Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

             میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت،مولیٰناشاہ امام اَحمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن  فرماتے ہیں : ’’  ہر شخص پر اُس کی حالتِ موجودہ کے مسئلے سیکھنا  فرضِ عَین ہے اور انہیں میں سے مسائلِ حلال و حرام کہ ہر فردِ بشر ان کا      محتاج ہے۔  (تفصیلی معلومات کیلئے فتاوٰی رضویہ جلد 23صَفْحَہ 623 تا630 کا مُطالَعَہ فرمایئے)

قافلے والوں کامدرَسے کے مَطبَخ سے کھانا پکانا

سُوال: اگر جامعۃ المدینہ سے مُلحِقہ مسجد میں مدنی قافِلہ قیام کرے اور شُرکائے قافِلہ جامِعۃ المدینہ کے مَطبخ( یعنی باورچی خانے) میں اپنا کھانا پکا لیں تو جائز ہے یا نہیں ؟

جواب: جائز نہیں ۔ کیوں کہ گیس کا بِل، ماچس، برتن وغیرہ سب پر چندے کی رقم صَرف کی جاتی ہے۔ بعض اَوقات ایسا بھی ہو تا ہو گا کہ لوگ جامِعۃ المدینہ کیلئے برتن وغیرہ وَقف کر دیتے ہوں گے۔ ایسی صورت میں بھی باہَر والوں کو استعمال کی شرعاً اجازت نہیں ہو سکتی۔مدنی قافلے والوں کیلئے ضَروری ہے کہ اپنے چولھے برتن وغیرہ کی ترکیب رکھیں ،  نمک بھی کم پڑنے کی صورت میں مدرَسے سے نہ لیں ۔ یہ بھی ذہن میں رہے کہ یوں کہہ کر بھی نہیں لے سکتے کہ چلو ابھی لے لیتے ہیں ،  پیسے  دیدیں گے یا جتنا لیا ہے اُس سے زیادہ دے دیں گے۔ ضِمناً عرض ہے کہ یہ اِحتیاط ہر جگہ لازِمی ہے کہفنائے مسجِد بلکہ خارجِ مسجِد میں بھی ایسی جگہ پکائیں جہاں سے مسجِد کے اندر دھواں یابدبو وغیرہ داخِل نہ ہو۔ کھانا کھانے یادھونے پکانے وغیرہ میں وہاں کی دری یا فرش وغیرہ بالکل آلودہ نہ ہو اِس کا خیال رکھنا ضَروری ہے۔

  قافِلے والوں کا فِنائے مسجِد میں کھانا پکانا

سُوال: کیا مدنی قافلے والوں کا فنائے مسجِد میں کھانا پکانا جائز ہے؟

جواب: مسجد کو بدبودار چیزوں سے بچانا واجب ہے اگر فنائے مسجد میں کھانا پکانے کے باوجودمسجِد کو(مَثَلاً ماچس کی تیلی جلنے پر اڑنے والی بدبُو ، کچّے گوشت، کچّے لہسن وپیاز وغیرہ کی) بدبو سے بچایا جاسکتا ہو توجائز ہے ۔ البتّہ اوپر دیے گئے جواب میں مذکور احتیاطیں ضَرور ملحوظ رہیں ۔

 کیا مدنی قافلے والے جامعۃ المدینہ کا کھانا کھا سکتے ہیں ؟

سُوال:  مدنی قافلے کے مسافِردعوتِ اسلامی کے جامِعۃ المدینہ یا کسی بھی مدرَسے کے طَلَبہ کاکھانا کھا سکتے ہیں یا نہیں ؟       جواب: نہیں کھا سکتے۔

   مدرَسے کے کمبل دوسرا کوئی استِعمال کر سکتا ہے یا نہیں ؟

سُوال: مسجد میں    مدنی قافِلہ آکر ٹھہرے    تو سردیوں کی صورت میں جامِعۃ المدینہ کے طَلَبہ کیلئے ملے ہوئے کمبل وغیرہ مدنی قافلے کے مسافِر استعمال کر سکتے ہیں یا نہیں ؟

جواب:   طَلَبہ کو دئیے گئے کمبل طَلَبہ کے علاوہ اساتِذہ ،  عملہ، اورمہمان استعمال کر سکتے ہیں ۔ان کے سِوا مدنی قافِلے والے یا عام مسلمان استِعمال نہیں کر سکتے۔ ہاں دینے والے نے دینے سے قَبل صراحت کردی ہو یعنی واضِح الفاظ میں کہہ دیا ہو کہ مدنی قافلے والے بلکہ ہر مسلمان کو استِعمال کرنے کا اختیار ہے تو کر سکتے ہیں ۔

