Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

رہیں بھلائی کی راہوں میں گامزن ہر دم            کریں نہ رُخ مرے پاؤں گناہ کا یاربّ(وسائلِ بخشش ص۹۶، ۹۷)

 

پہلامَدَنی مشورہ

            جب حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزمدینۂ منوَّرہ زادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً وَّ تَکْرِیماً  پہنچے تو وہاں کے اَکابر فقہائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السّلام کو مَدَنی مشورے کے لئے جمع کیا اور اُن کی خدمت میں عَرض کی : میں نے آپ حضرات کو ایک ایسے کام کے لئے اکٹھا کیا ہے جس پر آپ کو ثواب ملے گا اور آپ حق کے حمایتی قرار پائیں گے ۔ آپ لوگ کسی کو ظُلم کرتے ہوئے دیکھیں یا آپ میں سے کسی کو میرے عامِل(یعنی حکومتی اہلکار) کے ظُلم کا حال معلوم ہو تو میں آپ کو خدا عَزَّوَجَلَّکی قسم دیتا ہوں کہ مجھ تک اس معاملہ کو ضرور پہنچائیں ۔ فقہائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السّلامآپ رحمۃاللّٰہ تعالٰی علیہ کے جذبے سے بہت متاثر ہوئے اور دعائے خیر سے نوازا ۔ (سیرت ابن جوزی ، ص۴۱) غالباً اِسی مَدَنی مشورے کا اثر تھا کہ جب بھی حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کو کوئی مشکل معاملہ درپیش ہوتا ، آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ فقہائے مدینہ پر مشتمل مجلسِ شوریٰ سے اس پر مشورہ کیا کرتے اور اسی کی برکت سے آپ کے فیصلے غَلطی سے پاک ہوتے تھے چُنانچہ حضرتِ سیِّدُنا ربیع رحمۃاللّٰہ تعالٰی علیہ کے پاس حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کے کسی فیصلے کا ذِکر ہوا تو فرمایا: واللّٰہ! انہوں نے کبھی غلط فیصلہ نہیں کیا ۔ (البدایۃ والنہایۃ، ج۶، ص۳۳۲، ۳۳۳)

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آپ نے دیکھا کہ عِلم وحکمت سے مالامال  اورحکومتی اُمور کا تجربہ ہونے کے باوجود حضرتِ سیِّدنا عمربن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز نے مدینۂ منوَّرہزادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً میں گورنری کی خدمات کا آغاز فقہائے مدینہ کے مَدَنی مشورے سے کیا اورایک ہم ہیں کہ ہمیں کو ئی مَنصَب یا ذِمّہ داری مل جاتی ہے تو کسی ماتحت سے مشورہ کر نا تودُور کی بات ہے اگروہ اَزخود ہمیں مشورہ دینے کی جَسارَت کربیٹھے تو اُس کو بد تہذیب ، بے ادب ، گستاخ اور زبان دَراز جانتے بلکہ بعض اوقات تو اپنے عہدے کے غُرورمیں اُسے کھری کھری سُنا کر اورحوصلہ شِکن رویّے کے فُتُور سے اُس کے دل کا شیشہ چَکنا چُور کر ڈالتے ہیں ۔ یقینادِینی و دُنیا وی اُمور میں مشورے کی بڑی اہمیت و ضرورت اور بَرَکت ہے ۔ کاش ہم عاجِزی اپناکر اپنے آقائے خوش خصال ، صاحب ِ شیریں مقال صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مشورہ کر نے والی سنت پر بھی عمل پیرا ہوں اور وُسعَتِ قَلبی سے اپنے ماتحت اسلامی بھائیوں کی رائے لینے کا خُلق اپنائیں اور اُن کی مناسب رائے قبول بھی کریں ۔

مشورہ سنّت ہے

             اللّٰہعزَّوَجَلَّ  نے اپنے محبوبِ کریم ر ء وفٌ رَّحیم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے اِرشاد فرمایا :

وَ  شَاوِرْهُمْ  فِی  الْاَمْرِۚ- (پ ۴، اٰلِ عمران:۱۵۹)

