Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

            ایک مرتبہ سلیمان بن عبدالملک کے چندلشکر ی رات بھر گانے بجانے میں مصروف رہے ، صبح سلیمان نے انہیں بلوا کر ڈانٹا اوربطورِسز ا انہیں خَصّی کرنے (یعنی نامرد بنانے ) کا  حُکم دے دیا مگرحضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزنے فرمایا :ھٰذَا مُثْلَۃٌ وَلَاتَحِلُّ  یعنی یہ مُثلَہ ہے اور جائز نہیں ہے ۔ تو سلیمان نے انہیں چھوڑ دیا ۔ (سیرت ابن جوزی۴۹)

مُثلہ سے منع فرماتے

            حضرتِ سیِّدُنا عمران بن حُصَین  رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ  فرماتے ہیں کہ رسولُ اللّٰہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمہم کو مُثلہ سے منع فرماتے تھے ۔ (ابوداؤد، الحدیث ۲۶۶۷ ، ج ۳، ص۷۲)

                مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان فرماتے ہیں : مُثلہ کے لُغوی معنی ہیں  سَخت سزا ، اِصطلاح میں میِّت یا مقتول کے ہاتھ پاؤں ، آنکھ، ناک، ذَکَر(یعنی آلہ تناسُل) وغیرہ کاٹنے کو کہتے ہیں ۔ (مراٰۃ المناجیح ، ج۵، ص۲۶۷)

فیاضی کی حقیقت

            ایک بار سلیمان بن عبدالملک مدینۂ منوَّرہزادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً  آیا تو وہاں بہت سا مال تقسیم کیا پھر دادطَلَب نگاہوں سے حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز کو دیکھتے ہوئے پوچھا: ابوحَفص! آپ نے دیکھا ہم نے کیسی فَیّاضی کی! فرمایا:میرے خیال میں تو آپ نے مالداروں کے مال میں اِضافہ کردیا اور فقیروں کو اُسی طرح تنگدستی کی حالت میں چھوڑ دیا ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۱۱۲)

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اِس حکایت سے ہمیں یہ مَدَنی پھول ملا کہ صدقہ وخیرات پر پہلا حق تنگدست کا ہے نہ کہ مال دار کا، جس کا پیٹ پہلے ہی سے بھرا ہوا ہو اُس کے منہ میں نوالے ٹُھونسنے کے بجائے بھوکے کے کلیجے کو ٹھنڈک پہنچانی چاہئے ۔ اللّٰہ تعالیٰ ہمیں عَقلِ سلیم عطا فرمائے ،  اٰمِین بِجاہِ النَّبِیِّ الْامین صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ۔

خلیفہ کی توہین پر قتل کا حکم

            ایک شخص نے بَرسَرِ عام خلیفہ سلیمان بن عبدالملک کو بُرا بھلا کہا اور اُس کی  سَخت توہین کی ۔ سلیمان نے اُس کے بارے میں مشورہ کیا کہ اسے کیا سزا دی جائے ؟ حاضرین نے کہا: فوراًاِس کی گردن اُڑا دی جائے مگر حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز خاموش رہے ۔ سلیمان نے کہا: عمر! آپ نے کچھ نہیں فرمایا! جواب دیا: اگر آپ مجھ سے پوچھنا ہی چاہتے ہیں تو سنئے کہ رسولُ اللّٰہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے علاوہ کسی کو سَب وشِتَم کرنے والے کی خون ریزی جائز نہیں ۔ یہ جواب سن کر سب لوگ اُٹھ گئے اور سلیمان بھی یہ کہتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا: اے عمر!اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  تمہیں خوش رکھے ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۱۱۲)

 سلیمان بن عبدالملک کا اِعتِراف

            حضرتِ سیِّدناعمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الْقَدِیرکے شریعت کے عین مطابق دئیے گئے مشوروں کا ہی نتیجہ تھا کہ خلیفہ سلیمان بن عبدالملک کو آپ کی عظمتوں کا اِعتراف تھا چنانچہ اس کا بیان ہے : ’’حضرتِ سیِّدناعمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الْقَدِیرجب کبھی میرے پاس موجود نہ ہوں تو مجھے کوئی ایسا شخص نہیں ملتا جو اُن سے زیادہ معاملہ فَہم اور صحیح مشورہ دینے والا ہو ۔ ‘‘(سیرت ابن عبدالحکم ص۱۰۲)

