$header_html

Book Name:Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat

رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزیز کے دورِ خِلافت میں سب سے زیادہ نمایاں نظر آتا ہے انہوں نے تختِ خِلافت پر متمکن ہونے کےساتھ ہی تمام مفاسِد کی اِصلاح کرنی چاہی لیکن اس کے لیے سب سے بڑی ضَرورت ان پُرزوں کی تھی جو نہایت نیک نیتی اور خُلوص کے ساتھ سلطنت کی کُل کو چلَائیں اور انکے زمانہ میں اس قسم کے اہل اَفراد تقریباً مَفقُودہوچکے تھے ۔ حضرتِ عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزیزکو صاف نظر آتا تھا کہ انہیں جس قسم کے مددگاروں کی ضَرورت ہے وہ سرکاری دفتروں میں نہیں مل سکتے ، اس لیے وہ اپنی نگاہ کو دُور دُور تک دوڑاتے تھے اور جہاں کہیں کوئی مرغ بلند آشیاں نظر آتا تھا اس کو اس جال میں پھنسانا چاہتے تھے جس میں خود گِرِفتار ہوچکے تھے ۔ اَہل افراد ملیں نہ ملیں عُمّال سلطنت کا تقرر فوری طور پر کرناضروری تھا اس لئے حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزیز نے تختِ حکومت پر بیٹھتے ہی مختلف اشخاص کو ذمہ داری کے مختلف عہدے دیئے جن کے ناموں کی تفصیل حسبِ ذیل ہے :

            ابوبکر بن محمد بن حزم کوسلیمان بن عبدالملک نے مدینہ منورہ کا گورنر مقرر کیا تھا اور حضرتِ عمر بن عبدالعزیز نے بھی ان کو اس عہدے پر قائم رکھا ۔ عبدالعزیز بن عبداللّٰہ بن خالد کو مکہ کا گورنر مقرر کیا ۔ عبدالحمید بن عبدالرحمن بن زید بن خطاب  کو کوفہ کا گورنر مقرر کیا ۔ عدی بن اَرطاۃکو بصرہ کا گورنر مقرر کیا ۔ مسح بن مالک خولانی کواندلس کا گورنر مقرر کیا ۔ عمر بن ھبیر کوجزیرہ کا گورنر مقرر کیا ۔ اسماعیل بن عبداللّٰہ مخزومی  کو افریقہ کا گورنر مقرر کیا ۔ جراح بن عبداللّٰہ الحکمیکو خراسان کا گورنر مقرر کیا ۔ (الکامل فی التاریخ، ج۴، ص۳۱۶، ۳۲۳ وتاریخ طبری، ج۴، ص۲۴۱ملتقطًا)

 

ذمہ داران کی تقرری کے مَدَنی پھول

            عُمّال کی تقرری اور معزولی کا دارومدار جن مَدَنی پھولوں (یعنی اصولوں ) پر تھا ان کی تفصیل ملاحظہ ہو:

            (۱) کوئی شخص جو حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزیز کا قَرابت دار ہو تااس کو کبھی عامِل مقرر نہیں کرتے تھے ، بیٹے سے زیادہ کون عزیز ہوسکتا ہے ، لیکن حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزیز نے ان میں سے کسی کو کوئی عہد ہ نہیں دیا ۔ ((تاریخِ دِ مشق، ج۴۵ ، ص۱۹۸ملتقطًا) ) ایک بار جراح بن عبداللّٰہ حکمی نے عبداللّٰہ بن اہتم کو عامِل مقرر کیا، حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزیز کو خبر ہوئی تو لکھا کہ اس کو ہٹادو، کیونکہ اور باتوں کے علاوہ وہ خود میرا رشتہ دار ہے ۔ (ابن جوزی ص۱۰۵)

            (۲) جو لوگ کسی عہدہ کے خواستگار ہوتے تھے حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزیز ان کو وہ عہدے نہیں دیتے تھے اور مَدَنی آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سنت بھی یہی تھی ۔

            (۳) جو لوگ سَفَّاک اور ظالم ہوتے تھے حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزیز ان کو بھی کوئی عہدہ نہیں دیتے تھے ، ایک بار جراح بن عبداللّٰہ حکمی نے عمارہ کو عامِل مقرر کیا، تو انہوں نے لکھا کہ مجھ کو نہ عمارہ کی ضَرورت ہے نہ عمارہ کی مار پیٹ کی، نہ اس شخص کی جس نے اپنے ہاتھ کو مسلمانوں کے خون سے رنگین کیا ہے ، اس لیے اس کو معزول کردو ۔ (ابن جوزی ص۱۰۵) خود جراح اور یزید بن مہلب کی معزولی کا سبب بھی یہی  ظُلم و عدوان تھا یہی وجہ ہے کہ حجاج کے ملازموں اور اس کے قبیلہ کے لوگوں کو کوئی جگہ نہیں دیتے تھے ۔ ابو مسلم جو حجاج کا جلاد اور ہم قبیلہ تھا، ایک فوج میں شریک ہوا تو حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزیز نے اس کو واپَس بلا لیا ۔ (ابن جوزی ص۱۰۸)

