Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

سیدھی ) جانب سے اِبتدا کرنی چاہیے اور جب اُتارے تو بائیں ( الٹی)  جانب سے اِبتداکرنی چاہیے تاکہ دایاں (سیدھا)پاؤں پہننے میں اوّل اور اُتارنے میں آخِری رہے(بُخاری ج ۴ ص ۶۵ حدیث۵۸۵۵ ) نزھۃُ القاری میں ہے :مسجد میں داخِل ہوتے وقت حکم یہ ہے پہلے سیدھا پاؤں مسجد میں رکھے اور جب مسجد سے نکلے تو پہلے اُلٹا پاؤں نکالے ۔ مسجد کے داخلے کے وقت اس حدیث پر عمل دشوار ہے۔  اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خانعلیہ رحمۃالرّحمٰن نے اس کا حل یہ ارشاد فرمایا ہے : جب مسجد میں جاناہو تو پہلے اُلٹے پاؤں کو نکال کر جوتے پر رکھ لیجئے پھر سیدھے پاؤں سے جوتا نکال کر مسجد میں داخل ہو۔ اور جب مسجد سے باہر ہوتواُلٹا پاؤں نکال کر جوتے پر رکھ لیجئے پھر سیدھا پاؤں نکال کر سیدھا  جوتا پہن لیجئے پھراُلٹا پہن لیجئے۔( نزہۃ القاری ج ۵ ص۵۳۰)  {4} مَرد مردانہ اور عورت زَنانہ جوتا استعمال کرے {5} کسی نے حضرتِ   سیِّدتُنا عائشہ   رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْھا  سے کہا کہ ایک عورت (مردوں کی طرح) جوتے پہنتی ہے۔ انھوں نے فرمایاکہ رسولُ اللّٰہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مردانی عورَتوں پر لعنت فرمائی ہے(سنن ابی دَاود ج۴ ص۸۴ حدیث۴۰۹۹) بہارشریعت ج3 حصہ 16ص422پرہے :  یعنی عورَتوں کو مردانہ جوتا نہیں پہننا چاہیے بلکہ وہ تمام باتیں جن میں مردوں اور عورَتوں کا امتیاز ہوتا ہے ان میں ہر ایک کو دوسرے کی وَضع اختیار کرنے(یعنی نقّالی کرنے) سے مُمانَعَت ہے، نہ مرد عورت کی وَضع (طرز)  اختیار کرے، نہ عورت مرد کی  {6}  جب بیٹھیں تو جوتے اتا ر لیجئے کہ اِس سے قدم آرام پاتے ہیں  {7}  (تنگدستی کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ )اوندھے جوتے کو دیکھنا اور اس کو سیدھا نہ کرنا ’’ دولتِ بے زوال  ‘‘   میں لکھا ہے کہ اگر رات بھر جوتا اوندھا پڑا رہا تو شیطان اس پر آن کر بیٹھتا ہے وہ اس کا تخت ہے(سنی بہشتی زیور حصہ۵ ص۶۰۱)استعمالی جُوتا اُلٹا پڑا ہوتو سیدھا کردیجئے ۔یا  اللہ   عَزَّوَجَلَّ  !  ہمیں سنت کے مطابق جوتے پہننے اوراُتارنے کی تو فیق مرحمت فرما ۔

سونے جاگنے کی سنتیں اورآداب

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!

            نیند بھی ایک طر ح کی موت ہے۔ جب بھی ہم سونے لگیں تو ہمیں ڈرجانا چاہیے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ آنکھ ہی نہ کھلے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہی سوتے نہ رہ جائیں ۔ لہٰذا روزانہ سونے سے پہلے بھی اپنے گناہوں سے توبہ کر لینی چاہئے۔

          پیارے اسلامی بھائیو!  اگر ہم سنت کے مطابق دعائیں وغیرہ پڑھ کر سوئیں تو  اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  ہمیں سونے کا بھی کچھ نہ کچھ فائدہ حاصل ہو ہی جائے گا۔

