$header_html

Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

فرمایا: نہیں !وہ تمہارے مال سے محبت کرتے ہیں ، جسے وہ کھاتے ہیں مگر اس کا بوجھ تمہارے سر آئے گا، لہٰذا رب عَزَّوَجَلَّ سے ڈرو اور انہیں  صِرف حلال وپاکیزہ روزی کھلاؤ ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۴۶ملتقطًا)

 کیوں روتے ہو؟

            ایک شخص شدید بیمار تھا ، ایسا لگتاتھا کہ دنیا میں کچھ ہی دیر کا مہمان ہے ۔ اس کے بچے ، زوجہ اورماں باپ اِرد گِرد کھڑے آنسو بہارہے تھے ۔ اس نے اپنے والد سے پوچھا:’’ ابا جان! آپ کو کس چیز نے رُلایا ؟‘‘ کہنے لگے : ’’میرے جگر کے ٹکڑے ! جُدائی کا غم رُلا رہا ہے ، تمہارے مرنے کے بعد ہمارا کیا بنے گا ؟‘‘ اس شخص نے اپنی والدہ سے پوچھا:’’پیاری امّی جان!آپ کیوں رو رہی ہیں ؟‘‘ ماں نے جواب دیا : ’’ میرے لال! دنیا سے تیری رُخصتی کا سوچ کر رو رہی ہوں ، میں تیرے بغیر کیسے رَہ پاؤں گی ۔ ‘‘ پھراپنی بیوی سے پوچھا: ’’تمہیں کس چیز نے رونے پر مجبور کیا؟‘‘ اس نے بھی کہا :’’ میرے سرتا ج! آپ کے بغیر ہماری زندگی اجیرن ہوجائے گی ، جُدائی کا غم میرے دل کو گھائل کر رہا ہے ، آپ کے بعد میرا کیا بنے گا؟‘‘ پھر اپنے روتے ہوئے بچو ں کو قریب بلایا اور پوچھا: ’’میرے بچو! تمہیں کس چیز نے رُلایا ہے ؟‘‘ بچے کہنے لگے :’’آپ کے وِصال کے بعد ہم یتیم ہوجائیں گے ، ہمارے سر سے باپ کا سایہ اٹھ جائے گا، آپ کے بعد ہمارا کیا بنے گا؟‘‘ ان سب کی یہ باتیں سن کر وہ شخص کہنے لگا: ’’تم سب اپنی دنیا کے لئے ر ورہے ہو، تم میں سے ہر شخص میرے لئے نہیں بلکہ اپنا نفع خَتم ہوجانے کے خوف سے رو رہا ہے ، کیا تم میں سے کوئی ایسا بھی ہے جسے اس بات نے رُلایا ہو کہ مرنے کے بعد  قَبرمیں میرا کیا حال ہوگا ،  عنقریب مجھے وحشت ناک تنگ وتاریک  قَبر میں چھوڑ دیا جائے گا ، کیا تم میں سے کوئی اس بات پر بھی رویا کہ مجھے مرنے کے بعد منکرنکیر (یعنی  قَبر میں سوالات کرنے والے فِرِشتوں ) سے واسطہ پڑے گا!کیاتم میں سے کوئی اس خوف سے بھی رویا کہ مجھے میرے پرور دگار عَزَّوَجَلَّکے سامنے حساب وکتاب کے لئے کھڑا کیا جائے گا !آہ! تم میں سے کوئی بھی میری اُخروی پریشانیوں کی وجہ سے نہیں رویا بلکہ ہر ایک اپنی دنیا کی وجہ سے رو رہا ہے ۔ ‘‘اس گفتگو کے کچھ ہی دیر بعد اس کی رُوح قَفَسِ عُنْصُریسے پرواز کرگئی ۔ (عیون الحکایات ص۹۸ملخصًا)

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اس حکایت میں ہمارے لئے عبرت ہی عبرت ہے کہ وہ اہل وعِیال جن کے عیش وآرام کے لئے ہم اپنی نیندیں قربان کردیتے ہیں ، جنہیں آسائشیں دینے کے لئے ہم بڑی خوشی سے مَشَقَّتیں برداشت کرتے ہیں ، جن کی راحتوں کے لئے ہم خود کو غموں کے حوالے کردیتے ہیں ، جواباً یہ بھی دنیا میں ہمارا بڑا خیال رکھتے ہیں مگر جونہی ہمارا سفرِ زندگی خَتم ہوتا ہے انہیں ہماری نہیں اپنی فِکر ستانے لگتی ہے کہ اِس کے جانے کے بعد ہمارا کیا بنے گا ؟کاش وہ یہ بھی سوچتے کہ مرنے کے بعد اِس کا کیا بنے گا؟اور ہمارے لئے دُعائے مغفرت وایصالِ ثواب کی کثرت کرتے ۔   ؎