جھوٹ سے نفرت

            ایک بار حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز، خلیفہ سلیمان بن عبدالملک کی رَفاقت میں آب و ہوا کی تبدیلی کے لئے کسی پُر فِضا مَقام میں گئے ، اتفاقاً وہاں اِن کے اور خلیفہ سلیمان کے غلاموں کے درمیان کسی بات پر تکرار ہوگئی، حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزکے غلاموں نے خلیفہ سلیمان کے غلاموں کی پِٹائی کردی، انہوں نے اِ سکی شکایت خلیفہ سلیمان سے کی ، سلیمان نے  حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزکو بلایااور شکایت کے لہجے میں کہا: ’’آپ کے غلاموں نے میرے غلاموں کو مارا ہے ۔ ‘‘ آپ نے فرمایا :’’مجھے اس بات کا عِلم نہیں ۔ ‘‘ سلیمان بگڑ کر بولا: ’’ آپ جھوٹ بول رہے ہیں ۔ ‘‘ فرمایا :’’جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے اور مجھے معلوم ہوا کہ جھوٹ آدمی کو نقصان دیتا ہے ، آج تک کبھی جھوٹ نہیں بولا ۔ ‘‘(سیرت ابن عبدالحکم ص۲۴)

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھاآپ نے کہ حضرتِ سیِّدنا عمربن عبدالعزیز   عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کو جھوٹ سے کس قدر نفرت تھی !اور جھوٹ سے نفرت ہونی بھی چاہئے مگرصدافسوس ! آج کثرت سے جھوٹ بولنے کو کمال اور ترقی کی علامت جبکہ سچ کو بے وقوفی اور ترقی میں رُکاوٹ تصور کیا جاتا ہے بلکہ بعض اوقات تو مَذمُوم مقاصد کے لئے جھوٹی قسم اُٹھانے سے بھی دَریغ نہیں کیا جاتا ۔ یاد رکھئے ! جھوٹ بولنے والا دنیا میں چاہے کتنی ہی کامیابیاں اورکامرانیاں سمیٹ لے ، آخِرت میں ناکامیاں اوررُسوائیاں اُس کا استقبال کریں گی ، لہٰذ ا! ہمیں چاہئے کہ اپنی زَبان کو جھوٹ بولنے سے محفوظ رکھیں ۔

جھوٹ کی مذمت میں تین فرامین مصطَفٰے صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

            (۱) اَلَا اِنَّ الْکِذْبَ یُسَوِّدُ الْوَجْہَ وَالنَّمِیْمَۃَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ یعنی ’’جھوٹ، انسان کو  رُسواکر دیتاہے اورچُغلی عذابِ قَبر کا سبب بنتی ہے ۔ ‘‘ (الترغیب  والترہیب کتاب الادب ، الحدیث ۴۵۲۰، ج۳، ص۴۵۶) (۲) اِذَا کَذَبَ الْعَبْدُ تَبَاعَدَ عَنْہُ الْمَلَکُ مِیلًا مِنْ نَتْنِ مَا جَاء َ بِہِیعنی جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو فِرِشتہ اُس کی بد بو سے ایک مِیل دور ہوجاتاہے ۔ (سنن الترمذی، ج ۳ ، ص۳۹۲، الحدیث ۱۹۷۹) (۳) اِنَّ الصِّدْقَ یَہْدِی اِلَی الْبِرِّ وَاِنَّ الْبِرَّ یَہْدِی اِلَی الْجَنَّۃِ وَاِنَّ الرَّجُلَ لَیَصْدُقُ حَتَّی یُکْتَبَ صِدِّیقًا وَاِنَّ الْکَذِبَ یَہْدِی اِلَی الْفُجُورِ وَاِنَّ الْفُجُورَ یَہْدِی اِلَی النَّارِ وَاِنَّ الرَّجُلَ لَیَکْذِبُ حَتَّی یُکْتَبَ کَذَّابًایعنی سچ بولنا نیکی کی طرف اور نیکی جنت میں لے جاتی ہے اور بے شک بندہ سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اسے صِدِّیق لکھ دیا جاتا ہے اورجھوٹ بولنا فِسق و فُجور کی طرف جبکہ فِسق و فُجوردوزخ میں لے جاتا ہے ، اور بے شک بندہ جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اسے کَذّاب لکھ دیا جاتا ہے ۔ ‘‘ (مسلم، کتاب الادب، باب قبح الکذب، الحدیث۲۶۰۷، ص۱۴۰۵)

 



Total Pages: 139

Go To