Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

الحدیث:۸۷۱۸،ج۳،ص۲۸۱)

سو مرتبہ کَلِمَہ طَیِّبَہ

            حضرت ِ سیدنا ابودَرْدَاء رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نبی مُکَرَّم ،  نُورِ مُجسَّم ،  رسول اکرمصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا :  ’’  جو بندہ سو مرتبہ لَآ اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُ پڑھے گا قیامت کے دن اس کا چہرہ چودھویں کے چاند کی طرح چمکتا ہوگا اور اس بندے سے افضل کسی کا عمل نہیں اٹھایا جاتا مگر جو اس کی مثل پڑھے یا اس سے زیادہ پڑھے ۔ ‘‘  (مجمع الزوائد،کتاب الاذکار،باب فیمن ھلل مائۃ او اکثر،الحدیث:۱۶۸۳۰، ج۱۰،ص۹۶)

آگ پر حرام ہے

            حضرتِ  سیدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں نے نور کے پیکر ،  دو جہاں کے تاجْوَر ،  سلطانِ بَحر و بَر صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کو فرماتے ہوئے سنا :  ’’ میں ایک ایسا کَلِمَہ جا نتا ہو ں جو اسے اپنے دل کی گہرائی سے کہے پھر اس پر مر جائے وہ آگ پر حرا م ہے وہ کَلِمَہ: لَآ اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُہے ۔ ‘‘ (المستدرک للحاکم، کتاب الایمان،باب من قال: لا الہ الا اللّٰہ۔۔۔الخ،الحدیث:۲۵۰،ج۱،ص۲۵۱)

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  ہم ناتوانوں پر اللہ    عَزَّوَجَلَّ کا کس قدر کرم ہے کہ ہم عمل تھوڑا کریں اور ثواب بہت زیادہ پائیں ،  ہمارے گناہ بخش دئیے جائیں بلکہ نیکیوں میں تبدیل فرما دیئے جائیں ،  روز قیامت عرش کا سایہ ،  میٹھے میٹھے آقا صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی شفاعت اور جنت میں داخلہ نصیب ہو۔ یہ سب ذکر اللّٰہ کی برکتیں اور محض  اللہ    عَزَّوَجَلَّ کا کرم ہے ،  بس ہمیں چاہیے کہ اپنے رب کی کرم نوازیوں کا شکر ادا کریں ہر وقت اس کی یاد میں مشغول رہیں ،  گناہوں سے سچی توبہ کریں اور بقیہ زندگی اطاعت و فرمانبرداری میں گزاریں ۔

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!   اپنی زندگی کو سنّتوں کے سانچے میں ڈھالنے کے لیے دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے ہر دم وابستہ رہیے!  آئیے میں آپ کو دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ایک اسلامی بہن کی مدنی بہار سناتا ہوں چنانچہ

کَلِمَہ طَیِّبَہ کا وِرْد کرتے کرتے!

          سانگھڑ ( باب الاسلام سندھ ) کے ایک اسلامی بھائی کا حَلْفِیہ بیان ہے کہ میری بہن بنتِ عبدالغفّار عطارِیّہ کو کینسر کے موذی مَرَض نے آلیا ،  آہستہ آہستہ حالت بگڑتی گئی ،  ڈاکٹروں کے مشورہ پر آپریشن کروایا ،  طبیعت کچھ سنبھلی مگر کم و بیش ایک سال بعد مَرَض نے دوبارہ زور پکڑا تو راجپوتانہ اَسپتال ( حیدرآباد باب الاسلام سندھ ) میں داخِل کردیا گیا ۔ ایک ہفتہ اَسپتال میں رہیں مگر حالت مَزید اَبْتَر ہوتی چلی گئی اچانک انہوں نے باآوازِ بلندکَلِمَہ طَیِّـبَہ کا وِرد      شروع کردیا ،  کبھی کبھی درمیان میں اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہ وَعَلٰی اٰلِکَ وَاَصْحٰبِکَ یَاحَبِـیْبَ اللّٰہبھی پڑھتیں ،  بُلند آواز سے لَآاِلٰـہَ اِلاَّاللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِکا وِرْد کرنے سے پورا کمرہ گونج اٹھتا تھا ،  عجیب ایمان افروز منظر تھا جو آتامزاج پرسی کرنے کے بجائے ان کے ساتھ ذکر اللّٰہ  شروع کر دیتا ڈاکٹرز اور اَسپتال کا عَملہ حیرت زدہ تھا کہ یہ  اللہ عَزَّوَجَلَّ کی کوئی مقبول بندی معلوم ہوتی ہے ورنہ ہم نے تو آج تک مریض کی چیخیں ہی سنی ہیں اور یہ مریضہ شکوہ کرنے کے بجائے مسلسل ذکر اللّٰہ میں مصروف ہے ۔ تقریباً  12 گھنٹے تک یہی کیفیت رہی ،  اذانِ مغرب کے وقت اسی طرح بلند آواز سے کَلِمَہ طَیِّبَہ کا وِرد کرتے کرتے ان کی روح قَفَسِ عُنصُری سے پر و از کر گئی۔ (فیضان سنّت ، باب سوم،ج ۱،ص۶۵۳) اللہ       عَزَّوَجَلَّکی اُن پر رحمت ہو اور ان کے صَدْقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

          اَلْحَمْدُ لِلّٰہ!  دعوتِ اسلامی کا    مدنی ماحول مرحومہ کو راس آگیا ،  ان کا کام بن گیا، خدا کی قسم!  وہ خوش نصیب ہے جو اِس دنیا سے کَلِمَہ پڑھتے ہوئے رُخصت ہو۔ نبیء   رحمت ،  شفیعِ امّت ،  مالِکِ جنّت ،  محبوبِ ربُّ العزّت صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمانِ جنت نشان ہے: جس کا آخِری کلام  لَآ اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُ (یعنی کَلِمَہ طَیِّبَہ) ہو وہ داخِل جنت ہو گا ۔

(سنن ابی داود،کتاب الجنائز،باب فی التلقین،الحدیث:۳۱۱۶،ج۳ص۲۵۵)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب                     صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

          پیارے اسلامی بھائیو!  بیان کو اِختِتام کی طرف لاتے ہوئے سنّت کی فضیلت اور چند سنّتیں اور آداب بیان کرنے کی سعادت حاصِل کرتا ہوں ۔ تاجدارِ نُبُوَّتصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمانِ جنت نشان ہے: ’’  جس نے میری سنّت سے مَحَبَّت کی اُس نے مجھ سے مَحَبَّت کی اور جس نے مجھ سے مَحَبَّتکی وہ

جنّت میں میرے ساتھ ہو گا۔ ‘‘ (تاریخ مدینۃ دمشق لابن عساکر، انس بن مالک،ج۹، ص۳۴۳)

            لہٰذا تیل ڈالنے اور کنگھا کرنے کے 10مدنی پھول قبول فرمائیے، (اس  کتاب کے صفحہ نمبر 603سے بیان کیجئے)

٭٭٭٭٭

بیان نمبر9:

مدنی انعامات پرعمل کاطریقہ

          شیخِ طریقت، امیر اہلسنّت بانیٔ دعوت اسلامی ، حضرت علّامہ مولاناابو بلال  محمد الیاس عطّار قادری رضوی ضیائی دامَتْ بَرکاتُھُمُ العالیَۃ کے بیان کے تحریری گلدستے   ’’ کرامات عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنہ ‘‘ میں منقول ہے کہ

Total Pages: 194

Go To