Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

بہتریہی ہے کہ سارے جواب دیں ۔ (رَدُّالْمُحتار،ج ۹، ص ۶۸۴)  {14}  دیوار کے پیچھے کسی کو چھینک آئی اور اس نے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہا تو سننے والا اس کا جواب دے۔(ایضاً)  {15}   نَما ز میں چھینک آئے توسُکوت کرے (یعنی خاموش رہے) اوراَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہہ لیا تو بھی نَماز میں حَرَج نہیں اور اگر اس وقت حمد نہ کی تو فارِغ ہو کر کہے (عالَمگیری، ج۱ ص۹۸)  {16}  آپ نَماز پڑھ رہے ہیں اور کسی کو چھینک آئی اور آپ نے جواب کی نیّت سے  اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہہ لیا تو آپ کی نماز ٹوٹ جائے گی۔  (ایضًا) {17} کافِر کو چھینک آئی اور اس نے اَلْحَمْدُ لِلّٰہکہاتو جواب میں یَھْدِیْکَ اللّٰہ( یعنی  اللہ   عَزَّوَجَلَّ تجھے ہدایت دے ) کہاجائے۔    (رَدُّالْمُحتارج۹ص۶۸۴)

             سنّتوں کی تربیّت کا ایک بہترین ذَرِیعہ دعوتِ اسلامی کے مدنی قافِلوں میں عاشِقانِ رسول کے ساتھ سنّتوں بھرا سفر بھی ہے۔

صَلُّوا  عَلَی الْحَبِیب !                                                           صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

               اے ہمارے پیارے  اللہ    عَزَّوَجَلَّ!  ہمیں چھینک کی سنتو ں اور آداب پر عمل کرنے کی تو فیق عطا فرما۔ ‘‘   اٰمِین بِجاہِ النَّبِیِّ الْامین صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   

ناخن،حجامت ، موئے بغل وغیرہ سے متعلق سنتیں ا ورآداب

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!

            ہمارے پیارے سر کار، مدنی تاجدارصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ صفائی کو بے حد پسند فرماتے ہیں ،  آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کافرمان عالیشان ہے:  ’’ اَلطُّھُوْرُنِصْفُ الْاِیْمَانِیعنی صفائی آدھا ایمان ہے۔ ‘‘ (جامع الترمذی ، کتاب الدعوات ، با ب ۹۲،الحدیث ۳۵۳۰،ج ۵،ص۳۰۸)

            چنانچہ ہر مسلمان کو چاہیے کہ اپنے ظاہر وباطن دونوں کی صفائی کا خیال رکھے۔ ظاہر کی صفائی کاجہاں تک تعلق ہے تووہ یہ ہے کہ اپناجسم او رلباس وغیرہ نجاست سے پاک رکھنے کے ساتھ ساتھ میل کچیل وغیرہ سے بھی صاف رکھنا چاہیے ۔ نیز اپنے سر اور داڑھی کے بالوں کو بھی درست رکھیں ۔ناخن بھی زیادہ نہ بڑھنے دیں کہ ان میں میل کچیل بھر جاتا ہے اور وہ کھانا وغیرہ کھانے میں پیٹ کے اندر پہنچتا ہے جس کے سبب طر ح طر ح کی بیماریاں پیدا ہونے کا اندیشہ رہتا ہے ۔نیز بغل وزیرِ ناف کے بال بھی صاف کرتے رہناچاہیے ۔ رہاباطن کی صفائی کا معاملہ تو اپنے باطن کوبھی کینۂ مسلم ،  غرو ر وتکبر ، بغض وحسد ،  وغیرہ وغیرہ رذائل سے پاک وصاف رکھنا ضروری ہے ۔ باطن کی صفائی کے لئے اچھی صحبت بے حد ضروری ہے ۔ ظاہر ی صفائی یعنی ناخن ، موئے بغل وغیرہ کی صفائی کے متعلق مدنی پھول ملاحظہ ہوں ۔

            ٭چالیس دن کے اندر اندر ان کاموں کو ضرور کرلیں ،  مونچھیں اور ناخن تراشنا،بغل کے بال اکھاڑنا او ر موئے زیرِ ناف مُونڈنا ۔

             حضرت سیدنا انس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :  ’’ مونچھیں اور ناخن ترشوانے  او ربغل کے بال اکھاڑنے او ر موئے زیرِ ناف مُونڈنے میں ہمارے لئے یہ وقت مقرر کیا گیاہے کہ چا لیس دن سے زیادہ نہ چھوڑیں ۔ (صحیح مسلم ، کتاب الطھارۃ،باب فی خصال الفطرۃ،الحدیث۲۵۸،ص۱۵۳ )

