Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب                   صَلَّی اللّٰہُ  تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

قبر سے عذاب اٹھ گیا

        حضرتِ  سیِّدُنا عیسیٰ رُوحُ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ایک قَبرکے قریب سے گزرے تو عذاب ہو رہا تھا کچھ وَقْفہ کے بعد پھرگزرے تو مُلاحَظہ فرمایا کہ اُس قبرمیں نُور ہی نور ہے اور وہاں رَحمتِ الٰہی کی بارش ہو رہی ہے ،  آپ بَہُت حیران ہوئے اور بارگاہِ الٰہی میں عرض کیا کہ مجھے اِس کا بھید بتایا جائے ۔ ارشاد ہوا: اے عیسیٰ!  ( عَلَیْہِ السَّلام) یہ شخص سخت گنہگار ہونے کے سبب عَذاب میں گِرفتا ر تھا لیکن بوقتِ انتِقال اِس کی بیوی  ’’ اُمّید ‘‘  سے تھی اُس کے لڑکا پیدا ہوا اور آج اُس کو  مَکْتَب بھیجا گیا، اُستاد نے اُس کو بِسْمِ اللّٰہپڑھائی، مجھے حیا آئی کہ میں اُس شَخْص کو زمین کے اندر عَذاب دُوں جس کا بچّہ زَمین کے اُوپر میرا نام لے رہا ہے ۔ ‘‘  (التفسیرالکبیر،الباب الحادی عشر،ج۱،ص۱۵۵)  

                                                 اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔

اے خدائے مصطفی میں تری رحمتوں پہ قرباں

ہو کرم سے میری بخشش بَطفیلِ شاہِ جِیلاں

                                 سُبْحٰنَ  اللّٰہ عَزَّوَجَلّ !  بِسْمِ اللّٰہ شریف کی برکتوں کے کیا کہنے !  والدین کو چاہیے کہ اپنی اولاد کو شروع ہی سے اچھا اور مدنی ماحول فراہم کریں ،  اپنے بچوں کو  ’’ ٹاٹا، پاپا ‘‘  سکھانے کے بجائے ابتداء ہی سے  اللہ    عَزَّوَجَلَّکا نام لینا سکھائیں اور یہ نہیں کہ صِرف مرنے والے والِدَین کو ہی اس کی بَرَکتیں حاصِل ہوتی ہیں خود سیکھنے اور سکھانے والے کو بھی اِس کی بَرَکتیں نصیب ہوتی ہیں لہٰذا اپنے مدنی مُنّے اور مدنی مُنّی سے کھیلتے ہوئے سکھانے کی نیّت سے اُنکے سامنے بار بار اللّٰہ اللّٰہکرتے رہیں  تو وہ بھی اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ زَبان کھولتے ہی سب سے پہلا لفظ اللّٰہکہیں گے ۔

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب               صَلَّی اللّٰہُ  تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

76 ہزار نیکیاں

            حضرتِ  سیِّدنا ابنِ مسعود رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے رِوا یت ہے کہ تاجدارِ  مدینہ، صاحبِ معطر پسینہ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ      کا فرمانِ  فَرحَت نشان ہے: جو بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمپڑھے گا اللہ   عَزَّوَجَلَّ ہر حَرْف کے بدلے اُس کے نامۂ اَعمال میں چار ہزار نیکیاں درج فر مائے گا، چار ہزارگناہ بخش دے گا اور چار ہزار درَجات بلند فرمائے گا ۔

(فردوس الاخبار،باب المیم،فصل فضل قراء ۃ القراٰن،الحدیث:۵۵۷۳،ج۲،ص۲۳۹)

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  جھوم جائیے !  اپنے پیارے پیارے اللّٰہ عَزَّوجَلَّ کی رَحمت پر قربان ہوجائیے !  ذرا حساب تو لگائیے بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم میں 19 حروف ہیں ،  یوں ایک بار پڑھنے سے چھہتر ہزارنیکیاں ملیں گی ،  چھہتر ہزار گناہ معاف ہونگے اور چھہتر ہزار درَجات بلند ہونگے ۔ وَاللّٰہُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ اور اللّٰہ بڑے فضل والا ہے ۔ (فیضانِ سنت،باب۱،ج۱، ص۵۳)

اُنیس حروف کی حکمتیں

            بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ کے 19 حُروف ہیں اور دوزخ پر عذاب دینے والے فِرِشتے بھی اُنیّس پس امّید ہے کہ اس کے ایک ایک حَرف کی بَرَکت سے ایک ایک فِرِشتے کا عذاب دور ہوجائے، دوسری خوبی یہ بھی ہے کہ دن رات میں 24 گھنٹے ہیں جن میں سے پانچ گھنٹے پانچ نمازوں نے گھیر لئے اور 19 گھنٹوں کے لئے بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ کے اُنیس حُروف عطا فرمائے گئے پس جو بِسْمِ اللّٰہِ  کا وِرد کرتا رہے اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس کا ہرگھنٹہ عبادت میں شمار ہوگا اور ہر گھنٹے کے گناہ معاف ہوں گے۔(التفسیرالکبیر،الباب الحادی عشر،ج۱،ص۱۵۶)

پانچ مدنی پھول

         حضرتِ  سیِّدنا عبد اللّٰہ بن عَمرْو بن العاصرَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُم ا کا ارشادِ سعادت بنیاد ہے : پانچ عادتیں ایسی ہیں کہ کوئی انہیں اختیار کرلے تو دنیا و آخِرت میں سعادتمند ہو جائے  {1}  وقتاً      فوقتاً لآ اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِکہتا رہے  {2}  کسی مصیبت میں مبتَلا ہو (مثلاً بیمار ہو یانقصان ہو جائے یا پریشانی کی خبر سنے)  تو  ’’ اِنَّالِلّٰہِ وَ اِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ‘‘  اور  ’’  لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلاَّ بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ ‘‘  پڑھے  {3}  جب بھی نعمت ملے تو شکرانے میں  ’’ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰـلَمِیْن ‘‘  کہے  {4} جب کسی جائز کام کا آغاز کرے تو  ’’ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ‘‘ پڑھے اور  {5}  جب گُناہ کر بیٹھے تو یوں کہے:  ’’  اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ الْعَظِیْمَ وَ اَتُوْبُ اِلَیْہِ۔ ‘‘  (المنبھات للعسقلانی،ص۵۸)

بِسْمِ اللّٰہ درست پڑھیے

            بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم پڑھنے میں دُرُست مَخارِج سے حُروف کی ادائیگی لازِمی ہے اور کم از کم اتنی آواز بھی ضروری ہے کہ رُکاوٹ نہ ہونے کی صورت میں اپنے کانوں سے سن سکیں ،  جلد بازی میں بعض لوگ حُروف چَبا جاتے ہیں ،  جان بوجھ کر اِس طرح پڑھنا ممنوع ہے اور معنٰی فاسد ہو نے کی صورت میں گناہ، لہٰذا جلدی جلدی پڑھنے کی عادت کی وجہ سے جو لوگ غَلَط پڑھ ڈالتے ہیں وہ اپنی اِصلاح کر لیں