Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

داود،کتاب الجنائز،باب فی التلقین،الحدیث:۳۱۱۶،ج۳،ص۲۵۵)

            مزید دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول کی بَرَکت سنئے:  چُنانچِہ انتِقال کے چند روز بعد ان کے فرزند نے خواب میں دیکھا کہ مرحوم کالو چاچا سفید لباس میں ملبوس سر پر سبز سبز عمامہ شریف کا تاج سجائے مُسکراتے ہوئے فرما رہے ہیں : بیٹا!  دعوتِ اسلامی کے مدنی کاموں میں لگے رہو کہ اِسی مدنی ماحول کی بَرَکت سے مجھ پر کرم ہوا ہے۔

موت فضل خدا سے ہو ایمان پر                                    مدنی ماحول میں کرلو تم اعتکاف

رب کی رَحمت سے پاؤ گے جنت میں گھر                          مدنی ماحول میں کرلو تم اعتکاف

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب                   صلَّی اللّٰہُ  تعالٰی علٰی محمَّد  

(فیضان سنت،باب فیضان رمضان،ج۱،ص۱۳۴۴)

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  بیان کو اِختِتام کی طرف لاتے ہوئے سنّت کی فضیلت اور چند سنّتیں اور آداب بیان کرنے کی سعادت حاصِل کرتا ہوں ۔ تاجدارِ رسالت، شَہَنْشاہِ نُبُوَّت، مصطفی جانِ رحمت، شمعِ بزمِ ہدایت ، نوشۂ بزمِ جنّتصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمانِ جنّت نشان ہے: جس نے میری سنّت سے مَحَبَّتکی اُس نے مجھ سے مَحَبَّت کی اور جس نے مجھ سیمَحَبَّت کی وہ جنّت میں میرے ساتھ ہو گا۔( تاریخ مدینۃ دمشق لابن عساکر، انس بن مالک ،  ج۹ ،  ص۳۴۳ )

            لہٰذا ناخن کاٹنے کے 9مدنی پھول قبول فرمائیے،(اس کتاب کے صفحہ نمبر 593سے بیان کیجئے)

٭٭٭٭٭

بیان نمبر5:

ذ کْر اللّٰہ کے فضا  ئل

          شیخ ِطریقت، امیر ِاہل ِسنت، بانیء دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی     دَامَتْ بَرَکَا تُہُمُ العَالِیَہ  ’’  رسائل ِعطاریہ ‘‘  (حصہ دوم) کے صَفْحَہ 15 پر حدیث ِپاک نقل فرماتے ہیں :  ’’   اللہ    عَزَّوَجَلَّکی خاطر آپس میں محبت رکھنے والے جب باہم ملیں اور مُصَافَحَہ کریں اور نبی (صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) پر درود پاک بھیجیں تو ان کے جدا ہونے سے پہلے دونوں کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں ۔ ‘‘  (مسند ابی یعلٰی،مسند انس بن مالک، الحدیث:۲۹۵۱،ج۳،ص۹۵)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب                   صَلَّی اللّٰہُ  تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  صبح وشام بلکہ ہر ہر گھڑی ذِکر ِالٰہیعَزَّوَجَلَّ میں اپنے آپ کو مشغول رکھنا دُنیا وآخرت میں ہمارے لئے بہت بڑے اجر وثواب کا موجب ہے اس کیلئے اگر ہم تھوڑی سی توجہ دیں اور اپنے تمام اُمور مثلاً کھانے کھلانے،پینے پِلانے ،  رکھنے اُٹھانے، دھونے پکانے ،  پڑھنے پڑھانے، چلنے (گاڑی وغیرہ)چلانے، اُٹھنے اٹھانے، بیٹھنے بٹھانے، بتّی جلانے،پنکھا چلانے، دسترخوان بچھانے بڑھانے، بِچھونا لپیٹنے بچھانے، دکان کھولنے بڑھانے، تالا کھولنے لگانے، تیل ڈالنے عطر لگانے،بیان کرنے نعت شریف سنانے، جوتی  پہننے عمامہ سجانے، دروازہ کھولنے بند فرمانے، اَلْغَرَض ہر جائز کام کی ابتداء (جبکہ کوئی مانِعِ شَرْعی نہ ہو)   اللہ     عَزَّوَجَلَّکے نام سے کریں تو اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  ان تمام مواقع پرہمیں  ذکرُ اللّٰہکی فضیلت حاصل ہوگی اور مزید اچھی اچھی نیتیں بھی کرلیں تو یہ تمام امور ہمارے لیے باعث ثواب ہوں گے۔

            قرآن مجید فرقان حمید میں ہمیں صبح و شام  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کا ذکر کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَّ سَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا(۴۲) (پ۲۲،الاحزاب:۴۲)

ترجمۂ  کنزالایمان: اور صبح و شام اس کی پاکی بولو ۔

صدرُ الافاضل حضرت علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  اللّٰہِ الْہَادِیْ اس آیہ مبارکہ کے تحت تحریر فرماتے ہیں : ’’ کیونکہ صبح اور شام کے اوقات ملائکہ ٔ     روز و شب کے جمع ہونے کے وقت ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اطرافِ لیل و نہار کا ذکر کرنے سے ذکر کی مُداوَمت کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔ ‘‘ (خزائن العرفان)

دن کی ابتدا

            سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ، باعث ِنزول سکینہ،صاحبِ مُعَطَّر پسینہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا: ’’ جس نے دن کی ابتداء کسی اچھے عمل  سے کی اور اپنے دن کو اچھے عمل ہی پر ختم کیا تو   اللہ    عَزَّوَجَلَّاپنے فرشتوں سے فرمائے گا: اس دوران میں ہونے والے اس بندے کے گناہ مت لکھو۔ ‘‘ (الجامع الصغیر للسیوطی،حرف المیم،الحدیث:۸۴۲۳،ص۵۱۳)

جنت کی ضمانت

            حضرت ِ سیدنا ابومُنَیْذِر رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : میں نے نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجور، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کو فرماتے ہوئے سنا:  ’’ جو صبح کے وقت یہ پڑھے: رَضِیْتُ بِاللّٰہِ رَبًّا وَّبِالْاِسْلَامِ دِیْنًا وَّبِمُحَمَّدٍ نَّبِیًّا(یعنی میں  اللہ   عَزَّوَجَلَّکے رب ہونے اور اسلام کے دین ہونے اور حضرت محمد صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے نبی ہونے پر راضی ہوں ) تو میں اسکا ہاتھ پکڑ کر جنت میں داخل کرنے کی ضمانت دیتا ہوں ۔ ‘‘ (المعجم الکبیر للطبرانی،من اسمہ منیذر الاسلمی،الحدیث:۸۳۸،ج۲۰،ص۳۵۵)

 



Total Pages: 194

Go To