Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

پانی کے کوزے جن پر مشک سے مُہر ہو گی پیش کیے جائیں گے اور انہیں کہا جائے گا کھاؤ  کل تم بھوکے تھے، پیو کل تم پیاسے تھے، آرام کرو کل تم تھکے ہوئے تھے پس وہ کھائیں گے اور آرام کریں گے حالانکہ لوگ حساب کی مشقت اور پیاس میں مُبتَلاہوں گے۔(جامع الاحادیث للسیوطی، الہمزۃ مع الکاف، الحدیث:۲۴۶۲،ج۱،ص۳۵۸)

سفر کرو مال دار ہو جاؤ گے

        حضرتِ  سیِّدُنا ابو  ُہریرہ   رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ سرکارِ مدینہ راحتِ قلب وسینہ، فیض گنجینہ ،  صاحِبِ مُعطَّر پسینہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے فرمایا: جہاد کیا کرو خود کَفیل ہو جاؤ  گے ،  روزے رکھو تَندُرُست ہو جاؤ  گے اور سفر کیاکرو غنی ( یعنی مالدار) ہو جاؤ  گے۔(المعجم الاوسط للطبرانی، من اسمہ موسی،الحدیث:۸۳۱۲، ج۶،ص۱۴۶)

شیطان کی پریشانی

          ایک بُزُرگ رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ نے مسجِدکے دروازے پر شیطان کو حیران و پریشان کھڑے ہوئے دیکھ کر پوچھا: کیا بات ہے ؟ شیطان نے کہا:اندر دیکھئے!  اُنہوں نے اندر دیکھا تو ایک شخص نماز پڑھ رہا تھا اور ایک آدَمی مسجِد کے دروازے کے پاس سورہا تھا۔شیطان نے بتایا کہ وہ جو اندر نَماز پڑھ رہا ہے اُس کے دل میں وَسوَسہ ڈالنے کیلئے میں اندر جاناچاہتا ہوں لیکن جو دروازے کے قریب سورہا ہے ، یہ روزہ دار ہے، یہ سویا ہوا روزہ دار جب سانس باہَر نکالتا ہے تواُس کی وہ سانس میرے لئے شُعلہ بن کر مجھے اندر جانے سے روک دیتی ہے ۔(الروض الفائق ، المجلس الخامس فی فضل شہر۔۔۔الخ، ص۳۹)

 صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیب              صلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد 

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  شیطان کے وارسے بچنے کیلئے روزہ ایک زبردست ڈھال ہے روزہ دار اگرچِہ سورہا ہے مگر اسکی سانس شیطان کیلئے گویا تلوار ہے معلوم ہوا روزہ دار سے شیطان بڑا گھبراتا ہے ، شیطان چُونکہ ماہِ رمَضان المبارک میں قید کرلیا جاتاہے اِس لئے وہ جہاں بھی اور جب بھی روزدار کو دیکھتا ہے پریشان ہوجاتا ہے۔

روزہ کی حالت میں مرنے کی فضیلت

اُمّ الْمُؤمِنِین حضرتِ  سَیِّدَتُنا عائِشہ صِدّیقہ  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاسے رِوایت ہے کہ سرکارِ مدینۂ مُنوَّرہ ، سُلطانِ مکّۂ مکرَّمہصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :  ’’   جو روزے کی حالت میں مَرا ،   اللّٰہ   تعالیٰ قِیامت تک کیلئے اس کے حساب میں روزے لکھ دے گا۔   (فردوس الاخبار للدیلمی، الحدیث:۵۹۶۷،ج۲،ص۲۷۴)

نیک کام کے دوران موت کی سعادت

            سُبْحٰنَ اللّٰہ!  خوش نصیب ہے وہ مسلمان جسے روزے کی حالت میں موت آئے بلکہ کسی بھی نیک کام کے دَوران موت آنا نہایت ہی اچھی علامت ہے مَثَلاً با وُضو یا دورانِ نَماز مَرنا ، سفرِمدینہ کے دَوران بلکہ مدینۂ منوَّرہ میں رُوح قَبْض ہونا، دَورانِ حج مکّۂ مُکرّمہ،مِنٰی، مُزْدَلِفہ یا عَرَفات شریف میں فَوتگی ،  دعوتِ اسلامی کے سنّتوں کی تربیَّت کے مدنی قافِلے میں عاشقانِ رسول کے ہمراہ سنّتوں بھرے سفر کے دَوران دُنیا سے رخصت ہونا، یہ سب ایسی عظیم سعادتیں ہیں کہ صِرْف خوش نصیبوں ہی کو حاصِل ہوتی ہیں ۔ اس سلسلے میں صَحابۂ کرام عَلَیْھِمُ الرِّضوان کی نیک تمنائیں بیان کرتے ہوئے حضرتِ  سیِّدُنا خَیْثَمَہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں : صَحابۂ کرام  عَلَیْھِمُ الرِّضواناِس بات کو پسند کرتے تھے کہ اِنتِقال کسی اچھے کام مَثَلاً حج، عُمرہ، غَزوہ (جِہاد)، رَمَضان کے روزے وغیرہ کے دوران ہو۔(صفۃ الصفوۃ لابن جوزی ، خیثمۃ بن عبد الرحمن ابن ابی سبرۃ،ج۲،ص۵۹)

