$header_html

Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

 

اولاد کو وَصِیّت

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزبیمار ہوئے تو آپ کے برادرِ نسبتی    حضرتِ سیِّدُنا مَسْلَمَہ بن عَبدُ الْمَلِک عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْمَلِک آئے اور عَرض کی: امیرُ المُؤمنین! آپ نے اس مال سے اپنی زندگی میں تو اپنی اولاد کا منہ بند ہی رکھا، کم از کم ان کے بارے میں مجھے اوردیگر لوگوں کو وَصِیَّت ہی کر جاتے تاکہ ہم لوگ آپ کے بعد ان کی گزر بسر کا اِنتظام کرسکتے ، یہ سن کر آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے فرمایا : مجھے بٹھادو ۔ آپ کو بٹھا دیا گیا توفرمایا :’’ مَسلَمَہ! میں نے تمہاری بات سنی، تم نے جویہ کہا کہ میں نے اس مال سے انکے منہ بند کئے رکھے ، خدا گواہ ہے کہ میں نے اپنی اولاد کا حق کبھی نہیں روکا مگر میں یہ نہیں کرسکتا تھا کہ دوسروں کا حق چھین چھین کر انہیں  دیتارہتا، رہی یہ بات کہ میں ان کی نگہداشت کے لیے کسی کو وصی بناؤں توعمر کی اولاد میں دو ہی قسم کے آدمی ہوسکتے ہیں : نیک یا بَد، اگر وہ نیک ہے تو مجھے اس کی فِکر کی ضَرورت نہیں کیونکہ، اللّٰہ تعالیٰ خود ہی اسے مستغنی کردے گا، اور اگر وہ بَد ہے تو میں  کیوں اسے مال دے کر اللّٰہ کی نافرمانی پر اس کی مدد کروں ۔

            پھر فرمایا :’’ میرے بیٹوں کو میرے پاس لاؤ ۔ ‘‘ وہ آئے تو انہیں دیکھ کر آپ  رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہکی آنکھیں ڈَبڈَبا گئیں اور فرمایا: میں قربان جاؤں ، یہ بے چارے نو عمر ہیں جنہیں کنگال چھوڑ کر جارہا ہوں ان کے پاس کچھ بھی تو نہیں ۔ ‘‘‘ پھر روتے ہوئے فرمایا :’’ میرے بیٹو !میں دوراہے پر کھڑا تھا، یا تم مالدار ہوجاتے اور میں جہنم کا ایندھن بن جاتا، یا تم ہمیشہ کے لیے فَقر و قلاش ہوجاتے اور میں جنت میں چلا جاتا، میرے خیال میں میرے لیے یہی دوسرا راستہ بہتر تھا، جاؤ ! اللّٰہ عَزَّوَجَلَّتمہارا حافظ و نگبہان ہو، جاؤ !اللّٰہ عَزَّوَجَلَّتمہارا حافظ و نگہبان ہو ، جاؤ !اللّٰہ عَزَّوَجَلَّتمہیں رِزق دے گا ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۹۸وسیرت ابن جوزی ص۳۲۱)

امیر المؤمنین کی  مَدَنی سوچ

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے اَولاد کے بارے میں ہمارے بزرگانِ دین علیھم رحمۃُ المُبِین کا کیسا مَدَنی ذِہن تھا!مگر افسوس کہ آج ہمارے مُعاشَرے میں اَکثر لوگوں کے ذِہنوں پردولتوں اور خزانوں کے اَنبار جمع کرنے کی دُھن سُوار ہے اور اِس راہِ پُرخار میں خواہ کتنی ہی تکالیف سے دوچار ہونا پڑے ، پرواہ نہیں ، بس! ہر وَقت دولتِ دُنیا جمع کرنے کی حِرص ہے ، اگر کبھی آخِرت کی بھلائی کے لئے نیکیوں کی دولت اکٹھّی کرنے کی طرف  تَوَجُّہدلائی بھی جائے تو مُلازَمَت یا کاروباری مصروفِیَّت وغیرہ کے بہانے آڑے آجاتے ہیں ، بال بچوں کا دُنیوی مستقبِل سنوارنے کی کوشِشوں میں اپنا اُخرَوی مستقبِل بھول جاتے ہیں ، اَولاد کی دُنیوی پڑھائی پھر اُن کی شادی کی فِکْر کسی اور طرف ذِہن جانے ہی نہیں دیتی ۔ اللّٰہ  تعالیٰ ہماری اِصلاح  فرمائے ۔ ٰامین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!        صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

