$header_html

Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

سے دی ہے ۔ (طبقات ابن سعد، ج۵ ، ص۳۱۲)

 ہر ایک کو سو دینار پیش کیجئے

          امیر المؤمنینحضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز نے حَمص کے گورنر کو خط لکھا کہ’’آپ عوام میں ان لوگوں کو تلاش کیجئے جنہوں نے خود کوفقہ کی تعلیم حاصِل کرنے کے لئے وَقف کر رکھا ہے اور طَلَبِ دنیا سے منہ موڑ کر مسجدوں کی زینت بنے ہوئے ہیں ، جیسے ہی میرا یہ خط ملے توان میں سے ہر ایک کو بیت المال سے سو سو دینار دے دیجئے تاکہ فقہ کی تعلیم حاصِل کرنے میں انہیں کوئی مشکل نہ ہو ۔ ‘‘(تاریخ دمشق ج۴۶ ص ۳۲۰)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

علمی مراکز قائم کئے

            حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزنے بہت سے ممالک کے لوگوں کی تعلیم کے لئے خود متعدِّد علماء کرام کو روانہ کیا ، چُنانچِہ ٭  حضرتِ سیِّدنا نافِعرحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ جو حضرتِ سیِّدنا عبداللّٰہبن عمر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہماکے غلام اور مدینہ کے فقیہ تھے ، ان کو مِصر بھیجا کہ وہاں کے لوگوں کو حدیث کی تعلیم دیں ، چنانچہ حضرتِ سیِّدنا نافعرحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے وہاں مدتوں قیام کیا ۔ (حسن المحاضرۃ ، ج۱، ص۲۵۸) ٭حضرتِ سیِّدنا جُعثُل بن ہاعان رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ جو قُرّاء میں تھے ، ان کو مِصر سے مغرب (یعنی یورپ) بھیجا کہ وہاں جا کر لوگوں کو قر اء ت کی تعلیم دیں ۔ (حسن المحاضِرۃ ، ج۱، ص۲۵۸) ٭بَدّوؤں کی تعلیم وتربیت کے لیے حضرتِ سیِّدنا یزید بن ابی مالک دِمشقیرحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ اور حضرتِ سیِّدنا حارث بن مجید اَشعری  رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ کو متعین کیا، اور ان کے وظیفے مقرر کئے (سیرت ابن جوزی ص۹۲) ٭تعلیم کے علاوہ لوگوں کی اِصلاح کے لیے تمام ممالک محروسہ میں واعظ اور مفتی مقرر کئے چنانچہ حضرت حلاج ابوکثیر اموی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القویکو جو اُن کے باپ کے مولیٰ (یعنی آزاد کردہ غلام) تھے ، اِسکندریہ کا واعِظ مقرر کیا ۔ (حسن المحاضِرۃج۱ص۲۲۲) ٭ حجاز میں جو واعظ اس خدمت پر مامور تھے ان کوہدایت تھی کہ تیسرے دن لوگوں کو وعظ و نصیحت کیا کریں ۔ (سیرت ابن جوزی ، ص ۹۰) ٭اِفتاء کی خدمت پر متعدد لوگ مامور تھے جو یکتائے روزگار تھے ، مثلاً مِصر میں یہ ذمّہ داری حضرتِ سیِّدنا یزید بن ابی حبیب رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہکی تھی، اور یہ وہ بزرگ ہیں جنہوں نے سب سے پہلے اہلِ مِصر کو فقہ وحدیث سے آشنا کیا چنانچہ علامہ جلالُ الدین سیوطی شافعی  عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الباری حسن المحاضِرہ میں لکھتے ہیں :ھُوَاَوَّلُ مَنْ اَظْھَرَ الْعِلْمَ بِمِصْرٍوَالْمَسَائِلَ فِی الْحَلَالِ وَالْحَرَامِ وَقَبْلَ ذٰلِکَ کَانُوْا یَتَحَدَّثُوْنَ فِی التَّرْغِیْبِ وَالْمَلَاحِمِ وَالْفِتَنِ وَھُوَ اَحَدُ ثَلَاثَۃٍ جَعَلَ اِلَیْہِمْ عُمَرَ بْنُ عَبْدِالْعَزِیْزِ اَلْفَتَیَا یعنی حضرتِ سیِّدُنا یزید بن ابی حبیب (رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ) وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے مِصر میں عِلم کو شائع کیا اور حلال و حرام کے مسائل عام کئے ، اس سے پہلے وہاں کے لوگ  صِرف ترغیب اور جنگ وغیرہ کے متعلق بیانات کرتے تھے اور یہ اُن تین اشخاص میں سے ہیں جن کو حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزنے اِفتاء کی خدمت کے لئے بھیجا تھا ۔ (حسن المحاضرۃ ، ج۱، ص۲۵۹)