کالو چاچا کی ایمان افروز موت

            اچھے کام کے دَوران موت سے ہم آغوش ہونے کی سعادت مُقدر والوں ہی کا حصّہ ہے۔ اِس ضمن میں تبلیغِ قرآن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ،  دعوتِ اسلامی کے اجتماعی اعتکاف کی ایک مدنی بہار مُلا حَظہ فرمایئے اور زندگی بھر کے لئے دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابَستہ رہنے کا عزمِ مُصَمَّم کر لیجئے۔ چُنانچِہ مدینۃُ الْاَوْلِیَاء احمد آباد شریف (گجرات،الہند) کے کالو چاچا(عمر تقریباً 60برس) رَمَضانُ المبارَک ۱۴۲۵ ھ، 2004ء کے آخِری عشرے میں شاہی مسجِد (شاہ عالم، احمد آباد شریف) میں ہونے والے تبلیغِ قرآن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ،  دعوتِ اسلامی کے اجتماعی اعتکاف میں مُعتکِف ہوگئے۔ یو ں تو یہ پہلے ہی سے دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابَستہ تھے مگر عاشِقانِ رسول کے ساتھ  اجتماعی اعتِکاف میں شُمُولیّت پہلی ہی بار نصیب ہوئی تھی۔ اعتِکاف میں بَہُت کچھ سیکھنے کا موقع ملا اور ساتھ ہی ساتھ دعوتِ اسلامی کے 72 مدنی انعامات میں سے پہلی صَف میں نَماز پڑھنے کی ترغیب والے دوسرے مدنی انعام کا خوب جذبہ ملا، چُنانچِہ اُنہوں نے پہلی صَف میں نَماز پڑھنے کی عادت بنا لی ۔ 2شوال المکرم یعنی عیدُ الفِطْر کے دوسرے روز تین دن کے مدنی قافِلیمیں عاشِقانِ رسول کے ہمراہ سنّتوں بھرا سفر کیا، مدنی قافِلہ سے واپَسی کے پانچ یا چھ دن کےبعد یعنی11شوال المکرم   ۱۴۲۵ ھ، 2004ء کوکسی کام سے بازار جانا ہوا، مصروفیّت بھی تھی مگر تاخیر کی صورت میں پہلی صَف فوت ہو جانے کاخَدشہ تھا۔ لہٰذا سارا کام چھوڑ کر مسجِد کا رُخ کیا اور اذان سے قَبل ہی مسجِد میں پَہنچ گئے، وُضو کر کے جوں ہی کھڑے ہوئے کہ گر پڑے ،  کَلِمہ  شریف اور دُرُودِ پاک پڑھتے ہوئے اُن کی رُوح  قَفَسِ عُنصُری سے پرواز کر گئی۔اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ(۱۵۶)۔

 اَلْحَمْدُ لِلّٰہ اجتماعی اعتکاف کی بَرَکت سے     مدنی انعامات کے دوسرے  مدنی انعام پہلی صَف میں نَماز پڑھنے کے ملے ہوئے جذبے نے کالو چاچا کو انتِقال کے وَقت بازار کی غفلت بھری فَضاؤ ں سے اُٹھا کرمسجِد کی رحمت بھری فضاؤ ں میں پہنچا دیا اور کیسی خوش نصیبی کہ آخِری وَقْت کَلِمہودُرُود نصیب ہوگیا۔  سُبْحٰنَ اللّٰہ  !  اور جس کو مرتے وَقت کَلِمَہ شریف نصیب ہو جائے اُس کا قَبْر وحَشْر میں بیڑا پار ہے۔

            چُنانچِہ نبی رَحمت ، شفیعِ اُمّت،مالِکِ جنّت ،  محبوبِ رَبُّ الْعِزَّت صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمانِ جنت       نشان ہے:  ’’ جس کا آخِری کلام لآاِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُ   ‘‘  ہو، وہ داخِلِ جنت ہوگا۔  (سنن ابی



Total Pages: 194

Go To