Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

دنیا فائدہ کم نقصان زیادہ دیتی ہے

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزنے ایک خطبے میں اِرشاد فرمایا:اِنَّ الدُّنْیَا لَاتُسِرُّبِقَدْرِ مَاتَضُرُّ اِنَّھَاتُسِرُّ قَلِیْلاً وَتَجُرُّ حُزُناً طَوِیْلاً  یعنی بلاشبہ دُنیا اتنی خوشی نہیں دیتی جتنا نقصان پہنچاتی ہے ، یہ مختصر خوشی دیتی ہے اور طویل غم میں مبتلا کردیتی ہے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۳۳)

دس طرح کے افراد دھوکے میں ہیں

                 بُزُرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ المُبِینفرماتے ہیں :دس طرح کے افرادبَہُت دھوکے میں ہیں : (۱) ایک وہ جو اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کو خالِق جان کر (یعنی پیدا کرنے والا جاننے کے باوُجُود بھی) اس کی عِبادت نہیں کرتا (۲) وہ جواللّٰہعَزَّوَجَلَّ کو رَزّاق ماننے کے باوُجُود اُس پر بھروسانہیں رکھتا (۳) وہ جو دنیا کو فانی جاننے کے باوجُود اس پربھروسا کرتا ہے (۴) وہ جو جانتا ہے کہ میرے وارِث میرے دشمن (یعنی وِرثے کی حِرص میں میری موت کے مُنْتَظِر) ہیں پھر بھی ان کے لئے مال جَمع کرتا ہے (۵) وہ جو موت کواٹل مان کربھی اس کی تیّاری نہیں کرتا (۶) وہ جو جانتا ہے کہقَبْر میری منزِل ہے اور پھربھی اس کو آباد(کرنے والے اعمال ) نہیں کرتا (۷) وہ جو جانتا ہے کہ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  حساب لے گامگر پھربھی اپنا حساب صاف نہیں رکھتا (۸) وہ جو جانتا ہے کہ پُل صِراط پر چلنا پڑے گا مگر اپنا(گناہوں کا) بوجھ ہلکا نہیں کرتا(۹) وہ جو جانتا ہے کہ جہنَّم بدکاروں کی جگہ ہے مگر اس سے (یعنی بد کاریوں اور گناہوں سے ) نہیں بھاگتا(۱۰) اور وہ جو جانتا ہے کہجنَّت  اَبرار(یعنی نیکوکاروں ) کی جگہ ہے مگر اِس کی طرف نہیں آتا ۔ حق تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق دے ۔  اٰمِین بِجاہِ النَّبِیِّ الْامین صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم   (رُوح البیان ج۱، ص۴۲ملخصًا)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

نامحرم عورت کے ساتھ تنہائی اِختیار کرنے سے بچو

             حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے ایک شخص کو نصیحت فرمائی : اِیَّاکَ اَنْ تَخْلُوَ بِاِمْرَأَۃِ غَیْرِذَاتِ مَحْرَمٍ وَاِنْ حَدَّثَتْکَ نَفْسُکَ اَنْ تُعَلِّمَھَا الْقُرْاٰنَ  یعنی نامحرم عورت کے ساتھ تنہائی اِختیار کرنے سے بچنا اگرچہ تمہارا نفس تمہیں یہ پٹّی پڑھائے کہ تم تو اُس عورت کو قرآن پاک کی تعلیم دے رہے ہو ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۲۰)

تیسرا شیطان ہوتا ہے

            خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحمَۃٌ لّلْعٰلمینصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکا فرمانِ عبرت نشان ہے :’’لَا یَخْلُوَنَّ رَجلٌ بِامْرَأَۃٍ اِلَّا کَانَ ثَالِثَھُمَا الشَّیْطٰنُ یعنی کوئی شخص کسی عورت(اجنبیہ) کے ساتھ تنہائی میں نہیں ہوتا مگر اُن کے ساتھ تیسرا شیطان ہوتاہے ۔ ‘‘  ( سُنَنُ التِّرْمِذِیّ ج۴ ص۶۷ حدیث ۲۱۷۲) مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت  حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان  اِس حدیثِ پاک کے تحت مراٰۃ جلد5 صَفْحَہ21  پرفرماتے ہیں :یعنی جب کوئی شخص اجنبی عورت کے ساتھ تنہائی میں ہوتا ہے خواہ وہ دونوں کیسے ہی پاکباز ہوں اور کسی (نیک) مقصد کے لیے (ہی) جمع ہوں (مگر) شیطان دونوں کو برائی پر ضَرور اُبھارتا ہے اور دونوں کے دلوں میں ضَرور ہَیجان پیدا کرتا ہے ، خطرہ ہے کہ زِنا واقع کرادے ! اس لیے ایسی خَلوت (یعنی تنہائی میں جمع ہونے ) سے بَہُت ہی احتیاط چاہئے گناہ کے اَسباب سے بھی بچنا لازِم ہے ، بخار روکنے کیلئے نزلہ وزُکام(کو) روکو ۔ (مراٰۃ المناجیح ج۵ ص۲۱)