علما کا اثر ورُسُوخ

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزیز کے دورِ حکومت کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ ان کے زمانے میں علماء کا رُسوخ و اِقتدار بہت زیادہ ترقی کرگیا، وہ ہمیشہ علماء سے مشورہ لیتے تھے ، علماء سے صحبت رکھتے تھے اور علماء کو مقرب بارگاہ بناتے تھے ، متعدد علماء ان کے خواص میں تھے ، چنانچہ عدی بن اَرطاۃ کو جو ہمیشہ شَرعی اُمور میں ان سے مشورہ لیا کرتے تھے ، لکھا : ’’ گرمی اور سردی میں تم ہمیشہ ایک مسلمان کو تکلیف دیتے ہو کہ مجھ سے سنت کے متعلق اِستِفسارکرے ، تم اس طریقے سے میری تعظیم کرتے ہو، خداعَزَّوَجَلَّ کی قسم !حضرتِ حَسَن بصری(رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ) تمہارے لیے کافی ہیں ، جب یہ خط پہنچے تو میرے لیے ، اپنے لیے اور عام مسلمانوں کے لیے اُنہی سے اِستِفسار کیا کرو، خداوند تعالیٰ حضرت حسن بصری(رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ) پر رحم کرے کہ وہ اسلام میں ایک بڑے درجہ کے شخص ہیں ، لیکن اُن کو میرا یہ خط نہ دکھانا ۔  (سیرتِ ابن جوزی ص۱۲۱)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

فنِ مَغازی اور مَناقبِ صحابہ کی تعلیم و اشاعت

            بیان ِمَغازِی(یعنی غزوات کے بیان) اور مَناقبِ صحابہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہم  کی طرف اب تک علمی حیثیت سے کسی نے توجہ نہیں دی تھی، حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزیز نے خاص طور پر ان کی طرف توجہ کی اور حضرتِ سیِّدُناعاصم بن عمر بن قتادہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کو جو مَغازی اور سیرت میں کمال رکھتے تھے ، ان کو درخواست کی کہ مسجدِ دِمشق میں بیٹھ کر مغازی اور مناقب کا دَرس دیں ۔ (تاریخِ دمشق، ج ۲۵ص۲۷۷)

یُونانی تصنیفات کی اِشاعت

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزیز کا مقصودِ اصلی اگرچہ کتاب و سنت کی اِشاعت کرنا تھا اور انہوں نے ہر ممکِن تدبیر سے اس کی اشاعت بھی کی ، تاہم غیر قوموں کے مُفِید علوم و فنون سے بھی انہوں نے مسلمانوں کو بالکل بیگانہ نہیں رکھا ۔ طِب میں ایک یونانی حکیم ’’اَہرن لاقس‘‘ کی ایک مشہور کتاب تھی جس کا ترجمہ’’ ماسر جیس‘‘ نے مَروان بن حکم کے زمانہ میں  عَرَبی زبان میں کیا تھا ۔ یہ کتاب شامی کُتُب خانہ میں محفوظ تھی، حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزیز نے اس کو دیکھا تو چالیس روز تک اِستخارہ کیا پھر اس کو ملک میں شائع کیا ۔ (عیون الانباء فی طبقا ت الاطباء، جز ۱ ص ۱۴۸)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

نَماز کی تاکید

          عقائد کے بعد اَعمال کا درجہ ہے ، جن میں سب سے مُقَدَّم نَماز ہے ، پہلے کے حکامِ بالا نے نَماز کے ساتھ جو غفلت برتی اُس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اوقات نَماز کی پابندی جو صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضوَانکے زمانے میں نہایت ضروری چیز خیال کی جاتی تھی بالکل جاتی رہی لیکن حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزنے تمام عُمّال کے نام ایک فرمان بھیجا :اِجْتَنِبُوا الْاَشْغَالَ عِنْدَحُضُوْرِ الصَّلٰوۃِ فَمَنْ اَضَاعَہَا فَھُوَ لِمَا سِوَاھَا مِنْ شَرَائِعِ الْاِسْلَامِِ اَشَدُّ تَضْیِیْعاًً نَماز کے وَقت تمام کام چھوڑ دو کیونکہ جس شخص نے نَماز کو ضائع کردیا وہ اِس کے علاوہ دیگر فرائضِ اسلام کا بھی



Total Pages: 139

Go To
$footer_html