برکت کے نظارے

            خلیفہ منصور نے حضرت سیِّدُناعبدالرحمن بن قاسم بن ابی بکر رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہسے درخواست کی کہ مجھے نصیحت کیجئے تو فرمایا:اس چیز کی نصیحت کروں جو میں نے دیکھی ہے یا اس چیز کی جو میں نے سنی ہے ؟ اس نے کہا :جوآپ نے دیکھی ہے ۔ فرمایا:حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزنے گیارہ بیٹے چھوڑ کر وفات پائی اور ان کا کل تَرکہ 17دینار تھا جس میں سے کچھ دینار ان کے کفن دفن میں صَرف ہوئے اور بقیہ بیٹوں پر تقسیم ہوا اور ہر بیٹے کو 19دِرہم ملے ، ہشام بن عبدُالملک بھی 11 بیٹے چھوڑ کر مرا اور جب اس کاتَرکہ تقسیم ہوا تو سب نے دس دس لاکھ پایا لیکن میں نے حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزکے ایک بیٹے کو دیکھا کہ ایک دن میں سو گھوڑے جہاد کے لئے پیش کئے اور ہشام کی اولاد میں سے ایک شخص کو دیکھا کہ لوگ اس بے چارے کوصَدقہ دے رہے ہیں ۔ (سیرت ابن جوزی ص۳۳۸)

وہیں لوٹا دو

            مَسلَمَہ بن عبدا لملک مرضِ وفات میں حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کی خدمت میں حاضِر ہوئے تو آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے ان کو وَصِیَّت فرمائی :’’ میری وفات کے وقت میرے پاس موجود رہنا، تجہیز وتکفین کا اِنتظام خود کرنا، قَبر تک میرے ساتھ جانا اور لحد میں خود اُتارنا ۔ ‘‘ پھر مَسلَمَہ کی طرف دیکھا اور فرمایا: ’’ذرا غور کرو مَسلَمَہ ! تم مجھے کہاں چھوڑ کر آؤ گے اور دنیا مجھے کن حالات میں قَبر کے حوالے کرے گی؟‘‘مَسلَمَہ نے عَرض کی:’’ امیرُ المُؤمنین ! کوئی (مالی) وَصِیَّت فرمائیے ۔ ‘‘فرمایا:’’ میرے پاس مال ہی نہیں جس کی وَصِیَّت کروں ۔ ‘‘ عَرض کی: ’’میرے پاس ایک لاکھ دینار ہیں آپ جو چاہیں وَصِیَّت فرمائیے ۔ ‘‘فرمایا:’’ یہ جہاں سے لئے ہیں ، وہیں لوٹا دو ۔ ‘‘ مَسلَمَہ نے اَشک بار آنکھوں سے کہا:  یاامیرَالمُؤمنین ! اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے ، واللّٰہ! آپ نے ہمارے سخت دلوں کو  نَرم کردیا ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۱۰۵ وسیرت ابن جوزی ص۳۲۰)

بعد کے خلیفہ کو وَصِیّت

            کسی نے عَرض کی :یاامیرَالمُؤمنین !  اپنے بعد کے خلیفہ ’’یزید بن عبدُالملک‘‘ کے لیے وَصِیَّت و نصیحت کی کوئی تحریر لکھوا دیجئے ۔ آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ  نے اپنے کاتب کو  حُکم فرمایا لکھو:امابعد! اے یزید ! غفلت کے وَقت کی لَغزِش سے بچ کر رہنا کیونکہ اس کا ازالہ نہیں ہوسکتا، نہ رُجوع ہی کی توفیق ہوتی ہے ، دیکھو !تم ان ساری چیزوں کو ان لوگوں کے لیے چھوڑ جاؤ گے جو تمہیں کلمۂ خیر سے بھی یاد نہیں کریں اور اس ذات (یعنیاللّٰہعَزَّوَجَلَّ) کی طرف لوٹ کر جانا ہے جس کے یہاں تمہارے عُذرو معذرت کی کوئی شنوائی نہیں ہوگی ۔ والسلام  (سیرت ابن عبدالحکم ص۱۰۳) یہ بھی لکھا: ’’تم جانتے ہو کہ اُمورِ خِلافت کے متعلق مجھ سے سوال کیا جائے گا ، اور خدا عَزَّوَجَلَّمجھ سے اس کا حساب لے گا اور میں اس سے اپنا کوئی کام نہ چھپا سکوں گا، اگر خداعَزَّوَجَلَّ مجھ سے راضی ہوگیا تو میں کامیاب رہوں گا اور ایک طویل عذاب سے بچوں گااوراگر مجھ سے ناراض ہوا تو افسوس ہے میرے انجام پر ، میں خدائے وحدہ لاشریک لہ سے یہ دُعا کرتا ہوں کہ وہ مجھے اپنی رحمت



Total Pages: 139

Go To
$footer_html