$header_html

Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

ہوتاہے اوربنی امیہ کے نجیب شخص عمربن عبدالعزیز ( عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز) ہیں ۔ (حلیۃ الاولیاء ج ۵ ص ۲۸۸)

بعد ِ وصال چہرہ جگمگا اٹھا

            حضرت سیِّدُنا رَجاء بن حَیوَۃ  رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہکا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزنے اپنے مرضِ وصال میں مجھ سے فرمایا: ’’آپ مجھے غُسل دینے ، کفن پہنانے اور لحد میں اتارنے والوں میں رہئے گا ۔ جب لوگ مجھے لحد میں اُتار دیں تو کفن کی گِرہ کھول کر میرا چہرہ دیکھ لیجئے گا ۔ جب آپ عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے اِنتقال فرمایا تو آپ  رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کو غُسل دینے والوں میں میں بھی شامل تھا ۔ آپ کو قبرمیں اتارے جانے کے بعد جب میں نے گِرہ کھول کر آپ   رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کا چہرۂ اَنور دیکھا تو وہ قِبلہ رُخ تھا اور چودہویں کے چاند کی طرح چَمَک دَمَک رہا تھا ۔ یہ دیکھ کر مجھے بے حد خوشی ہوئی ۔ (الروض الفائق ، ص۲۰۴)

آسمانی رقعہ

            حضرتِ سیِّدُنا یوسف بن ماھک رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہکا بیان ہے کہ جب ہم حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کی قَبر مُبارَک کی مٹی برابر کر رہے تھے تو ایک آسمانی رقعہ ہم پر گِرا جس پر لکھا تھا :بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ، اَمَانٌ مِّنَ اللّٰہِ لِعُمَرِبْنِ عَبْدِالْعَزِیْز مِنَ النَّارِیعنی یہ اللّٰہ  تعالیٰ کی طرف سے عمر بن عبدالعزیز کے لئے جہنم سے امان کا پروانہ ہے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۳۲۸)

عذاب سے چھٹکارے کا بشارت نامہ

            معاذ مولیٰ زیدبن تمیم کا بیان ہے کہ بنوتمیم کے ایک شخص نے خواب میں آسمان سے اُترنے والی ایک کھلی کتاب کو دیکھا جس میں واضح الفاظ میں لکھا تھا : بسم اللہ الرحمن الرحیم یہ غالب حکمت والے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے عمر بن عبدالعزیز کے لئے دردناک عذاب سے چھٹکارے کا پروانہ ہے ۔ (حلیۃ الاولیاء ج ۵ ص ۳۷۰)

اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔ ٰ امین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

بوڑھے راہب کی عقیدت

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز کے صاحبزادے عبداللّٰہ ایک جزیرے میں ایک بوڑھے راہب کے صومعے کے پاس کسی جھونپڑی میں ٹھہرے تووہ ان سے ملاقات کے لئے نیچے اُتر آیا ، اس سے پہلے اسے کسی کے لئے اترتے ہوئے نہ دیکھاگیا تھا ۔ بوڑھے راہب نے کہا: کیا تم جانتے ہو میں نیچے کیوں اترا ہوں ؟عبداللّٰہنے کہا :نہیں ۔ راہب کہنے لگا:  لِحَقِّ اَبِیْکَ اِنَّا نَجِدُہٗ مِنْ اَئِمَّۃِ الْعَدْلِ بِمَوْضِعِ رَجَبٍ مِنَ الْاَشْہُرِ الْحُرُمِ یعنی تمہارے والد کے حق کی وجہ سے ، بے شک ہم انہیں عادِل ائمہ میں سے اسی طرح پاتے ہیں جیسے رجب کے مہینے کوحُرمت والے مہینوں میں ۔ (سیرت ابن جوزی ص۵۷)

صِدِیق کی قبر

            حضرتِ سیِّدُنا صالح بن علی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوی کا بیان ہے کہ میں شام گیا تو حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز کے مَزار شریف پر حاضِری کا اِرادہ کیا مگر مجھے کوئی ایسا شخص نہ مل سکا جو ان کے مزار شریف کا پتا بتاتا ، بالآخر ایک راہب سے ملاقات ہوئی ، اس سے پوچھا تو کہنے لگا :تم ’’صِدِّیق‘‘ کی قَبر تلاش کررہے ہو، وہ فلاں جگہ پر ہے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۳۳۱)

