Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

بولے : میری ضَرورت  صِرف یہ ہے کہ اہل ِعراق اور ان کے ساتھ حُکَّام و عُمّال کے طرزِ عمل کے متعلِّق حالات دریافت کرو ۔ میں نے لوگوں سے اس کے متعلِّق سوال کیا تو سب کو عُمّال کا مداح پایا، واپَس آکر حضرتِ عمر بن عبدالعزیز کو اس کی اطلاع دی، تو انہوں نے خدا کا شکر ادا کیا اورفرمایا: اگر تم نے اس کے خِلاف  خبر دی ہوتی تو میں ان کو معزول کردیتا ۔

ذِمّیوں کے حقو ق کی حفاظت

            ذِمّیوں کے حُقُوق کی نگہداشت اسلامی حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے ، حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزیز نے جس طرح ان تمام چیزوں کی نگہداشت کی اس کی نظیر خِلافت ِ راشِدہ کے سِوا اور خلفاء کے دور میں بہ مشکل مل سکتی ہے ، انہوں نے ذِمّیوں کی جائیداد کی حفاظت میں خاندانی تعلقات کی بھی پروا نہیں کی، ان کے عہد میں ذِمّیوں کی تمام چیزیں اس قَدَر محفوظ تھیں کہ ان سے ذرہ برابر بھی تعرُّض نہیں کیا جاسکتا تھا، جان جائیداد سے بھی زیادہ عزیز شے ہے اور حضرتِ عمر بن عبدالعزیز نے ذِمّیوں کی جان کو مسلمانوں کی جان کے برابر سمجھا ۔

گرجاگھر کا مقدمہ

             دِمشق میں عیسائیوں کا ایک گرجا تھا، جو خاندانِ بنو نضر کی جاگیر میں آگیا تھا، عیسائیوں نے حضرتِ عمر بن عبدالعزیز کی خدمت میں اس کا دعویٰ کیا اور انہوں نے اس کو واپَس دِلا دیا ۔ ایک اور مسلمان نے ایک گرجے کی نسبت دعویٰ کیا کہ وہ اس کی جاگیر میں ہے لیکن حضرتِ عمر بن عبدالعزیز رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے کہا کہ اگر یہ عیسائیوں کے معاہدے میں داخِل ہے تو تم اس کو نہیں پاسکتے ۔ (فتوح البلدان ج۱ ص۱۴۷ تا ۱۴۹)

جِزیہ کی وُصولی میں تخفیف

            جِزیہ کی تخفیف اور وُصولی میں حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزیزنے ہمیشہ ذِمّیوں کے ساتھ نہایت نَرمی کا برتاؤ کیا ۔ وہ پہلے اپنے جِزیہ میں مصالحۃ سالانہ کپڑے دیا کرتے تھے ، اس کے بعد جب ان کی تعداد میں کمی واقع ہونا شروع ہوئی تو حضرتِ سیِّدُنا عثمان اور حضرتِ سیِّدُنا امیر معاویہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما نے کپڑوں کی تعداد میں کمی کردی ۔ عراق میں جب ابن الاشعث نے حجاج سے بغاوت کی، تو اس نے وہاں کے ذمہ داروں پر اس کی اِعانت کا اِلزام قائم کیا اور اس کے خراج و جِزیہ کو بہت زیادہ  سَخت کردیااوراس میں غیر معمولی اِضافہ کردیا، یعنی سالانہ آٹھ سو رنگین کپڑے ان پر لازم کردیئے ، حضرتِ عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزیزکے دورِ خِلافت میں ان لوگوں نے اپنے مصائب کا اظہار کیا تو انہوں نے گھٹا کر دو سو کپڑے کردیئے جن کی قیمت آٹھ ہزار دِرہم تھی ۔ (فتوح البلدان، ج۱ ، ص ۸۰، ملخصًا)

نَرمی کرو

             حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزیزعُمّال کو حُکم بھیجتے رہتے تھے کہ ذِمّیوں کے ساتھ ہر قسم کی اَخلاقی رعایتیں کی جائیں ، چنانچہ ایک بار عدی بن اَرطاۃ کو لکھا کہ ذِمّیوں کے ساتھ نَرمی کرو، اگر ان میں کوئی شخص بوڑھا ہوجائے اور وہ نادار ہو تو اس کے اخراجات کے کفیل بن جاؤ اور اگر اس کا کوئی رشتہ دار ہوتو اس کو  حُکم دو کہ وہ اس کے اَخراجات برداشت کرے ، جس طرح تمہارا کوئی غلام بوڑھا ہوجائے تو اس کو آزاد کرنا پڑے گا، یا تادمِ مَرگ اس کو کھلانا پڑے گا ۔ (طبقات ابن سعد، ج۵ ، ص۲۹۶)