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حدیثِ بالا سے پتا چلا کہ چالیس دن کے اندر اندر یہ کام ضرورکرلیناچاہیے۔ ہفتہ میں ایک بار نہانا او ربد ن کو صاف ستھرا رکھنا اور موئے زیرِ ناف دور کرنا مستحب ہے ۔ پندر ہویں روز کرنا بھی جائز ہے اور چالیس  رو ز سے زیادہ گزار دینا مکرو ہ و ممنوع ۔ (بہارِشریعت،جلد سوم،حصہ۱۶،ص۵۸۴)  ہوسکے تو ہر جمعہ کو یہ کام کر ہی لینے چاہئیں کیونکہ ایک حدیثِ مبارک میں ہے کہ حضور تا جدارِ مدینہ ،  راحتِ قلب وسینہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جمعہ کے دن نماز کے لئے جانے سے پہلے مونچھیں کترواتے اور ناخن ترشواتے ۔(شعب الایمان ، با ب فی الطھارات ، فصل الوضوء ، الحدیث ۲۷۶۳،ج۳،ص۲۴)

          ٭ بغل کے بالوں کو اُکھاڑ نا سنت ہے او رمونڈنا گناہ بھی نہیں ۔( درمختاروردالمحتار،کتاب الحظر والاباحۃ،فصل فی البیع،ج۹،ص۶۷۱)

٭ناک کے بال نہ اُکھاڑیں کہ اس سے مرض آکلہ پیدا ہوجانے کا خوف ہے ۔            (الفتاوی الھندیۃ،کتاب الکراہیۃ،الباب التاسع عشر فی الختان۔۔۔الخ،ج۵،ص۳۵۸)

          ٭ گر دن کے بال مونڈنامکروہ ہے۔ (المرجع السابق،ص۳۵۷)

            یعنی جبکہ سر کے بال نہ مونڈائیں صرف گردن ہی کے مونڈائیں ۔ ہاں اگر پورے سر کے بال مونڈائیں تو اس کے ساتھ گردن کے بھی مو نڈادیں ۔

             نبی پاک صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے حجامت کے سوا گردن کے بال مونڈانے سے منع فرمایا ۔ (المعجم الاوسط،الحدیث ۲۹۶۹،ج۲،ص۱۸۷)

            ٭اَبرو کے بال اگر بڑے ہوجائیں تو ان کو تر شواسکتے ہیں ۔( در مختار و ردالمحتار،کتاب الحظر والاباحۃ،فصل فی البیع،ج۹،ص۶۷۰)

            ٭داڑھی کا خط بنوانا جائز ہے ۔ (ردالمحتار،ج۴،ص۶۷۱)

          امامِ اہلِسنّت ،  مجدّدِ دین وملت شاہ احمد رضاخان عَلیہ رَحْمَۃُ الرَّحمٰن فتاویٰ رضویہ جلد 22 صفحہ 296پر لکھتے ہیں : ’’ داڑھی قلموں کے نیچے سے کنپٹیوں ،  جبڑوں ،  ٹھوڑی پر جمتی ہے اور عرضاً اس کا بالائی حصہ کانوں اور گالوں کے بیچ میں ہوتا ہے۔ جس طرح بعض لوگوں کے کانوں پر رونگٹے ہوتے ہیں وہ داڑھی سے خارج ہیں ،  یوں ہی گالوں پر جو خفیف بال کسی کے کم کسی کے آنکھوں تک نکلتے ہیں وہ بھی داڑھی میں داخل نہیں ۔یہ بال قدرتی طور پر مؤئے ریش سے جدا وممتاز ہوتے ہیں ۔ اس کا مسلسل راستہ جو قلموں کے نیچے سے ایک مخروطی شکل پر  جانب ذقن جاتاہے یہ بال اس راہ سے جدا ہوتے ہیں ،  نہ ان میں موئے محاسن کے مثل قوت نامیہ ، ان کے صاف کرنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ بسا اوقات ان کی پرورش باعث تشویہ خلق وتقبیح صورت ہوتی ہے جو شرعا ہر گز پسندیدہ نہیں ۔

            ٭ہاتھ ، پاؤ ں او رپیٹ کے بال دور کرناچاہیں تو منع نہیں ۔(بہارِشریعت ، جلدسوم،حصہ ۱۶،ص۵۸۵)