            حضرت علامہ عبد الرَّء ُوف مَناوی علیہ رحمۃ القوی اِس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں :’’ جب کوئی عورت کسی اجنبی مرد کے ساتھ تنہائی میں اِکٹّھی ہوتی ہے تو شیطان کے لئے یہ ایک نفیس موقع ہوتا ہے ، وہ ان دونوں کے دلوں میں گندے وَسوَسے ڈالتا ہے ، ان کی شہوت کو بھڑکاتا ہے ، حیاء ترک کرنے اور گناہوں میں مُلَوَّث ہو جانے کی ترغیب دیتا ہے ۔ ‘‘

( فیض القدیر شرح الجامع الصغیرج۳ ص۱۰۲ تحتَ الحدیث  ۲۷۹۵)

            دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ’’بہارِ شریعت ‘‘ جلد3حصہ 16صفحہ 449پر ہے :اجنبیہ عورت کے ساتھ خَلوت یعنی دونوں کا ایک مکان میں تنہا ہونا حرام ہے ، ہاں ! اگر وہ بالکل بوڑھی ہے کہ شہوت کے قابل نہ ہو تو  خَلوت ہوسکتی ہے ۔ عورت کو طلاقِ بائن دے دی تو اس کے ساتھ تنہا مکان میں رہنا ناجائز ہے اور اگر دوسرا مکان نہ ہو تو دونوں کے مابین پردہ لگادیا جائے ، تاکہ دونوں اپنے اپنے حصہ میں رہیں یہ اس وَقت ہے کہ شوہر فاسِق نہ ہو اور اگر فاسِق ہو تو ضروری ہے کہ وہاں کوئی ایسی عورت بھی رہے جو شوہر کو عورت سے روکنے پر قادِر ہو ۔ جبکہ محارِم کے ساتھ خَلوت جائز ہے یعنی دونوں ایک مکان میں تنہا ہوسکتے ہیں مگر رَضاعی بہن اور ساس کے ساتھ تنہائی جائز نہیں جبکہ یہ جوان ہوں ۔ یہی  حُکمعورت کی جوان لڑکی کا ہے جو دوسرے شوہر سے ہے ۔ (بہار شریعت ، ج۳، حصہ۱۶، ص۴۴۹)

جہالت سے بڑھ کر کوئی درد اور گناہوں سے بڑھ کر کوئی بیماری نہیں

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزایک دن منبر پر جلوہ افروز ہوئے اور حمدوثنا کے بعد فرمایا:لوگو!جہالت سے بڑھ کر کوئی درد ، گناہوں سے بڑی کوئی بیماری نہیں اور خوفِ موت سے بڑھ کرکوئی خوف نہیں ہے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۴۴)

گناہوں پر اِصرار ہلاکت ہے

             حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے ایک خطبے میں فرمایا: لوگو! جس نے کسی گناہ کا اِرتکاب کیا ہو وہ  اللّٰہعَزَّوَجَلَّ سے معافی مانگے اور توبہ کرے ، دوبارہ گناہ ہوجائے تو پھر توبہ کرے ، پھر گناہ ہوجائے تو پھر توبہ کرے مگر یاد رکھو کہ گناہ پر اِصرار بدترین ہلاکت ہے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۳۳)

                 میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! گناہوں کا اَنجام ہلاکت ورُسوائی کے سوا کچھ نہیں ،  لہذا! اس سے پہلے کہ پیامِ اَجَل آن پہنچے اور ہم اپنے عزیز واَقرِباء کو روتا چھوڑ کر اور دنیا کی رونقوں سے منہ موڑ کر ،  قَبر کے ہولناک اورتاریک گڑھے میں تنہاجاسوئیں ، ہمیں چاہئے کہ ان گناہوں سے چھٹکارے کی کوئی تدبیر کریں ۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے پروردگارعَزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں سچی توبہ کریں کیونکہ سچی توبہ ایسی چیز ہے جو ہر قسم  کے گناہ کو انسان کے نامۂ اعمال سے دھو ڈالتی ہے ، سَروَر ِ عالَم ، نور مجسم صلَّی اللّٰہ تعالٰی  علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اِرشاد فرمایا: ’’اَلتَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ کَمَنْ



Total Pages: 139

Go To