Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

آپ واپس اپنی جگہ تشریف لے جائیے

            حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزکو اگرچہ حکومتی اِعتبار سے ہرقسم کے لوگوں سے میل جول رکھنا پڑتا تھا تاہم ان کا زیادہ مَیلان اہلِ عِلم کی طرف تھا  اس لئے مختلف طریقوں سے ان کی قَدَر دانی کیا کرتے تھے ، چنانچہ جب آپ  مدینۂ منوَّرہ زادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً وَّ تَکْرِیماً  میں تھے ، ایک قاصِد حضرتِ سیِّدُنا سعید بن مُسَیَّبرحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کی خدمت میں بھیجا کہ ان سے ایک مسئلہ پوچھ آئے ۔ قاصد نے غَلَطی سے کہہ دیا کہ آپ کو ’’امیر‘‘ بلاتے ہیں ، حضرت سعیدرحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کسی حاکم یا خلیفہ کے پاس جانے کے عادی نہیں تھے لیکن بُلاوا حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز جیسی عِلم دوست شخصیت کی جانب سے تھا، اس لئے حضرتِ سعیدرحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کو ان کے بلانے پر نہ جانا گوارا نہ ہوا، فوراً جوتے پہنے اور قاصِد کے ساتھ ہولئے ، جب حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز نے دیکھا کہ حضرتِ سیِّدُنا سعید بن مُسَیَّبرحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ بنفس نفیس تشریف لارہے ہیں تو وضاحت کی: حضور! ہم نے قاصِد آپ کو بُلانے کے لیے نہیں بلکہ اس لئے بھیجا تھا کہ وہ آپ سے مسئلہ دریافت کر آئے ۔ یہ اس کی غلطی ہے کہ اس نے آپ کو یہاں آنے کی زحمت دی، خُدارا! آپ واپس اپنی جگہ تشریف لے جائیں ، ہمارا قاصد وہیں آکر آپ سے مسئلہ دریافت کرے گا ۔ (الطبقات الکبری ج۲ ص۲۹۱)

باادب بانصیب

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے کہ حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز   عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز نے عالِم دین کی کیسی تعظیم کی اور قاصِد کی غلطی کا کیسا  اِزالہ کیا!ہمیں بھی چاہئے کہ علمائے کرام کے اَدَب و اِحترام میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھیں ، عالِم کی فضیلت کا بیان کرتے ہوئے سرکارِ مدینہ سُرورِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم نے فرمایا:ہر وہ چیز جو آسمان و زمین میں ہے یہاں تک کہ مچھلیاں پانی کے اندر عالم کے لیے دعائے مغفرت کرتی ہیں اورعالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسی چودھویں رات کے چاند کی فضیلت ستاروں پر، اور علماء انبیائے کرام کے وارِث و جانشین ہیں ، انبیائے کرام  کا تَرکہ دینار و دِرہم نہیں ہیں ، انہوں نے وِراثت میں صِرف عِلم چھوڑا ہے تو جس نے اسے حاصل کیا اس نے پورا حصہ پایا ۔ ‘‘(ترمذی، کتاب العلم ، باب ماجاء فی فضل الفقہ، الحدیث ۲۶۹۱، ج۴، ص۳۱۲)

عالم کی تعظیم کاصِلہ

             ایک شخص کو انتِقال کے بعد کسی نے خواب میں دیکھ کر پوچھا ، ما فَعَلَ اللّٰہُ بِکَ؟ یعنی اللّٰہعَزَّوَجَلَّنے آپ کے ساتھ کیا سُلوک فرمایا؟ جواب دیا ، اللّٰہعَزَّوَجَلَّنے میری مغفِرت فرما دی ۔ خواب دیکھنے والے نے پوچھا :کو ن سا عمل کام آ گیا ؟ جواب دیا:ایک بار حضرتِ سیِّدُنا امام احمد بن حَنبل رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ دریا کے کَنارے وُضُو فرمارہے تھے اور وَہیں میں بُلندی کی طرف وُضُو کرنے بیٹھ گیا ، جب میری نظر امام صاحِب رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ پر پڑی تو تعظیماً نیچے کی جانب آ گیا ۔ بس یِہی عمل کام آ گیا اور میں بخشا گیا ۔ (تذکرۃ الاولیاء، ص ۱۹۶)

