Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

مَحبت و عقیدت کیساتھ خوب خوب درود و سلام کے نذرانے اپنے میٹھے میٹھے آقا صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی بارگاہ میں پیش کرتے رہنا چاہیے ۔ ویسے بھی ہمیں درود و سلام بھیجنے کا حکم خود ہمارے رب عزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا ہے چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ-یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(۵۶)(پ۲۲،الاحزاب:۵۶)

ترجمۂ کنز الایمان:بیشک اللّٰہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے ( نبی ) پر، اے ایمان والو!  ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔

            حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیّ اپنی تفسیر نورالعرفان میں اس آیت کے تحت فرماتے ہیں :

            درود شریف تمام احکام سے افضل ہے کیونکہ اللّٰہ تعالٰی نے کسی حکم میں اپنا اور اپنے فرشتوں کا ذکر نہ فرمایا کہ ہم بھی یہ کرتے ہیں تم بھی کرو ،  سوا درودشریف کے۔ حضور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ہمیشہ حَیات ہیں اور سب کا درود و سلام سنتے ہیں ،  جواب دیتے ہیں کیونکہ جو جواب نہ دے سکے اسے سلام کرنا منع ہے جیسے نمازی، سونے والا۔ تمام مسلمانوں کو ہمیشہ ہر حال میں درود شریف پڑھنا چاہیے ۔

            مزید فرماتے ہیں :حضور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا مرتبہ حضرت  سیدنا آدم علٰی نبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے زیادہ ہے کیونکہ حضرت سیدنا آدم علٰی نبِیِّنا  وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو فرشتوں نے صرف ایک دفعہ سجدہ کیا مگر ہمارے حضور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  پر تو خود خدا تعالیٰ اور ساری خدائی ہمیشہ درود بھیجتے ہیں ۔

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب                     صَلَّی اللّٰہُ  تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

          دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مَکْتَبَۃُ الْمَدِیْنَہ کی مطبوعہ 1250 صَفحات پر مشتمل کتاب  ’’  بہارِ شریعت‘‘  جلد اوّل،حصہ3، صَفْحَہ 3 53 و 534 پر دُرودِ پاک سے متعلق ہے کہ عمر میں ایک بار دُرود شریف پڑھنا فرض ہے اور ہر جلسۂ ذکر میں دُرود شریف پڑھنا واجب ،  خواہ خود نام اقدس لے یا دوسرے سے سُنے اور اگر ایک مجلس میں سو بار ذکر آئے تو ہر بار دُرود شریف پڑھنا چاہیے ،  اگر نام اقدس لیا یا سُنا اور دُرود شریف اس وقت نہ پڑھا تو کسی دوسرے وقت میں اس کے بدلے کا  پڑھ لے۔(الدرالمختارورد المحتار،کتاب الصلاۃ ،  باب صفۃ الصلاۃ، فصل فی بیان تالیف الصلاۃ۔۔۔الخ،ج۲،ص۲۷۶۔۲۸۱)

        اکثر لوگ آج کل    دُرود شریف کے بدلے  ’’  صلعم  ‘‘  (صَلْ ، عَمْ)  ’’  عم‘ ‘      ’’     ؐ  ‘‘   ( آدھا صاد ) ’’     ؑ  ‘‘ ( آدھا عین ) لکھتے ہیں ،  یہ ناجائز و سخت حرام ہے ۔ یوہیں رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ کی جگہ  ’’       ؓؓ  ‘‘  ( راء اور آدھا ضاد )  ،  رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ کی جگہ  ’’      ؒ  ‘‘  (راء اور آدھا حائ) لکھتے ہیں یہ بھی نہ چاہیے، جن کے نام محمد ،  احمد ،  علی ،  حسن ،  حسین وغیرہ ہوتے ہیں ان ناموں پر  ’’        ؐ   ‘‘   ( آدھا صاد )  ’’     ؑ  ‘‘   (آدھا عین) بناتے ہیں یہ بھی ممنوع ہے کہ اس جگہ تو یہ شخص مراد ہے ،  اس پر دُرود کا اشارہ کیا معنی ۔(حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار،خطبۃ الکتاب،ج۱،ص۶ و الفتاوی الرضویۃ،ج۲۳، ص۳۸۷)

با کمال فرشتہ

            سرکارِ مدینہ، راحتِ قلب و سینہ ،  فیض گنجینہ ،  صاحِبِ مُعطَّر پسینہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمانِ شفاعت نشان ہے:  ’’ بے شک  اللہ   عَزَّوَجَلَّ نے ایک فِرِشتہ میری قبر پر مقرر فرمایا ہے جسے تمام مخلوق کی آوازیں سُننے کی طاقت عطا فرمائی ہے ،  پس قِیامت تک جو کوئی مجھ پر دُرُودِپاک پڑھتا ہے تو وہ مجھے اُس کا اور اُسکے باپ کا نام پیش کرتا ہے کہتا ہے: فُلاں بن فُلاں نے آپ پر دُرُودِ پاک پڑھا ہے۔ ‘‘ (مجمع الزوا ئد، کتاب الادعیۃ، باب فی الصّلا ۃ علی النبیعلیہ الصلاۃ والسلام، الحدیث:۱۷۲۹۱،ج۱۰،ص۲۵۱)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب                     صَلَّی اللّٰہُ  تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

            سُبْحٰنَ اللّٰہ دُرود شریف پڑھنے والا کس قَدر بختور ہے کہ اُس کا نام بمع ولدِیَّت بارگاہِ رسالت میں پیش کیا جاتا ہے یہاں یہ نکتہ بھی اِنتہائی ایمان افروز ہے کہ قبر منور عَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر حاضِر فِرِشتے کو اس قَدَرزِیادہ قوّتِ سَماعت دی گئی ہے کہ وہ دنیا کے کونے کونے میں ایک ہی وَقْت کے اندر دُرُودشریف پڑھنے والے لاکھوں مسلمانوں کی انتِہائی دھیمی آواز بھی سُن لیتا ہے اور اسے علمِ غیب بھی عطا کیا گیا ہے کہ وہ دُرُودِ پاک پڑھنے والوں کے نام بلکہ ان کے والِدصاحِبان تک کے نام جان لیتا ہے ،  جب خادِم دربارِ رسالت کی قوتِ سَماعت اور