Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

{85} احیاء العلوم انسان بنانے والی کتاب ہے۔( مدنی مذاکرہ،۱۱جمادی الاولیٰ ۱۴۳۶ھ ، مدنی پھول۱۵) (آف ائیر)

{86} تہجد پڑھنے سے چہرے پر ایسی نورانیت آتی ہے جو قبر میں بھی ساتھ رہے گی۔ اِنْ شَاءَ اللّٰہ عزَّوَجَلَّ ( مدنی مذاکرہ،۷رمضان المبارک ۱۴۳۶ھ ، مدنی پھول۱)

 {87} اذان کا احترام کرتے ہوئے گفتگو موقوف کردینا چاہیے۔ ( مدنی مذاکرہ،۱۷رمضان المبارک ۱۴۳۶ھ ، مدنی پھول۱)

 {88} گھور کر دیکھنا،بے موقع مسکرانا،طنز کرنا، مذاق اڑانا، دل آزاری کا باعث ہیں ۔( مدنی مذاکرہ،۲۲رمضان المبارک ۱۴۳۶ھ ، مدنی پھول۴)

 {89} یا اللّٰہ عَزَّوَجَلّ! جو روزانہ دو درس دیں یا سنیں وہ مرنے سے پہلے مدینہ دیکھیں ۔ (مدنی مذاکرہ ، ۱۷ شوال المکرم ۱۴۳۵ مدنی پھول نمبر 24 ) (آف ایئر)

 {90} میرا جی چاہتا ہے کہ ہر شے کا رخ قبلے کی طرف کیا کروں ۔ (مدنی مذاکرہ ، یکم ربیع الآخر ۱۴۳۶ھ، مدنی پھول نمبر ۱۸)

 {91} ہر عاشق رسول کو چاہیے کہ مدنی انعام نمبر23(کیا آج آپ نے دعوت اسلامی کے مدنی کاموں مثلا انفرادی کوشش،درس و بیان، مدرسۃ المدینہ بالغان وغیرہ پر کم از کم 2 گھنٹے صرف کیے؟ )پر عمل کرتے ہوئے دعوتِ اسلامی کے مدنی کاموں کے لیے روزانہ 2گھنٹے ضرور دے۔  (مدنی مذاکرہ، ۹جمادی الاخریٰ۱۴۳۷ھ، مدنی پھول نمبر۵)

 {92} وہ ودعو تِ اسلامی والے جو مدنی انعامات پر عمل کا ذہن رکھتے ہیں وہ قہقہہ نہیں لگاتے۔کیونکہ قہقہہ لگانا سنت نہیں ،  البتہ قہقہہ لگانا گناہ بھی نہیں ۔(مدنی مذاکرہ، ۱رمضان ۱۴۳۷ ھ)

 {مکتب مدنی انعامات}

آئیے غور کریں !

 کہیں ایسا تو نہیں !  کہ ہم جس مقصد کو لے کر اس مدنی ماحول کے قریب ہوئے تھے، آج نادانستہ اپنے اِس مقصد کو بھولتے جارہے ہوں ۔کہیں ہمیں دوبارہ وابَستہ ہونے کی ضَرورت تو نہیں ؟  کیونکہ وابَستہ کہلانا اور ہے اور وابَستہ ہونا اور ۔۔۔۔۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اگر کوئی یوں کہے کہ نیکیوں میں دل نہیں لگتا، نمازوں میں لطف نہیں آتا، تلاوت کی طرف دل مائل نہیں ہوتا۔ سنتوں پر عمل میں سُسْتی رہتی ہے۔ نہ مدنی قافلو ں میں سَفَر ہوتا ہے نہ ہی مدرسے میں مزہ آتا ہے۔ نمازِ فجر کے لیے اُٹھا نہیں جاتا، اِجتماع میں بھی زبردستی آتا ہوں ، آہ!  روحانیت نام کی کوئی شے میں اپنے اندر نہیں پاتا۔ پہلے نیکیوں میں لذَّت ملتی تھی اب نہیں ملتی۔ پہلے نعتوں میں خوب روتا تھا مگر اب دل کی سختی کے باعث رونا بھی نہیں آتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔یابعض اِسلامی بھائیوں کا، مسجد میں مَدْرَسَہ نہ لگنے یا تعداد کم ہوجانے پر تو دل اُداس ہومگر نماز میں دل نہ لگنے یا جماعت چُھوٹنے پر کم ہونے والی نیکیوں پر کوئی رَنج طاری نہ ہو۔ حلقے میں بَدْمَزَگی ہوجانے پر فِکْر مند ہوں مگر زبان سے فُضول باتیں نکلیں یا(مَعَاذَ  اللّٰہ عَزَّوَجَلّ) بدنگاہی کی آفَت میں جا پڑیں تو فِکْر تو دُور کی بات ماتھے پر شِکَن بھی نہ آئے۔ مدنی کاموں کی کمی پر رنجیدہ تو ہوں مگر عمل میں سُسْتی سے ہونے والی بربادی اور تباہی پر دھیان نہ ہو، کوئی ذِمَّہ دار ناراض ہو جائے تو پریشان ہوں ،  مگر اللّٰہ عزَّوَجَلَّ اور اسکے پیارے محبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسلَّم کی ناراضگی کے خوف سے خود کو محروم پائیں تو کہیں ایسا تو نہیں کہ دینی کاموں کی گہما گہمی میں ہم نے مدنی ماحول سے وابستگی کے اَصْل مقصد کو بھلا دیاہو۔

میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو!  عِلاقے میں مدنی کام کم ہونے کے باعث دل کُڑھنا یقیناًسعادت ہے مگراِس کے ساتھ ساتھ اپنے مدنی مقصد کی جانب بھی دھیان رکھنا ضَروری ہے، جسے امیر اہلسنّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے ایک جملے میں سَمودیا ہے (یعنی) ’’ مجھے اپنی اورساری دُنیا کے لوگوں کی اِصلاح کی کوشش کرنی ہے۔ ‘‘           (اِنْ شَاءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلّ)

            ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ نیک بنانے کا جَذْبَہ تو برقرار رہے،مگر نیک بننے کا جَذْبَہ کم ہوجائے۔          (جنت کے طلبگاروں کے لئے مدنی گلدستہ،ص۲۳)

ہر ایک کے لئے عمل کرنا آسان

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  آپ کے پاس کوئی دینی منصب ہو یا نہ ہو، آپ نے داڑھی ، عِمامہ اور مدنی لباس اپنایا ہو یا نہیں یا آج پہلی مرتبہ ہی  ’’ اِن مدنی انعامات ‘‘  کے ذَرِیعے  ’’ دعوتِ اسلامی ‘‘  کے مدنی ماحول سے مُتَعارِف ہورہے ہوں آپ بھی  ’’  مدنی انعامات  ‘‘  کے مطابق آسانی سے عمل کرسکتے ہیں ،  یاد رکھیے ،  ہم کتنے بھی مصروف ہوں اِنْ شَاءَ اللّٰہ عزَّوَجَلَّ  ’’ مدنی انعامات ‘‘  کے مطابق عمل کرنے سے نہ ہمارے دنیوی کام کاج متاثر ہوں گے نہ

ہی تعلیم میں حر ج ہوگا اور نہ ہی ہمارے گھر بار اورکاروبار کے معاملات میں رکاوٹیں ہوں گی بلکہ رکاوٹیں دور ہوں گی ،  کیونکہ  ’’ مدنی انعامات ‘‘  کے مطابق عمل کرنے والوں کو امیر ِ اہل سنت  دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ  اس طرح اپنی دعا ؤ ں سے نواز رہے ہیں :

د عا ئے عطار: اللّٰہ عَزَّوَجَلّ آپ کو مدینہ منورہ کے سدا بہار پھولوں کی طرح مسکراتا رکھے کبھی بھی آپ کی خوشیاں ختم نہ ہوں ،  حیات ومَمَات(موت)، بَر زَخ وسَکَرات (حالتِ نزع )اور قیامت کے جاں سوز لمحات میں ہر جگہ مَسَرَّتیں اور شادمانیاں نصیب ہوں ، اللّٰہ عزَّوَجَلَّ  آپ کی اور تمام قبیلے کی مغفرت کرے، جنتُ الفِرْدَوْس میں آپ کو اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسلَّم  کا جوار عطا فرمائے۔ (اٰمین بجاہ النبی الامین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسلَّم)

          امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہارشاد فرماتے ہیں کہ جب مجھے معلوم ہوتا ہے کہ فلاں اسلامی بھائی یا اسلامی بہن کا  ’’  مدنی انعامات  ‘‘  پر عمل ہے تو دل باغ باغ بلکہ باغِ مدینہ ہوجاتا ہے۔ یا سنتا ہوں کہ فلاں نے زبان اور آنکھوں کا یا ان میں سے کسی ایک کا  ’’ قفلِ مدینہ ‘‘  لگایا ہے توعجیب کیف وسُرُور حاصل ہوتاہے۔

          امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی دعا اور آپ کی ترغیب کا انداز دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ دنیا اور آخِرت  کی بہتری کے خواہش مندہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ ان مدنی انعامات پر عمل کرنے والا بن جائے۔ (جنت کے طلبگاروں کے لئے مدنی گلدستہ،ص۳۲)

 



Total Pages: 194

Go To