Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

کے طُفَیل آگ سے نجات دے اور اپنی رِضا مندی سے جنت عطا کرے ۔ تمہیں چاہئے کہ تقویٰ اِختیار کرواور رِعایا کا خیال رکھوکیونکہ تم بھی کچھ عرصے بعد قَبر میں اُتر جاؤ گے لہٰذا تمہیں غفلت میں ڈوب کر ایسی غلطی نہیں کرنی چاہئے جس کی تم کوئی تلافی نہ کرسکو ۔ سلیمان بن عبدالملک خدا عَزَّوَجَلَّکا ایک بندہ تھاجس نے اِنتقال سے پہلے مجھے خلیفہ بنایا اور میرے لیے خود بَیعَت لی اور میرے بعد تم کو ولی عہد مقر ر کیا، مجھے امیر المؤمنین کامَنصَب اس لئے نہیں ملا تھا کہ میں بہت سی بیبیو ں کا انتخاب کروں اور مال و دولت جمع کروں کیونکہ خداعَزَّوَجَلَّ نے (خِلافت سے پہلے ہی) مجھ کو اس سے بہتر سامان دیئے تھے لیکن میں سخت حساب اور نازُک سوال سے ڈرتا ہوں ۔ (سیرت ابن جوزی ۳۱۷ ملخصًا)

ایک دن تمہیں بھی اسی طرح ہونا ہے

            امیرُ المؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عُمَر بن عبدُ العزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْعَزِیْز کا وقْتِ وِصال قریب آیا تو حاضِرین کو وَصِیَّت فرمائی : ’’میں تمہیں اپنے اِس (وقتِ نزْع کے ) حال سے ڈراتا ہوں کہ ایک دن تمہیں بھی اِسی طرح ہونا ہے ۔ ‘‘  (اِحیائُ العُلوم ج۴ ص۵۸۲)

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حضرتِ سیِّدُنا عُمَر بن عبد العزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْعَزِیْز نے اپنی اس وصِیّت میں کئی فوائِد وفضائِل کے حُصول کا نُسخہ بتایاکہ موت کی یاد گناہوں سے بچاتی، دلوں کو چمکاتی، حُبِّ دنیا سے بچاتی، عَقلمندی دلاتی اور لذَّاتِ دنیا کو مٹاتی ہے ۔ کاش! ہم ہر دَم موت کو یاد رکھنے اور اُس کے لئے تیاری کرنے والے بن جائیں ۔ موت کی آمد کا یقین تو ہر ایک کو ہے لیکن اِس کے لئے تیاری کوئی کوئی کرتا ہے ۔ حضرتِ سیِّدُنا شقیق بن اِبراہیم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْعَظِیْم فرماتے ہیں : لوگ یہ تو کہتے ہیں کہ موت آکر ہی رہے گی لیکن اُن کے اَعمال ایسے ہیں جیسے اُنہوں نے کبھی مرنا ہی نہ ہو ۔ (تنبیہُ الغَافِلِین ص۱۷ )

میں اپنے آپ کو اس قابل نہیں سمجھتا

            مرض الموت میں لوگوں نے حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزکو مشورہ دیا کہ اگر آپ مدینہ میں جا کر وفات پاتے تو رسولُ اللّٰہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ، حضرتِ سیِّدَیناابوبکر و عمر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہماکے ساتھ دَفن ہوتے ، اس مَدفَن پاک میں ایک قَبر کی جگہ اور ہے ۔ فرمایا: میں اپنے آپ کو رسولُاللّٰہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے پہلو میں دَفن ہونے کے قابل نہیں سمجھتا ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۰۵)

قَبر میں تبرُّکات رکھنے کی وَصِیّت

            نُور والے آقا صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّمکے چند موئے مُبارَک اور ناخن منگوا کر کفن میں رکھنے کی وَصِیَّت بھی فرمائی ۔ (طبقات ابن سعد، ج۵ ، ص۳۱۸)

