم ‘‘ یہ سن کر میں تو کانپ کانپ گیااور ادب کے مارے اُلٹے پاؤں ہٹتے ہٹتے کچھ دُور جا کھڑا ہوامگر وہاں سے یہ سارامنظرنظرآرہا تھااور گفتگو بھی سنائی دے رہی تھی ۔ اِسی دوران ایک اور بُزرگ وہاں تشریف لے آئے سرکارِ مدینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم ان کی طرف متوجِّہ ہوئے ، اسلام میں اُن کے کارناموں کی تعریف فرمائی اور فرمایا:تم ابوبکر صدیق ہو، میرے رفیقِ غار ہو، مگر یہاں معاملہ کسی اور کے سِپُرد ہے ۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ تعالٰی عنہبدستور کھڑے رہے ، کچھ دیر بعد آواز آئی: ان کو چھوڑ دیا گیا ۔ چنانچہ آپ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ تخت کے ایک طرف زمین پر بیٹھ گئے ۔

 

            پھر ایک اور شخص تاجدارِ مدینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم کے سامنے حاضر ہوئے ، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم نے اُن کی طرف توجُّہ فرمائی، ان کے اسلامی کارناموں کی تعریف فرمائی اور



Total Pages: 139

Go To