ترجمۂ کنزالایمان :اور کاموں میں اُن سے مشورہ لو ۔

اِس آیت کی تفسیر میں خزائن العرفان میں ہے کہ اس میں اِن کی دِلداری بھی ہے  اور عزت افزائی بھی اور یہ فائدہ بھی کہ مشورہ سنت ہوجائے گا اور آئندہ اُمت اِس  سے نفع اٹھاتی رہے گی ۔ (خزائن العرفان)

             حضرت سیِّدَینا حسنِ بصری اور ضحاک رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہما سے مَروِی ہے کہ اللّٰہ  تعالیٰ نے نبیٔ کریم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو اپنے اَصحاب  سے مشورہ کرنے کا  حُکم اِس وجہ سے نہیں دیاکہ اللّٰہ عزَّوَجَلَّ اور اس کے پیارے حبیب صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکو اُن کے مشورہ کی حاجت ہے بلکہ اس لئے کہ انہیں مشورے کی فضیلت کا عِلم دے اور آپ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکے بعد اُمّت مشورہ کرنے میں آپ  صلَّی اللّٰہ  تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکی اِقتِدا اور اِتباع کرے ۔ ( تفسیرِ قرطبی ، الجزء الرابع، ص۱۹۲)

نیک بخت کون؟

             حضرتِ سہل بن سعد رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے آقائے کائنات صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے رِوایت کی ہے :مَا شَقِیَ قَطُّ عَبْدٌ بِِمَشْوَرَۃٍ وَمَا سَعَدَ بِاِسْتِغْنَائِ رَأْیٍیعنی جو بندہ مشورہ لے وہ کبھی بَدبَخت نہیں ہوتا اور جو بندہ خود رائے اور دوسروں کے مشوروں سے مُستَغنِی ( یعنی بے پرواہ) ہو وہ کبھی نیک بخت نہیں ہوتا ۔ (الجامع لاحکام القرآن ، الجزء الرابع ، ص ۱۹۳ )

مشورہ بَرَکت کی کنجی ہے

            حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز نے فرمایا:اِنَّ الْمَشْوَرَۃَ وَالْمُنَاظَرَۃَ بَابَا رَحْمَۃٍ وَمِفْتَاحَا بَرَکَۃٍ لَا یَضِلُّ مَعَہُمَا رَأْیٌ وَلَا یُفْقَدُ مَعَہُمَا حَزْمٌ  یعنی مشورہ اور حق کے لئے باہمی بحث رحمت کا دروازہ اور برکت کی کُنجی ہے جن کی وجہ سے کوئی رائے گمراہ نہیں ہوتی اوردُوراندیشی قائم رہتی ہے ۔ (باب السلک فی طبائع الملک ، مشورۃ ذوی رأی، ج۱ ص ۶۳)

’’مشورہ‘‘ کے پانچ حروف کی نسبت سے مشورے کی اہمیت واَفادیت کے بارے میں 5روایات

          (۱) حضرتِ سیِّدُناابن عمر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما بیا ن کرتے ہیں کہ آقا علیہ السلام نے اِرشاد فرمایا:مَنْ اَرَادَ اَمْراً ، فَشَاوَرَ فِیْہ وَقَضَی اِہْتَدَی لِأَرْشَدِ الْاُمُوْرِیعنی جو شخص کسی کام کا اِرادہ کرے اور اس میں کسی مسلمان شخص سے مشورہ کرے اللّٰہ تعالیٰ اسے دُرُست کام کی ہدایت دے دیتا ہے ۔ (تفسیر درمنثورج۷ ص۳۵۷)  (۲) حضرت سیِّدُناحسن بصری رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ کا فرمان ہے : ’’کو ئی قوم جب بھی آپس میں مشورہ کر تی ہے اللّٰہ  تعالیٰ اُسے افضل رائے کی طرف ہدایت دے دیتا ہے ۔ (قرطبی ج ۴ ص۱۹۳) (۳) حضرتِ سیِّدُناانس بن مالک  رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ آقائے مدینہ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے اِرشاد فرمایا:مَا خَابَ مَنِ اسْتَخَارَ وَلَا نَدَمَ مَنِ اسْتَشَارَ وَلَا عَالَ مَنِ اقْتَصَدَ یعنی جس نے اِسْتِخَارہ کیا وہ نامراد نہیں ہوگااور جس نے مشورہ کیا وہ نادِم نہیں ہوگا



Total Pages: 139

Go To