            ٭الٹا یعنی پیٹ کے بل نہ سوئیں ۔حضرت سیدناابوہریرہ        رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی  عَنْہ سے مروی ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک       صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ایک شخص کو پیٹ کے بل لیٹے ہوئے دیکھا تو فرمایا: ’’ اس طرح لیٹنے کواللّٰہ تعالٰی پسند نہیں فرماتا۔ ‘‘ (سنن ابن ماجہ،ج۴،ص۲۱۴،حدیث: ۳۷۲۳ وجامع الترمذی، کتاب الشمائل،ج۵،ص۵۴۹،حدیث۳ ۵ ۲)

            ٭ قرآن مجید کے آداب میں سے یہ بھی ہے کہ اس کی طرف پیٹھ نہ کی جائے نہ پاؤں پھیلائے جائیں ،  نہ پاؤں کو اس سے اونچا کریں ،  نہ یہ کہ خود اونچی جگہ پر ہو اور قرآن مجید نیچے ہو۔(بہارشریعت،جلدسوم،حصہ۱۶،ص۴۹۶)ہاں اگر قرآن پاک اور مقدس طغرے وغیرہ اونچی جگہ ہوں تو اس سمت پاؤں کرنے میں مضایقہ نہیں ۔(الفتاوی الھندیہ،ج۵،ص۳۲۲)

’’ کاش! جنّتُ الْبقیعملے ‘‘  کے پندرہ حُرُوف کی نسبت سے سونے جاگنے  کے 15 مدنی پھول

          ٭پیش کردہ ہر ہر مدنی پھول کو سنّتِ رسولِ مقبولعلٰی صاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام پرمَحمول نہ فرمایئے، ان میں سنّتوں کے علاوہ بُزُرگانِ دین  رَحِمَہُمُ اللّٰہُ المبین سے منقول مدنی پھول کا بھی شُمُول ہے۔جب تک یقینی طور پر معلوم نہ ہو کسی عمل کو  ’’  سنّتِ رسول  ‘‘  نہیں کہہ سکتے ۔

 {1}  سونے سے پہلے بستر کواچھی طرح جھاڑلیجئے تاکہ کوئی مُوذی کیڑا وغیرہ ہو تو نکل جائے  {2}   سونے سے پہلے یہ دعا پڑھ لیجئے: اَللّٰھُمَّ بِاسْمِکَ اَمُوْتُ وَاَحْیٰی ترجَمہ: اے اللہ   عَزَّوَجَلَّ !  میں تیرے نام کے ساتھ ہی مرتا ہوں اور جیتا ہوں (یعنی سوتا اور جاگتا ہوں )( بُخارِی ج۴ ص۱۹۶حدیث ۶۳۲۵) {3}  عصر کے بعد نہ سوئیں عقل زائل ہونے کا خوف ہے۔فرمانِ مصطفٰی صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   :  ’’ جو شخص عصر کے بعد سوئے اور اس کی عقل جاتی رہے تو وہ اپنے ہی کو ملامت کرے۔ ‘‘   (مسند  ابی یعلٰی ج۴ ص۲۷۸حدیث ۴۸۹۷ ) {4}  دوپہر کوقیلولہ ( یعنی کچھ دیر لیٹنا) مستحب ہے۔ (عالَمگیری ج ۵ ص ۳۷۶ )

            صدرُالشَّریعہ، بدرُالطَّریقہحضرتِ   علّامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمی  عَلَیہِ رَحمَۃُ اللّٰہالقَوِیفرماتے ہیں :غالِباً یہ ان لوگوں کے لیے ہوگا جو شب بیداری کرتے ہیں ،  رات میں نمازیں پڑھتے، ذکرِ الٰہی کرتے ہیں یا کُتب بینی یا مطالعے میں مشغول رہتے ہیں کہ شب بیداری میں جو تکان ہوئی قیلولے سے دَفع ہوجائے گی ۔ (بہارِشریعت،جلد سوم حصّہ۶ا ص۴۳۵ ) {5}  دن کے ابتدائی حصے میں سونا یا مغرب و عشاء کے درمیان سونا مکروہ ہے۔ (عالَمگیری   ج ۵ ص ۳۷۶ )  {6،7}  سونے میں مستحب یہ ہے کہ باطہارت سوئے اور کچھ دیرسیدھی کروٹ پر سیدھے ہاتھ کو رخسار (یعنی گال) کے نیچے رکھ کر قبلہ رُو سوئے پھر اس کے بعد بائیں کروٹ پر۔(

Total Pages: 194

Go To