            (۴)  حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزیزعُمّال کے تقرر میں   یہ لحاظ بھی رکھتے تھے کہ قراٰن و حدیث کا عالِم ہو چنانچہ اس  وَصف کو پیش نظر رکھ کر انہوں نے تمام عُمّال کے نام ایک عام فرمان بھیجا کہ اہلِ عِلم کے سوا اور کوئی شخص کسی عہدے پر مامور نہ کیا جائے لیکن تمام عُمّال کی طرف سے جواب آیا کہ ہم نے ان سے کام لیا، مگر وہ خائن نکلے لیکن حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزیز کو اب بھی اس پر اِصرار رہا، اور لکھا کہ خبردار مجھے یہ نہ معلوم ہونے پائے کہ تم نے اہلِ عِلم کے سوا اور کسی کو عامِل بنایا، اگر اہلِ عِلم میں بھلائی نہیں ہے توکسی اور میں کیونکر ہوگی؟(سیرتِ ابن جوزی ص۱۲۰)

            (۵) اگرچہ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزیز کی نیک شہرت نے جیسا کہ میمون بن مہران نے ان کو یقین دلایا تھا، ان کے تخت ِ حکومت کے گرد بہترین اشخاص جمع کردیئے تھے ، لیکن یہ تمام شخصیتیں حضرتِ عمر بن عبدالعزیز رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے زیرِ اثر تھیں اور انہی کے اشاروں سے یہ تمام پُرزے حرکت کرتے تھے ۔ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزیز کا قاعدہ تھا کہ بات بات پر عُمّال کو ہدایتیں کرتے رہتے تھے ، احکام بھیجتے رہتے تھے ، ان کو کام کرنے کی ترغیب و ترہیب دیتے رہتے تھے ، اس لیے طبیعتوں پر خوامخواہ ان کا اَخلاقی اثر پڑتا تھا مثلاًگورنرابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم اپنی ذمّہ داریاں نبھانے کے لئے دن رات ایک کردیتے تھے اور یہ  صِرف حضرتِ عمر بن عبدالعزیز کی ترغیب و تحریص کا اثر تھا ۔ (سیرت ابن جوزی ص۱۰۲)

حجاج کی رَوِش اپنانے سے روکا

             حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزیزنے عُمّال کو  سَخت تاکید کی تھی کہ حجاج کی رَوِش اِختیار نہ کریں ، ایک بار عدی بن اَرطاۃ کو لکھا کہ میں تمہیں حجاج کی رَوِش سے روکتا ہوں کیونکہ حجاج ایک مصیبت تھا، ایک قوم نے اپنے عمل سے اس کی غَلَط کاریوں کی مُوَا فَقَت کی، اس لیے اپنے زمانے میں اس نے جو چاہا کیا لیکن اب وہ زمانہ گزر گیا اور سلامتی کے دن واپَس آگئے اور اگر  صِرف ایک ہی دن رہے تب بھی یہ خدا کا عطیہ ہوگا، میں نے تمہیں نَماز کے متعلِّق اس کی پَیروی سے روکا ہے کیونکہ وہ وَقت میں تاخیر کرتا تھا، میں نے زکوٰۃ کے متعلِّق اس کی تقلید سے روکا ہے کیونکہ وہ بے محل لیتا تھا اور بے محل  صَرف کرتا تھا ۔ (سیرت ابن جوزی ص۱۰۷) ایک اور عامِل نے ذِمّیوں کے کھلیانوں (یعنی گوداموں ) کی حد بندی کی تو اس کو لکھا کہ ایسا نہ کرو، یہ حجاج کا طریقہ تھا اور میں اس کو پسند نہیں کرتا ۔ (سیرتِ ابن جوزی ص۱۰۸)

کارکردگی کی تحقیقات بھی کرتے تھے

              حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزیز کو  صِرف ان ہدایات ہی پر  قَنَاعَت نہ تھی بلکہ مناسب طریقوں سے وہ عُمّال کے طَرزِ عمل کی تحقیقات بھی کرتے رہتے تھے تا کہ وہ راہِ اِعتدال سے ہٹنے نہ پائیں ۔ رِیاح بن عُبَیدہ کا بیان ہے کہ میں نے ایک بار حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزیز سے کہا کہ عِراق میں میری جائیداد اور میرے اہل و عِیال ہیں ، اگر اِجازت ہو تو میں ان کو دیکھ آؤں ؟ انہوں نے پہلے تو مجھے روکا مگر میرے اِصرار کے بعد اِجازت دی جب میں رُخصت ہونے لگا تو میں نے کہا کہ اگر آپ کی کوئی ضَرورت ہو تو اِرشاد فرمائیے ؟



Total Pages: 139

Go To
$footer_html