سرزمین سِمعان کی خوش نصیبی

             حضرت ابوبکر بن عیاش رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں کہ دَیر سِمعان کی سرزمین سے ایک ایسے مردِ قلندر (یعنی حضرت عمر بن العزیز) کا حَشر ہوگا جو اپنے رب عَزَّوَجَلَّ سے بہت زیادہ ڈرنے والا تھا ۔ (طبقات ابن سعد، ج۵ ، ص۳۲۰)

خِلافت سے وفات تک کا سفر

            حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز نے خِلافت کے بعد نہ کوئی نئی سواری خریدی ، نہ کسی عورت سے نکاح کیا ، نہ نئی باندی رکھی، یہاں تک کہ آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہکا وِصال ہوگیا اور خِلافت سے وفات تک کبھی آپ کو کھل کر ہنستے نہیں دیکھا گیا ۔ آپ کی اہلیہ محترمہ فرماتی ہیں کہ خِلافت سے وفات تک آپ نے تین مرتبہ کے سوا کبھی غُسلِ جَنابت نہیں کیا ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۴۴)

 خِلافت سے پہلے اور خلافت کے بعد

             حضرت سیِّدُنا ابو حازِم علیہ رحمۃ اللّٰہ المُنعم فرماتے ہیں :’’ جب حضرت سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز  خلیفہ بن گئے تو ایک دن میں ا ن سے ملاقات کے لئے گیا ۔ وہ لوگو ں کے درمیان تشریف فرماتھے ، اس لئے میں انہیں نہ پہچان سکا لیکن انہوں نے مجھے پہچان لیا اور فرمایا:’’ اے ابو حازِم ! میرے قریب آؤ ۔ میں ان کے قریب گیااور حیرت سے پوچھا:’’ کیا آپ ہی امیرُ المُؤمنین عمر بن عبد العزیز (رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ)  ہیں ؟‘‘فرما یا:’’ ہاں ! میں ہی عمر بن عبدالعزیز ہوں ۔ ‘‘میں نے کہا: ’’جس وقت آپ مدینۂ منوَّرہزادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْما میں ہمارے امیر تھے اس وقت آپ کا حُسن وجَمال عُروج پر تھا، چہرہ انتہائی تاباں اور روشن تھا، آپ کے پاس بہترین لباس اور بہت ہی عمدہ سواریاں تھیں ، آپ کے کثیر خدّام تھے اور آپ کی رہائش گاہ بہت ہی عمدہ تھی ، اب آپ کو کس چیز نے اس حال میں پہنچا دیا؟حالانکہ اب توآپ امیرُ المُؤمنین ہیں ، اب توآپ کے پاس زیادہ آسائشیں ہونی چاہئیں تھیں !‘‘ یہ سن کر وہ رونے لگے اور فرمایا:’’ ابو حازم !اس وقت میرا کیا حال ہوگا جب میں اندھیر ی قَبر میں پہنچ جاؤں گا اور میری آنکھیں بہہ کر میرے رخساروں پر آجائیں گی ، میرا پیٹ پھٹ جائے گا، زبان خشک ہوجائے گی اور کیڑے میرے جسم پر رِینگ رہے ہوں گے !‘‘پھر روتے ہوئے فرمانے لگے :’’ مجھے وہی حدیث سنائیے جو مدینہ منورہ میں سنائی تھی ۔ ‘‘ تومیں نے کہا:’’ یاامیرُ المُؤمنین ! میں نے حضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہ  رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کویہ فرماتے ہوئے سناکہنبیِّ مُکَرَّم، نُورِ مُجسَّم، رسولِ اَکرم صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّمنے فرمایا:’’ تمہارے سامنے دشوار گزار گھاٹی ہے جس سے صِرف کمزور اور نحیف لوگ ہی گزر سکیں گے ۔ ‘‘ ( حلیۃ الاولیاء،



Total Pages: 139

Go To
$footer_html