علماء ِ کرام کے احترام میں کوتاہی نہ کیجئے

            شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطّار قادری دامت برکاتہم العالیہ علماء کرام کی اہمیت کا اِحساس دلاتے ہوئے لکھتے ہیں :دعوتِ اسلامی کے تمام وابَستگان بلکہ ہر مسلمان کے لیے ضَروری ہے کہ وہ عُلَماء اہلسنّت سے ہر گز نہ ٹکرائیں ، اُن کے اَدَب و اِحترام میں کوتاہی نہ کریں ، علماء اہلسنّت کی تَحقیر سے قَطعًا گُرَیز کریں ۔  حضرتِ سیِّدُنا ابوذرّ غِفاری  رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے ، ’’عالِم زمین میں اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  کی دلیل و حُجَّت ہیں تو جس نے عالم میں عیب نِکالا وہ ہلاک ہوگیا ۔ ‘‘ (کنزُالعمال ج ۱۰ ص ۷۷) میرے آقا اعلیٰ حضرت مولیٰناشاہ امام احمد رضا  خا ن علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں ، ’’اُس کی ( یعنی عالم کی)  خَطاگِیری ( یعنی بھول  نکالنا) اور اُس پر اعتِرا  ض حرام ہے اور اِس کے سبب رہنمائے دین سے کَنارہ کَش ہونا اور اِستِفادَۂ مسائل چھوڑ دینا اِس کے حق میں زَہر ہے ۔ ‘‘(فتاوٰی رضویہ ج ۲۳ ص ۷۱۱ ) اُن نادان لوگوں کو ڈر جانا چاہیے جو بات بات پر عُلَمائے کِرام کے بارے میں تَوہین آمَیز کلِمات بک دیا کرتے ہیں مَثلاً بھئی ذرا بچ کر رہناکہ ’’عَلّامہ صاحِب ‘‘ ہیں ، عُلَما لالچی ہوتے ہیں ، ہم سے جَلتے ہیں ، ہماری وجہ سے اب ان کا کوئی بھاؤ نہیں پوچھتا، چھوڑو چھوڑو یہ تَو مولوی ہے ، ( معاذَ اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّعالِموں کو بعض لوگ حَقارت سے کہہ دیتے ہیں ) ’’یہ مُلّا لوگ!‘‘، وغیرہ وغیرہ ۔ (کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب ص۳۴۴)

سارے سُنّی عالِموں سے تُوبناکر رکھ سدا

           کر ادب ہر ایک کا، ہونا نہ تُو اُن سے جدا(وسائل بخشش ص۶۴۶)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                                   صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حجاج بن یوسف کو ناپسند کرتے تھے

            گورنروں میں سے ’’ حجاج بن یوسف‘‘ ولید کے زمانے میں زیادہ مقبول  تھا لیکن حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزیزاُسے  اُس کے ظُلم وسِتَم کی وجہ سے بدترین سمجھتے تھے اور فرماتے تھے : اگر قیامت کے دن دنیا کی تمام قومیں خبیث لوگوں کا مقابلہ کریں اور ہر قوم اپنے اپنے خبیث کو مقابلہ میں لائے تو ہم حجاج کو پیش کرکے تمام دنیا پر غالِب ہوجائیں گے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۱۰۸)

حجاج بن یوسف کے مدینہ میں داخلے کی مُمَانَعَت

            جن دِنوں حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز مدینۂ پاک کے گورنر تھے ، حجاج بن یوسف کوامیرُ الحج بنایا گیاتو آپ رحمۃاللّٰہ تعالٰی علیہ نے خلیفہ کو خط لکھا کہ مجھے حجاج کے مدینہ آنے سے معاف رکھا جائے ۔ خلیفہ نے حجاج کو کہا کہ عمر بن عبدالعزیز( رحمۃاللّٰہ تعالٰی علیہ ) نے اِس مضمون کا خط لکھا ہے ، جو شخص تمہارے آنے کو پسند نہیں کرتا تم اگر اس کے پاس نہ جاؤ تو کیا حَرَج ہے ؟ چنانچہ حجاج مدینہ نہیں گیا ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۲۵)

دوسرے کونے میں چلے گئے

 



Total Pages: 139

Go To