قبر کی جگہ خریدی

            حضرتِ سیِّدناعمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الْقَدِیرنے اپنی قَبر کی جگہ بیس دینار میں اور بعضوں کے بقول دس دینار میں خریدی تھی ۔ (سیرت ابن جوزی ص۳۲۳ و سیرت ابن عبدالحکم ص۹۵) چُنانچِہ ابوامیہ کا بیان ہے کہ امیر المؤمنین علیہ رَحمَۃُ اللّٰہِ المُبیننے اِنتقال سے پہلے کچھ دینار دئیے مجھے فرمایا: جاؤ! گاؤں کے لوگوں سے میری قَبر کی زمین خرید لواور اگر وہ اَنکار کریں تو واپَس آجانا ۔ میں لوگوں کے پاس پہنچا اور زمین خریدنا چاہی تو انہوں نے کہا: واللّٰہ!اگر ہمیں تمہارے واپَس لَوٹ جانے کا اندیشہ نہ ہوتا تو ہم یہ دینار قبول نہ کرتے ۔ (تاریخ الخلفاء ص۱۸۸)

سادہ کفن

             جب حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الْعزیز کی بیماری بڑھ گئی تو آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے مَسلَمَہ بن عبدالملک کو  حُکم فرمایا: ’’میرے مال میں سے دو دینار لے کر میرے لئے کفن خرید لاؤ ۔ ‘‘ اُس نے عَرض کی :’’اے امیر المؤمنین! آپ جیسی شخصیت کو دودینار کا کفن دیا جائے گا!‘‘ تو اِرشاد فرمایا:’’اے مَسلَمَہ! اگر اللّٰہعَزَّوَجَلَّ مجھ سے راضی ہوا تو اس کم قیمت کفن کو اس سے بہتر سے بدل دے گااور اگر ناراض ہوا تو یہ آگ کا ایند ھن بن جائے گا ۔ ‘‘منقول ہے کہ آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کو کچے دھاگے سے بُنے ہوئے کپڑے کا کفن پہنایاگیا ۔ ایک قول کے مطابق وہ یَمَنی چادر کا تھا ۔ (الروض الفائق ، ص۲۰۵)

دُنیا سے کیا لے کر جارہا ہوں ؟

            عمرو بن قیس کا بیان ہے کہ حضرتِ سیِّدناعمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الْقَدِیرنے وصال سے قبل وہاں پر موجود لوگوں سے فرمایا : میری حالت سے عبرت پکڑو کیونکہ ایک دن تمہیں بھی موت کا سامنا کرنا ہے اور جب تم مجھے قَبر میں اُتار چکو تو دیکھ لینا کہ میں تمہاری دُنیا سے کیا لے کر جارہا ہوں ۔ (سیرت ابن جوزی ص۳۲۲)

موت کی سختیوں کا فائدہ

            حضرت سیِّدُنا اِمام اوزاعی رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز نے اِرشاد فرمایا:’’میں پسند نہیں کرتاکہ مجھ پرموت کی سختیوں کو آسان کر دیاجائے کیونکہ یہی تو وہ آخری چیز ہے جو بندۂ مؤمن کو اجر وثواب عطا کرتی ہے ۔ ‘‘(سیرت ابن جوزی ص۳۲۴)

وقتِ وفات رونے لگے

            مرض الموت میں آپ  رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ رونے لگے تو عَرض کی گئی: یاامیرالمؤمنین ! آپ کیوں روتے ہیں ؟ آپ کو تو خوش ہونا چاہئے کہ اللّٰہ  تعالیٰ نے آپ کے ذریعے بہت سی سنّتوں کو زندہ فرمایا ہے اور اِنصاف کا بول بالا کیاہے ، یہ سن کر آپ خوفِ خدا کی وجہ سے اور زیادہ روئے اور فرمایا: کیا مجھے اس مخلوق کے معاملے کی جواب دہی کے لئے کھڑا نہیں کیا جائے گا؟اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ کی قسم! اگر مجھ پر عَدل کیا گیا تو میں ڈرتا ہوں کہ پھنس جاؤں گا اور ان کے دلائل کے سامنے کچھ نہیں کہہ پاؤں گا ۔ (تاریخِ دِ مشق، ج۴۵ ، ص۲۵۴)

کلمہ شریف پڑھا

              حضرتِ سیِّدناعمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الْعزیزروزانہ یہ دُعا مانگا کرتے تھے : یااللّٰہ! عَزَّوَجَلَّ  میری موت کو مجھ پر آسان کردے ۔ چنانچہ ان کی زوجہ محترمہ حضرت سیدتنا فاطمہ بنت



Total Pages: 139

Go To