Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

وضو کرے ۔ ‘‘ (سنن ابن ماجہ،کتاب الاطعمہ،باب الوضوء عند الطعام ، الحدیث۳۲۶۰،ج۴،ص۹)

حکیم الامت مفتی احمدیارخان نعیمی عَلَیہِ رَحمَۃُ اللّٰہالغَنِی لکھتے ہیں : اس(یعنی کھانے کے وضو ) کے معنی ہیں ہاتھ ومنہ کی صفائی کرنا کہ ہاتھ دھونا، کلی کرلینا ۔(مرأۃ المناجیح ، ج۶،ص۳۲)

          ٭جب بھی کھانا کھائیں تو الٹا پاؤں بچھا دیں اور سیدھا کھڑا رکھیں یا  سرین پر بیٹھ جائیں اور دونوں گھٹنے کھڑے رکھیں ۔(بہارشریعت،جلد سوم ،  حصہ ۱۶،ص۳۷۸)

          ٭ کھانے سے پہلے جوتے اتار لیں ۔حضرتِ  سیدنا انس بن مالک   رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ سرکارِ مدینہ ، فیض گنجینہ ، راحت ِ قلب وسینہصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا: ’’ کھاناکھانے بیٹھو توجوتے اتار لو ، اس میں تمہارے لئے راحت ہے۔ ‘‘ (مشکاۃ المصابیح،کتاب الأطعمۃ،الفصل الثالث،الحدیث:۴۲۴۰،ج۲،ص۴۵۴)

            ٭ کھانے سے پہلے بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمپڑھ لیں ۔حضرت سیدنا حذیفہ   رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’ جس کھانے پر بِسْمِ اللّٰہ نہ پڑھی جائے اس کھانے کو شیطان اپنے لئے حلال سمجھتا ہے ۔ ‘‘ (صحیح مسلم، کتاب الاشربہ ، باب آداب الطعام ۔۔۔الخ، الحدیث:۲۰۱۷، ص۱۱۱۶)

٭ اگر کھانے کے شروع میں بِسْمِ اللّٰہپڑھنا بھول جائیں تو یاد آنے پر بِسْمِ اللّٰہِ اَوَّلَہٗ وَاٰخِرَہٗپڑھ لیں ۔

            حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْھا سے مروی ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سرور، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا : ’’ جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو اسے چاہیے کہ پہلیبِسْمِ اللّٰہ پڑھے ۔اگر شروع میں بِسْمِ اللّٰہ پڑھنا بھول جائے تو یہ کہے  ’’ بِسْمِ اللّٰہِ اَوَّلَہٗ وَاٰخِرَہٗ ۔ ‘‘ (سنن ابی داود،کتاب الأطعمۃ،باب التسمیۃ علی الطعام،الحدیث:۳۷۶۷،ج۳،ص۴۸۷)

٭کھانے سے پہلے یہ دعا پڑھ لی جائے تو اگر کھانے میں زہر بھی ہوگا تو اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّاثر نہیں کرے گا ،  ’’ بِسْمِ اللّٰہِ الَّذِیْ لَایَضُرُّ مَعَ اسْمِہِ شَیْئٌ فِی الْاَرْضِ وَلَا فِی السَّمَآئِ یَاحَیُّ یَاقَیُّوْمُ۔ یعنی  اللہ  (عَزَّ وَجَلَّ)کے نام سے شروع کرتا ہوں جس کے نام کی برکت سے زمین وآسمان کی کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی ۔اے ہمیشہ سے زندہ وقائم رہنے والے۔ ‘‘  (فردوس الاخبار بما ثور الخطاب ، الحدیث ۱۹۵۵،ج۱،ص۲۷۴)

            ٭سیدھے ہاتھ سے کھائیں ۔حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک    صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمانِ عظمت نشان ہے : ’’ جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو سیدھے ہاتھ سے کھائے اور جب پئے تو سیدھے ہاتھ سے پئے کہ شیطان الٹے ہاتھ سے کھاتا پیتا ہے ۔ ‘‘ (صحیح مسلم،کتاب الاشربۃ،باب آداب الطعام والشرب ، الحدیث۲۰۲۰،ص۱۱۱۷)

            ٭ اپنے سامنے سے کھائیں ۔حضرتِ  سیدنا انس بن مالک   رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ’’ ہر شخص برتن کی اسی جانب سے کھائے جو اس کے سامنے ہو۔ ‘‘ (صحیح البخاری،کتاب الاطعمۃ،باب الاکل ممایلیہ،الحدیث۵۳۷۷،ج۳،ص۵۲۱)

            حضرت سیدنا ابو سلمہ   رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں کہ ایک روز کھانا کھاتے ہوئے میرا ہاتھ پیالے میں ادھر اُدھر حرکت کر رہا تھا (یعنی کبھی ایک طرف سے لقمہ اٹھا یا کبھی دوسری طرف سے اور کبھی تیسری طرف سے لقمہ اٹھایا)جب  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مجھے اس طرح کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: ’’ اے لڑکے! بِسْمِ اللّٰہ پڑھ کر دائیں ہاتھ سے کھایا کر اور اپنے سامنے سے کھایا کر ، چنانچہ اس کے بعد سے میرے کھانے کا طریقہ یہی ہو گیا۔   (المرجع السابق،باب التسمیۃعلی الطعام ، ج۳،الحدیث ۵۳۷۶،ص۵۲۱)

            ٭کھانے میں کسی قسم کا عیب نہ لگائیں مثلاً یہ نہ کہیں کہ مزیدار نہیں ،  کچا رہ گیا ہے ،  پھیکا رہ گیا کیونکہ کھانے میں عیب نکالنامکروہ و خلافِ سنت ہے بلکہ جی چاہے تو کھائیں ورنہ ہاتھ روک لیں ۔

            حضرت ابو ہریرہ      رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا کہشَہَنشاہِ کون ومکان  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے کبھی کسی کھانے کو عیب نہیں لگایا (یعنی برا نہیں کہا) اگر خواہش ہوتی تو کھا لیتے اور خواہش نہ ہوتی تو چھوڑ دیتے۔  (المرجع السابق،باب  ماعاب النبی طعاماً ،  الحدیث۵۴۰۹،ج۳ ، ص۵۳۱)

            امام اہلسنت ، مجددِ دین وملت مولاناشاہ احمد رضاخان عَلیہ رَحْمَۃُ الرَّحمٰن لکھتے ہیں :  ’’ کھانے میں عیب نکالنا اپنے گھر پر بھی نہ چاہیے مکروہ وخلاف سنت ہے۔ (سرکارِ دو عالم  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی ) عادت کریمہ یہ تھی کہ پسند آیا تو تناول فرما یا، ورنہ نہیں اورپرائے گھر عیب نکالنا تو(اس میں ) مسلمانوں کی دل شکنی ہے اور کمالِ حرص وبے مروتی پر دلیل ہے ۔  ’’ گھی کم ہے یا مزہ کا نہیں  ‘‘ یہ عیب نکالنا ہے اور اگر



Total Pages: 194

Go To