Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

ضروریات اب خوب پوری ہورہی ہیں ۔ ‘‘ یہ سُن کر حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیزبے حد خوش ہوئے اور فرمایا:واللّٰہ!اگر تمام شہروں کی حالت یہی ہو تو یہ مجھے ان تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے جن پر سورج کی شعائیں پڑتی ہیں ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۱۱۱)

 

نعمتوں کا شکر اداکریں

            عدی بن اَرطاۃ نے حضرتِ سیِّدناعمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الْقَدِیر کی خدمت میں خط لکھا کہ لوگوں کی خوش حالی اور مال کی فَراوانی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ مجھے ڈر ہے کہ کہیں ان میں جھگڑے اور تکبُّر نہ پیدا ہوجائے ۔ آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے جواب میں لکھا : اللّٰہعَزَّوَجَلَّ جب جنتیوں کو جنت اوردوزخیوں کو دوزخ میں داخل فرمائے گا تو اہلِ جنت کے اِس قول پر راضی ہوجائے گا:اَ لْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ صَدَقَنَا وَعْدَہٗ یعنی اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کا بے حد شکر ہے جس نے ہم سے اپنا وعدہ سچا کردکھایا ۔  لہذا اپنے یہاں کے لوگوں کو کہو کہ وہ  اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کا شکر کیا کریں (یعنی شکر کی برکت سے تکبُّر سے حفاظت رہے گی ، اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ  ۔ ) (سیرت ابن عبدالحکم ص۵۸)

نعمت کی حفاظت کا طریقہ

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے فرمایا:اَ یُّھَاالنَّاسُ قَیِّدُوا النِّعَمَ بِالشُّکْرِ  یعنی نعمت کی حفاظت شکر سے کرو ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۷۶)

نعمت کا ذکر بھی شکر ہے

حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے فرمایا:ذِکْرُ النِّعَمِ شُکْرٌ  یعنی نعمت کا ذِکر بھی شکر ہے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۷۶)

شکر کی توفیق ملنا بھی سعادت ہے

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے ایک مکتوب میں لکھا:اِنَّ اللّٰہَ لَمْ یُنْعِمْ عَلٰی عَبْدٍ نِعْمَۃً فَحَمِدَ اللّٰہَ عَلَیْہَا اِلَّا کَانَ حَمْدُہٗ اَفْضَلَ مِنْ نِعْمَتِہٖ یعنی جب اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  کسی بندے کو نعمت عطافرمائے اور وہ بندہ اُس کی حَمد کرے تو یہ حَمد کرنا اس نعمت سے افضل ہے ۔ (درمنثور ج۶ص۳۴۴)

شکر کیسے کریں ؟

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے فرمایا:شُکْرُ اللّٰہ تَرْکُ الْمَعْصِیَۃِ  یعنی اللّٰہ تعالیٰ کا شُکر ادا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ بندہ اس کی نافرمانی چھوڑ دے ۔ (درمنثور ج۱ ص۳۷۱ )

نیکی کرنے پر اللّٰہ  کا شکر ادا کرو

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزنے فرمایا: مَنْ اَحْسَنَ مِنْکُمْ فَلْیَحْمِدِ اللّٰہَ وَمَنْ اَسَائَ فَلْیَسْتَغْفِرِ اللّٰہَ یعنی نیکی پر اللّٰہ کا شکر اور گناہ ہوجانے پر اس سے مغفرت طَلَب کرو ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۳۳)

شکر سے نعمتوں میں اِضافہ ہوتا ہے

             حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے ایک خط میں لکھا : میں تمہیں شُکر کی ترغیب دیتا ہوں کیونکہ شکر سے نعمتوں میں اِضافہ اور ناشکری سے ان کاخاتمہ ہوتا ہے ، تم عِلم کو اس وَقت تک حاصِل نہیں کرسکتے جب تک اسے جہالت پر ترجیح نہ دو ، اِسی طرح حق کو نہیں پاسکتے جب تک باطِل کو نہ چھوڑ دو ۔ (حلیۃ الاولیاء ج ۵ ص۳۰۲)

بہن کے جنازے میں شرکت کرنے والوں کا شکریہ ادا کیا

            حضرتِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن نافعرحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز کی بہن فوت ہوگئی ، اُس کی تدفین کے بعد لوگ آپ کے ساتھ گھرتک گئے ، دروازے پر پہنچ کر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے فرمایا:آپ لوگوں نے اپنا حق ادا کردیا ہے ، اللّٰہعَزَّوَجَلَّ آپ کو اس کا ثواب عطافرمائے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۲۷۴)

اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔ اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حضرت  عمر بن عبدالعزیز بطورِ مُجَدِّ د

              حضرت سیِّدُنا ابو ہُریرہ  رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ حضور سراپا نور، فیض گنجور، شاہ ِغیور  صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :’’اِنَّ اللّٰہَ یَبْعَثُ لِھٰذِہِ الْاُمَّۃِ عَلٰی رَأْسِ کُلِّ مِائَۃِ سَنَۃٍ مَنْ یُّجَدِّدُ لَھَا دِیْنَھَا ترجمہ :بے شک اللّٰہ تعالیٰ اس امّت کے لیے ہر صدی (سوسال) کے سِرے پر ایسے شخص کو بھیجے گا جو اس دین کی تجدید کرے گا ۔ (سنن ابوداوٗد، الحدیث ۴۲۹۱ ج۴ ص۱۴۸ )

            شیخ الاسلام بدرُالدین اَبدال  رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں ، ’’عُمُوماً ایسا ہی ہوتا ہے کہ صدی کے خَتم ہوتے ہوتے علمائے امّت بھی خَتم ہوجاتے ہیں ۔ دینی باتیں مٹنے لگتی ہیں ، بدمذہبی اوربِدعَت ظاہر ہوتی ہے ، اس واسطے دین کی تجدید کی ضَرورت پڑتی ہے ۔ اس وَقت اللّٰہ تعالیٰ ایسے عالِم کو ظاہر کرتا ہے جو اِن خرابیوں کودُور کردیتاہے اوران برائیوں کو سب کے سامنے علی الاعلان بیان کر کے دین کو اَز سرِنَو نیا کردیتا ہے ۔ وہ سَلَف صالحین کا بہتر عِوَض ، خیر الخلف(یعنی اچھا جانشین) اورنعم البدل ہوتاہے ۔ ‘‘ ( حیات اعلیٰ حضرت ج۳ ص۱۲۶ بحوالہ رسالہ مرضیہ فی نصرۃ مذہب الاشعریۃ ) تجدیدِ دین کا معنی بیان کرتے ہوئے خلیفۂ اعلیٰ حضرت ، مَلِکُ الْعُلَماء ، حضرت علامہ محمد ظفرالدین بِہاری علیہ رحمۃالباری فرماتے ہیں : ’’تجدید کے معنٰی یہ ہیں کہ ان میں ایک صفت یا صفتیں ایسی پائی جائیں ، جن سے امّت محمدیہ علی صاحبہا افضل الصلوۃ والتسلیم کو دینی فائدہ ہو ۔ جیسے تعلیم وتدریس ، وَعظ، اَمر بِالمعروف ، نَہی عَنِ المُنکر، لوگوں سے مکروہات کا دفع، اَہلِ حق کی اِمداد ۔ ‘‘ 



Total Pages: 139

Go To