Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

اپنی آنکھوں میں سجانے والے گنبدخضریٰ کی زیارت کے لئے تڑپنے والے بن گئے ،  مال کی محبت میں گم رہنے والے فکرِ آخرت میں مبتلا رہنے والے بن گئے ،  فحش رسائل

وڈائجسٹ کے رَسْیَا امیرِاہلِسنت مد ظلہ العالی وعلمائے اہلِ سنت دامَتْ فُیُوْضُھُمکے رسائل اور دیگر دینی کتب کا مطالعہ کرنے والے بن گئے ، تفریح کی خاطر ٹُوَر پر جانے کے عادی راہِ خدامیں سفر کرنے والے بن گئے ،   ’’ کھاؤ،پیو اور جان بناؤ  ‘‘ کے نعرے کو اپنی زندگی کا محور قرار دینے والے اس مدنی مقصد کو اپنانے والے بن گئے کہ   ’’ مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے ۔ اِنْ شَاءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ‘‘

          اَلْحَمْدُلِلّٰہعَزَّوَجَلَّ  !  دعوت ِ اسلامی کے سنتوں کی تربیت کے مدنی قافلے 3دن ، 12 دن ، 30 دن اور 12 ماہ کیلئے راہِ خدا میں سفر کی سعادت حاصل کرتے رہتے ہیں ۔ ان مدنی قافلوں کی برکت سے پنج وقتہ نماز کی پابندی کے ساتھ ساتھ پیارے آقا صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سنتیں بھی سیکھنے کو ملتی ہیں اور علمِ دین کے لئے سفر کا ثواب الگ سے حاصل ہوتا ہے ۔ آپ بھی مدنی قافلوں میں سفر کی نیت فرمالیجئے۔ اللہ عزَّوَجَلَّ آپ کو باربار مکہ شریف  اور مدینے شریف کا سفر نصیب فرمائے۔     اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

تیسری ترغیب :نیکی کی دعوت

            اَلْحَمْدُلِلّٰہ عزَّوَجَلَّ ہم مسلمان ہیں اور مسلمان کا ہر کام  اللہ عزَّوَجَلَّ  اور اُس کے پیارے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی خوشنودی کے لئے ہونا چاہئے،  مگر بدقسمتی سے ہماری اکثریت نیکی کے راستے سے دور ہوتی جارہی ہے ،  شاید اِسی وجہ سے ہمیں طرح طرح کی پریشانیوں کا سامنا ہے، کوئی بیمار ہے تو کوئی قرضدار، کوئی گھریلو ناچاقیوں کا شکارہے توکوئی تنگدست و بے روز گار، کوئی اَولاد کا طلبگار ہے تو کوئی نافرمان اَولاد کی وجہ سے بیزار، الغرض ہر ایک کسی نہ کسی مصیبت میں گرفتار ہے یقینا دُنیا و آخرت کی ہر پریشانی کا واحد حل  اللہ عزَّوَجَلَّ  اور اُس کے پیارے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بتائے ہوئے کاموں میں لگ جاناہے۔ 

            مسلمانوں کے لئے سب سے پہلا فرض نماز ہے مگر افسوس!  کہ ہماری مسجدیں ویران ہیں ،  یقینا  ’’ نماز دین کا ستون ہے۔ ‘‘  (کنز العمال،کتاب الصلاۃ،الفصل الثانی فی فضائل الصلاۃ،الحدیث:۱۸۸۸۵،ج۷،ص۱۱۵)

             نماز اللہ عَزَّوَجَلَّکی خوشنودی کا سبب ہے، نماز سے رحمت نازل  ہوتی ہے،نماز سے گناہ معاف ہوتے ہیں ،  نماز بیماریوں سے بچاتی ہے، نماز دُعاؤ ں کی قبولیت کا سبب ہے۔(کنز العمال،الحدیث:۱۹۰۳۶،ج۷،ص۱۲۷)

            نماز سے روزی میں برکت ہوتی ہے، نماز اندھیری قبر کا چراغ ہے، نماز جنت کی کنجی ہے۔ (المسند للامام احمد بن حنبل،حدیث:۱۴۶۶۸،ج۵،ص۱۰۳)

            نماز مومن کانور ہے۔ (الجامع الصغیر،باب الصاد،الحدیث:۵۱۸۰،ص۳۱۹)

            نماز میٹھے میٹھے آقاصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ (کنز العمال،کتاب الصلاۃ،باب فی فضائل الصلاۃ،الفصل الثانی،الحدیث:۱۸۹۰۸،ج۷،ص۱۱۷)

            نماز پُل صراط کے لئے آسانی ہے، نمازی کو سرکار صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی شفاعت نصیب ہوگی ۔