ظُلم کی نشانیاں مٹا دیں

            اگر چہ یہ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزیز کی خوش قسمتی تھی کہ سلیمان بن عبدالملک نے حجاج کے تمام مقرر کردہ عُمّال کو معزول کرکے اس کے جبارانہ اِقتدار کو بہت کچھ مٹا دیا تھا، تاہم اب تک اس کے ظُلم و سِتَم کی جو یادگاریں باقی تھیں ، حضرت عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزیزنے ان کا بھی خاتمہ کردیا، حجاج کے  تمام خاندان کو یمن کی طرف جلا وطن کردیا اور وہاں کے عامِل کو لکھا کہ میں تمہارے پاس حجاج کے خاندان کو بھیجتا ہوں ، ان کو اپنی حکومت میں اِدھر اُدھر منتشر کردو ۔ (سیرت ابن جوزی ص۱۰۹)

زائد رقم واپَس لوٹا دی

             صدقات میں پہلے جو زائد رقمیں وُصول کی جاتی تھیں ، حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزیزنے ان تمام رقموں کو واپَس کردیا ۔ ایک بار عامِل صَدقہ وُصول کرکے آیا تو حضرتِ عمر بن عبدالعزیز نے اس کی مِقدار پوچھی، اس نے مِقدار بتائی تو پوچھا کہ تم سے پہلے کس مِقدار میں صَدقہ وُصول ہوتا تھا؟ اس نے اس سے زیادہ مِقدار بتائی، فرمایا: یہ کہاں سے وُصول ہوتی تھی؟ اس نے کہا:گھوڑوں اور خدام وغیرہ پر لی جاتی تھی ۔ یہ سن کر آپ نے ان رقموں کو بالکل معاف کردیا اورفرمایا: میں نے معاف نہیں کیا خدا عَزَّوَجَلَّنے معاف کیا ۔ (طبقات ابن سعد، ج۵ ، ص۲۹۳) اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔ اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

قیدیوں کو سہولتیں دیں

            مُجرِموں کو جرائم پر سزا دینا اگرچہ قیامِ اَمن کے لیے ضروری ہے تاہم عُرف و تمدُّن کے لحاظ سے سزا کی نوعیت اور مُجرِمین کی حالت میں اِختلاف ہوتا رہتا ہے ،  اسلام چونکہ ایک مُتَمَدَّن سلطنت کا بانی تھا اس لیے اس نے قیدیوں کے ساتھ ان تمام مُراعات کو قائم رکھا جو مقتضائے انسانیت تھیں مثلاً عام  حُکم دیا کہ کسی مسلمان قیدی کو اتنی بھاری بیڑیاں نہ پہنائی جائیں کہ وہ نَماز نہ پڑھ سکیں (سیرت ابن جوزی ص۸۹) قیدیوں کی مختلف نوعیت اور مختلف حالت کے لحاظ سے ان کے لیے الگ الگ اَحکام جاری کئے ، چنانچہ تمام صوبوں کے گورنروں کو لکھا کہ اگر بیمار قیدیوں کے عزیز و اقارِب نہ ہوں یا ان کے پاس مال نہ ہو تو ان کی خبر گیری کرو، جو لوگ قَرض کے بارے میں قید کئے جائیں ان کو اور مُجرِموں کے ساتھ ایک کوٹھڑی میں نہ رکھو، اور عورتوں کو الگ قید کرو، قیدیوں کو سردیوں اور گرمیوں میں لباس فراہم کرواور جیلر ایسا شخص مقرر کرو جو قابلِ اِعتِماد ہو اور رشوت نہ لے ۔ ان اَحکام کے ساتھ ابوبکر بن حزم کو خصوصیت کے ساتھ لکھا کہ ہفتہ کے روز جیل خانہ کا معائنہ کیا کریں ۔ ان کے علاوہ  دیگرعُمّال کوبھی قیدیوں کے ساتھ حسنِ سُلُوک کرنے کی ہدایت کی ۔

(طبقات ابن سعد، ج۵ ، ص۲۷۶ملخصًا)

مسلمان قیدیوں کا فدیہ

 



Total Pages: 139

Go To