مدنی قافِلے کے اَخراجات کے بارے میں سُوال جواب

سُوال: سات اسلامی بھائی دعوتِ اسلامی کے سُنّتوں کی تربیّت کے تین روزہ مدنی قافلے کے مسافِربنے سب نے اَخراجات کیلئے فی کس 92روپے جمع کروائے مگر ایک نے 63 روپے پیش کئے اور سب مل جُل کر یکساں طور پر کھانا وغیرہ کھاتے رہے، اِس صورت میں کوئی مسئلہ تو نہیں ؟  

جواب:اگر مل جُل کر خرچ کرنا ہو تو یہ ضَروری ہے کہ سب سے یکساں رقم وُصُول کی جائے ایسا نہ ہو کہ بعض سے کم لی جائے اور کھانا، پینا اور دیگر سَہولیات برابر برابر دی جائیں کہ اس صورت میں کم رقم جمع کروانے والے زِیادہ دینے والوں کے حصّے میں بِلا اجازتِ شرعی شامِل ہو کر گناہ گار ہوں گے۔  نبیِّ اکرم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا: ’’  ایک مسلمان کا خون ،  مال اور عزّت دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔ ‘‘   (صَحِیح مُسلِم  ص۱۳۸۶۔۱۳۸۷حدیث۲۵۶۴)  

             مُفَسّرِشہیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحنّان اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : یعنی کوئی مسلمان کسی مسلمان کامال بغیر اس کی اجازت نہ لے ، کسی کی آبروریزی نہ کرے ، کسی مسلمان کو ناحق اور ظلماً قتل نہ کرے کہ یہ سب سخت جرم ہیں ۔ (مراٰۃ المناجیح ج۶ ص۵۵۳)

 قافِلے میں سب یکساں رقم جمع کروائیں

             مدنی قافِلے میں ہر ایک یکساں رقم جمع کروائے اگر یہ ممکن نہ ہو تو جس کے پاس کم رقم ہو کوئی اسلامی بھائی اُس کی کمی پوری کر دے اگر یہ نہ ہو سکے توامیرِ قافِلہ فَقَط مُبہَم(یعنی غیر واضح)سا اعلان نہ کرے، بلکہ سب سے فرداً فرداً صَرا حَۃً (یعنی ایک ایک سے صاف لفظوں میں ) اِجازت لے۔ہاں کم رقم دینے والے کی نشاندہی کر کے اُس کو شرمندہ نہ کیا جائے ۔ مَثَلاً ا میرِ قا  فِلہ ایک ایک سے کہے: مَثَلاً ہم نے سب سے فی کس 92 روپے لئے ہیں مگر ایک اسلامی بھائی ایسے ہیں جنہوں نے 63 روپے دیئے ہیں ، کیا آپ کی طرف سے اجازت ہے کہ وہ بھی کھانے پینے وغیرہ مُعاملات میں برابر کے شریک رہیں ؟  جو جو اجازت دیں گے صِر ف ان ہی کی طرف سے اِجازت مانی جائے گی۔بِالفرض کسی نے اجازت نہ دی تو اُس کا حساب الگ رکھنا ضَروری ہے۔

رقم یکساں ہو مگر خوراک سب کی یکساں نہیں ہوتی۔۔۔۔۔؟

سُوال :  یہ تو بڑا مسئلہ ہو گیا!  اگر سب نے برابر برابر رقم جمع کروائی ہے پھر بھی کسی کی خُوراک کم ہوتی ہے اور کسی کی زِیادہ، اِس کا بھی حل بتا دیجئے۔

جواب : یہ مسئلہ اور ہے ،  ایسی صورت میں کم زیادہ کھانے میں کوئی حَرَج نہیں ۔

            چُنانچِہ مکتبۃالمدینہ کی مطبوعہبہارِ شریعت جلدسوم حصّہ16 صَفْحَہ381پرصدرُ الشَّریعہ بدرُالطَّریقہ  علّامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمی  عَلَیْہِرَحْمَۃُ اللّٰہِ  القَوِی فرماتے ہیں :  ’’ بَہُت سے لوگوں نے چندہ کر کے کھانے کی چیزتیّار کی اور سب ملکر اُسے کھائیں گے، چندہ سب نے برابر دیا ہے اور کھانا کوئی کم کھائیگا کوئی زیادہ اس میں حَرَج نہیں ۔اِسی طرح مُسافِروں نے



Total Pages: 194

Go To