             بے نمازی سے  اللہ عَزَّوَجَلَّ  ناراض ہوتا ہے، جو جان بوجھ کر ایک نماز بھی چھوڑ دیتا ہے اُس کا نام جہنم کے دروازے پر لکھ دیا جاتا ہے۔(المرجع السابق،باب الترھیب عن ترک الصلاۃ،الحدیث۱۹۰۸۶،ج۷،ص۱۳۲)

            زندگی بے حد مختصر ہے، یقینا سمجھدار وُہی ہے جو جتنا دُنیا میں رہنا ہے اُتنا دنیا کے لئے اور جتنا عرصہ قبر وآخرت کا ہے اُتنی قبر وآخرت کی تیاری میں مشغول رہے ، کئی ہنستے بولتے انسان اچانک موت کا شکار ہوکر دیکھتے ہی دیکھتے اندھیری قبر میں پہنچ جاتے ہیں اِسی طرح ہمیں بھی مرنا پڑے گااَندھیری قبر میں اُترنا پڑے گا اپنی کرنی کا پھل بُھگتنا پڑے گا۔ حدیث شریف میں ہے: ’’ قبر روزانہ پکار کر کہتی ہے: اے آدمی!  کیا تو مجھے بھول گیا؟  یاد رکھ میں تنہائی کا گھر ہوں ،  میں اَجنبیت کا گھر ہوں ،  میں گھبراہٹ کا گھر ہوں ،  میں کیڑے مکوڑوں کا گھر ہوں ،  میں تنگی کا گھر ہوں ،  مگر جس کے لئے      اللّٰہ تعالٰی مجھے وسیع کردے۔ پھر آپ عَلَیْہِ الصَّلاۃُ وَالسَّلام نے مزید ارشادفرمایا : ’’ قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یا دوزخ کے  گڑھوں میں سے ایک گڑھا۔  ‘‘   (المعجم الاوسط، الحدیث:۸۶۱۳،ج۶،ص۲۳۲)

            جب قبر سے نکلیں گے تو قیامت کا پچاس ہزار سالہ دن ہوگا، سورج ایک میل پر رہ کر آگ برسا رہا ہوگا، تانبے کی دَہکتی ہوئی زمین پر ننگے پاؤ ں کھڑا کیا جائے گا،حدیث شریف میں ہے: ’’  اُس وقت تک بندہ قیامت کے روز قدم نہیں ہٹاسکے گا جب تک اُس سے پانچ سوالات نہ کرلئے جائیں (۱) عمر کس کام میں صرف کی؟ (۲) جوانی کیسے گزاری ؟  (۳،۴) مال کس طرح کمایا اور کس طرح خرچ کیا؟  (۵) اپنے علم پر کہاں تک عمل کیا؟   ‘‘ (سنن الترمذی،کتاب صفۃ القیامۃ،باب فی القیامۃ، الحدیث:۲۴۲۴،ج۴،ص۱۸۸)

            تبلیغ قرآن و سنّت کا درد لے کر  ’’ دعوتِ اسلامی ‘‘  کا ایک مدنی قافلہ آپ کے علاقے کی ……مسجد میں آیا ہوا ہے ، برائے کرم!  آپ بھی اپنے قیمتی وقت میں سے چند لمحات اللّٰہو رَسول عزَّوَجَلَّ  وصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی خوشنودی کیلئے ہمیں دیجئے اور مسجد میں تشریف لے چلئے مسجد میں سنّتوں بھرا درس جاری ہے ، اِنْ شَاءَ اللہ  عَزَّوَجَلَّثواب کا بہت بڑا خزانہ آپ کے ہاتھ آئے گاجیسا  کہ سرورِ عالم ، نورِ مجسم،شَہَنْشاہِ بنی آدم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا:

             ’’ اے ابو ذر!  صبح کے وقت تیر ا کتابُ اللّٰہ سے ایک آیت سیکھنا تیرے لیے سورکعتیں ادا کرنے سے اچھاہے اورصبح کے وقت تیرا علم کی ایک بات سیکھنا ہزار رکعت نماز پڑھنے سے اچھا ہے خواہ اس پر عمل ہویا نہ ہو۔ ‘‘ (سنن ابن ماجہ ، کتاب السنۃ ، باب فی فضل من تعلم۔۔۔۔الخ ، الحدیث:۴۱۹،ج۱،ص۱۴۲)

            اگر آپ کے پاس وقت ہے توابھی تشریف لے چلئے۔اللّٰہ تعالٰی آپ کو اور ہمیں دونوں جہاں کی بھلائیاں نصیب فرمائے ۔  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

 



Total Pages: 194

Go To