Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

          ٭ داڑھی بڑھانا سنن انبیاء ومرسلین عَلَیْہِمُ السَّلامسے ہے ۔   (المرجع السابق)

                  مونڈانا یا ایک مشت سے کم کرنا حرام ہے ۔ ’’  ہا ں ایک مشت سے زائد

ہوجائے تو جتنی زیادہ ہے اس کو کٹواسکتے ہیں ۔ ‘‘ (درمختار و ردالمحتار،ج۹،ص۶۷۱)

            ٭ مونچھوں کے دونوں کناروں کے بال بڑے بڑے ہوں توحرج نہیں ۔بعض اسلاف رَحِمَہُمُ اللّٰہ (یعنی گزشتہ بزرگوں ) کی مونچھیں اس قسم کی تھیں ۔(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الکراہیۃ،الباب التاسع عشرفی الختان۔۔۔الخ،ج۵،ص۳۵۸)

            ٭  مرد کو چاہیے کہ موئے زیر ناف اُستر ے وغیرہ سے مونڈدے ۔(بہارِشریعت،جلدسوم،حصہ۱۶،ص۵۸۴)

            ٭ اس کا م کے لئے بال صفا پاؤ  ڈر وغیرہ کا استعمال مردو عورت دونوں کو جائز ہے۔ (المرجع السابق)

          ٭ موئے زیر ناف کو ناف کے عین نیچے سے مونڈناشر وع کریں ۔ (المرجع السابق)  

            ٭جنابت کی حالت میں (یعنی غسل فر ض ہونے کی صورت میں ) نہ کہیں کےبال مونڈیں نہ ہی ناخن تراشیں کہ ایسا کرنامکروہ ہے ۔  (المرجع السابق،ص۵۸۵)

            ٭ اسلامی بہنیں اپنے سر وغیرہ کے بال ایسی جگہ نہ ڈالیں جہاں غیرمحرم کی نظر پڑے ۔(ماخوذ  بہارِشریعت،جلدسوم حصّہ ۱۶ص ۴۴۹)

          ٭ انسان کے بال (خواہ وہ جسم کے کسی بھی حصے کے ہوں ) ناخن ، حیض کا لتہ (یعنی وہ کپڑا جس سے حیض کاخون صاف کیا گیا ہو) اور انسانی خون ان چاروں چیزوں کو دفن کر دینے کا حکم ہے ۔ (درمختارو ردالمحتار،ج۹،ص۶۶۸)

 ’’ یانبیَّ ا للّٰہ ‘‘  کے نو حُرُوف کی نسبت سے ناخُن کاٹنے کے9 مَدَ نی پھول

          ٭پیش کردہ ہر ہر مدنی پھول کو سنّتِ رسولِ مقبول عَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ

وَالسَّلام پرمَحمول نہ فرمایئے، ان میں سنّتوں کے علاوہ بُزُرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ المُبِین سے منقول مدنی پھول کا بھی شُمُول ہے۔جب تک یقینی طور پر معلوم نہ ہو کسی عمل کو  ’’  سنّتِ رسول  ‘‘  نہیں کہہ سکتے۔ {1}  جمعہ کے دن ناخن کاٹنا مُستَحَب

ہے۔ ہاں اگر زیادہ بڑھ گئے ہوں تو جُمُعہ کا اِنتظار نہ کیجئے۔ (دُرِّمُختارج۹ص۶۶۸)صدرُ الشَّریعہ،بدرُالطَّریقہمولیٰنا محمدامجد علی اعظمی عَلَیہِ رَحمَۃُ اللّٰہالقَوِی  بہارشریعت،     جلد سوم ، حصہ16 ص583میں فرماتے ہیں : منقول ہے کہ  ’’ جو جُمُعہکے روز ناخُن تَرَشوائے (کاٹے)اللّٰہ تعالٰیاُس کو دوسرے جُمعے تک بلاؤں سے محفوظ رکھے گا اورتین دن زائد یعنی دس دن تک(مرقاۃ المفاتیح ج۸ص۲۱۲تحت الحدیث۴۴۲۲) ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ جو جُمُعہ کے دن ناخُن تَرَشوائے (کاٹے) تو رَحمت آئیگی اور گُناہ جائیں گے(دُرِّمُختار وردالمحتارج۹ص۶۶۸) {2}  ہاتھوں کے ناخُن کاٹنے کے منقول طریقے کاخُلاصہ پیشِ خدمت ہے: پہلے سیدھے ہاتھ کی شہادت کی انگلی سے شُرو ع کر کے ترتیب وار چھنگلیا (یعنی چھوٹی انگلی ) سَمیت ناخن کاٹے جائیں مگر انگوٹھا چھوڑدیجئے ۔اب اُلٹے ہاتھ کی چھنگلیا (یعنی چھوٹی انگلی ) سے شروع کرکے تر تیب وار انگوٹھے سَمیت ناخن کاٹ لیجئے۔اب آخِرمیں سیدھے ہاتھ کے انگوٹھے کا ناخن کاٹا جائے۔(دُرِّمُختاروردالمحتار،ج۹،ص۶۷۰واِحیاءُ الْعُلُوم،ج۱، ص۱۹۳)

 {3}  پاؤ ں کے ناخُن کاٹنے کی کوئی ترتیب منقول نہیں ،  بہتر یہ ہے کہ سیدھے پاؤ ں کی چھنگلیا (یعنی چھوٹی انگلی)سے شُروع کر کے تر تیب وار انگو ٹھے سَمیت ناخُن کاٹ لیجئے پھر اُلٹے پاؤ ں کے انگو ٹھے سے شُرو ع کر کے چھنگلیاں سَمیت ناخن کاٹ لیجئے۔(دُرِّمُختار،ج۹،ص۶۷۰) {4}  جَنابت کی حالت (یعنی غُسل فرض ہونے کی صورت )  میں ناخُن کاٹنامکروہ ہے۔ (فتاوی ھندیہ،ج۵، ص۳۵۸)

 {5} دانت سے ناخن کاٹنا مکروہ ہے اور اس سے برص یعنی کوڑھ کے مرض کا اندیشہ ہے(المرجع السابق)  {6}  ناخُن کاٹنے کے بعد ان کو دَفن کر دیجئے اور اگر ان کو پھینک دیں تو بھی حَرَج نہیں ۔(المرجع السابق) {7} ناخن کا تَراشہ (یعنی کٹے ہوئے ناخن) بیتُ الْخَلاء یا غسل خانے میں ڈال دینا مکروہ ہے کہ اس سے بیماری پیدا  ہوتی ہے ۔(المرجع السابق) {8}   بدھ کے دن ناخن نہیں کاٹنے چاہئیں کہ برص یعنی کوڑھ ہوجانے کا اندیشہ ہے البتہ اگر اُنتالیس(39) دن سے نہیں کاٹے تھے، آج بد ھ کو چالیسواں دن ہے اگر آج نہیں کاٹتا توچالیس دن سے زائد ہوجائیں گے تو اس پر واجِب ہوگا کہ آج ہی کے دن  کاٹے اس لیے کہ چالیس دن سے زائد ناخن رکھنا ناجائز و مکروہِ تحریمی ہے۔( تفصیلی معلومات کے لیے فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ  جلد22 صَفْحَہ 574 ، 685 ملاحظہ فرمالیجئے) {9} لمبے ناخن شیطان کی نشست گاہ ہیں یعنی ان پر شیطان بیٹھتا ہے ۔          ( اِتحافُ السّادَۃ للزّبیدی ج