جبکہ پَیکِ اَجَل رُوح لے جائیگا              بے جاں تڑپ کر ٹَھہَر جائیگا

لَحد میں کوئی تیری نہیں آئے گا              جسمِ تجھ کو دفنا کے ہر اِک پلٹ جائے گا(وسائلِ بخشش، ص۶۲۹)

عمل نے کام آنا ہے

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دوسروں کی دُنیاروشن کرنے کے لئے اپنی  قَبر میں اندھیرا مت کیجئے ، دَولت و مال اور اَہل وعِیال کیمَحَبَّت میں نیکیاں چھوڑئیے نہ گناہوں میں پڑئیے کہ ان سب کا ساتھ تو آنکھ بند ہوتے ہی چھوٹ جائے گا جبکہ نیکیاں اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ قَبْروآخِرت بلکہ دنیامیں بھی کام آئیں گی، اس لئے جلدی کیجئے اورخوفِ خداوعِشقِ مصطفیعَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالٰی علیہواٰلہٖ وسلم پانے ، دل میں صَحابۂ کِرام واولیائِ عُظام  رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن   کی محبت جگانے ، نیک صحبتوں سے فیض اُٹھانے ، نَمازوں اور سنّتوں کی عادت بنانے کیلئے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے ہر دم وابَستہ رہئے ، عاشقانِ رسول کے مَدَنی قافِلوں میں سنّتوں کی تربیت کیلئے سفَر اِختیار کیجئے اورکامیاب زندَگی گزارنے اور اپنی آخِرت سنوارنے کیلئے  روزانہ’’ فِکرِ مدینہ‘‘ کے ذَرِیعے مَدَنی انعامات کا رِسالہ پُر کیجئے اور ہر مَدَنی ماہ کے ابتدائی 10 دن کے اندر اندر اپنے یہاں کے ذمّے دار کو جمع کروانے کا معمول بنا لیجئے ۔ ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتِماع میں شرکت کیجئے اور دعوتِ اسلامی کے ہر دلعزیز مَدَنی چینل کے سلسلے دیکھئے ۔ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ  آپ اپنے دل میں اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے مُقَرَّبِین وصالِحینکیمَحَبَّت کو دن بدن بڑھتا ہوا محسوس فرمائیں گے ، اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے فضْل وکَرَم سے اِن نُفُوسِ قُدسِیَّہ کا فیضان اور اِن کی نظرِشفقت شاملِ حال ہو گی ۔ ترغیب کیلئے ایک مَدَنی بہارپیش کی جاتی ہے چُنانچِہ امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ لکھتے ہیں :

آقا نے اپنے مشتاق کو سینے سے لگا لیا

          ثناخوانِ رسولِ مقبول، بُلبلِ روضۂ رسول، مدّاحِ صحابہ وآلِ بتول، گلزارِ عطّارؔ کے مُشکبار پھول، مبلِّغ دعوتِ اسلامی الحاج قاری حاجی ابو عُبیدمشتاق احمد عطّاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیکی وفات سے چند ماہ قَبل مجھے ( سگِ مدینہعُفِیَ عَنْہ کو )  کسی اسلامی بھائی نے ایک مکتوب اِرسال کیا تھا، اُس میں انہوں نے بَقسم اپنا واقِعہ کچھ یوں تحریر کیا تھا: میں نے خواب میں اپنے آ پ کوسُنہری جالیوں کے رُوبرو پایا، جالی مُبارَک میں بنے ہوئے تین سوراخ میں سے ایک سوراخ میں جب جھانکا تو ایک دلربا منظر نظر آیا، کیا دیکھتا ہوں کہ سرکارِ مدینہ، راحتِ قلب وسینہ ، فیض گنجینہ ، صاحِبِ مُعطَّر پسینہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم تشریف فرما ہیں اور ساتھ ہی شیخینِ کریمین یعنی حضرتِ سیِّدُنا ابو بکر صِدِّیق اور حضرتِ سیِّدُنا عُمر فاروقِ اعظمرضی اللّٰہ تعالٰی عنہما بھی حاضِرِ خدمت ہیں ۔ اتنے میں حاجی مُشتاق عطّاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی بارگا ہِ محبوبِ باری صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں حاضِر ہوئے سرکارِعالی وقارصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے حاجی مُشتاق عطّاری کو سینے سے لگالیا اور پھر کچھ اِرشاد فرمایا مگر وہ مجھے یاد نہیں پھر آنکھ کُھل گئی ۔

آپ کے قدموں سے لگ کر موت کی یا مصطفٰے

آرزو کب آئے گی بَر بیکس و مجبور کی

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                                   صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 



Total Pages: 139

Go To
$footer_html