Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

{1} جب گھرسے باہَر نکلیں تو یہ دُعا پڑھئے : ’’  بِسْمِ اللّٰہِ تَوَکَّلْتُ عَلَی اللّٰہِ لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ ‘‘ ترجمہ: ـ  اللہ    کے نام سے ، میں نے  اللہ    پر بھروسہ کیا ۔  اللہ  کے بغیر نہ(گناہوں سے بچنے کی) قوت ہے اورنہ(نیکیاں کرنے کی) طاقت ہے۔(سنن ابی داود،ج۴،ص۴۲۰،حدیث۵۰۹۵) 

            اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اس دُعاکوپڑھنے کی بَرَکت سے سیدھی راہ پر رہیں گے ،  آفتوں سے حفاظت ہو گی اور  اللہ    عَزَّوَجَلَّکی مدد شاملِ حال رہے گی۔

 {2}  گھرمیں داخل ہونے کی دعا : اَللّٰھُمَّ اِنِّیْٓ اَسْئَلُکَ خَیْرَ الْمَوْلَجِ وَخَیْرَ الْمَخْرَجِ بِسْمِ اللّٰہِ وَلَجْنَا وَبِسْمِ اللّٰہِ خَرَجْنَا وَعَلَی اللّٰہِ رَبِّنَا تَوَ کَّلْنَا۔(المرجع السابق،ج۴،ص۴۲۰،حدیث۵۰۹۶)

 (ترجمہ ـــ: اے  اللہ    عَزَّوَجَلَّ! میں تجھ سے داخل ہونے کی اور نکلنے کی بھلائی مانگتاہوں  اللہ     عَزَّوَجَلَّکے نام سے ہم (گھر میں )  داخل ہوئے اور اسی کے نام سے باہر آئے اور اپنے رب  اللہ   عَزَّوَجَلَّ پر ہم نے بھروسہ کیا ) دعا پڑھنے کے بعد گھر والوں کو سلام کرے پھر بارگاہِ رسالت میں سلام عرض کر ے اس کے بعد سورۃُ الِاخلاص شریف پڑھے۔  اللہ  عَزَّوَجَلَّ روزی میں بَرَکت ،  اور گھر یلو جھگڑوں سے بچت ہو گی۔

 {3} اپنے گھر میں آتے جاتے محارِم ومَحرمات (مَثَلاً ماں ،  باپ ،  بھائی،بہن، بال بچّے وغیرہ)کوسلام کیجئے۔

 {4}   اللہ  عَزَّوَجَلَّ کا نام لئے بغیر مَثَلاً بِسْمِ اللّٰہ کہے بِغیر جو گھر میں داخل ہوتا ہے شیطان بھی اُس کے ساتھ داخِل ہو جاتا ہے۔

  {5} اگر ایسے مکان(خواہ اپنے خالی گھر) میں جانا ہو کہ اس میں کوئی نہ ہو تو یہ کہئے:  اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصّٰلِحِیْن (یعنی ہم پر اور  اللہ   عَزَّوَجَلَّ  کے نیک بندوں پر سلام )فِرِشتے اس سلام کا جواب دیں گے۔( رَدُّالْمُحتارج۹ ص ۶۸۲) یا اس طرح کہے: اَلسَّلامُ عَلَیْکَ اَیُّـھَاالنَّبِیُّ(یعنی یا نبی آپ پر سلام ) کیونکہ حضور اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی رُوحِ مبارَک مسلمانوں کے گھروں میں تشریف فرما ہوتی ہے۔ (شرح الشّفاء للقاری ج۲ص۱۱۸)

  {6}  جب کسی کے گھر میں داخل ہونا چاہیں تو اِس طرح کہئے : اَلسَّلامُ عَلَیْکُمْ کیا میں اندر آسکتا ہوں ؟

  {7}  اگر داخلے کی اجازت نہ ملے تو بخوشی لوٹ جائیے ہو سکتا ہے کسی مجبوری کے تحت صاحبِ خانہ نے اجازت نہ دی ہو ۔

 {8} جب آپ کے گھر پر کوئی دستک دے تو سنّت یہ ہے کہ پوچھئے: کون ہے؟ باہَر والے کو چاہئے کہ اپنا نام بتائے : مَثَلاً کہے: ’’  محمد الیاس۔ ‘‘  نام بتانے کے بجائے اس موقع پر ’’  مدینہ!   ‘‘ ،  میں ہوں !  ‘‘   ’’ دروازہ کھولو ‘‘  وغیرہ کہنا سنّت نہیں ۔

 {9}  جواب میں نام بتانے کے بعد دروازے سے ہٹ کر کھڑے ہوں تا کہ دروازہ کھلتے ہی گھر کے اندر نظر نہ پڑے ۔

 {10} کسی کے گھر میں جھانکنا ممنوع ہے ۔بعض لوگوں کے مکان کے سامنے نیچے کی طرف دوسروں کے مکانات ہوتے ہیں لہٰذا بالکونی وغیرہ سے جھانکتے ہوئے اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ ان کے گھروں میں نظر نہ پڑے ۔

  {11}  کسی کے گھر جائیں تو وہاں کے انتِظامات پر بے جا تنقید نہ کیجئے اس سے اُس کی دل آزاری ہو سکتی ہے۔

  {12}  واپَسی پر اہلِ خانہ کے حق میں دُعا بھی کیجئے اور شکریہ بھی ادا کیجئے اور سلام بھی اور ہو سکے تو کوئی سنّتوں بھرا رسالہ وغیرہ بھی تحفۃً پیش کیجئے۔

             سنّتوں کی تربیّت کا ایک بہترین ذَرِیعہ دعوتِ اسلامی کے مدنی قافِلوں میں عاشِقانِ رسول کے ساتھ سنّتوں بھرا سفر بھی ہے۔

صَلُّوا  عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد 

             اے ہمارے پیارے  اللہ    عَزَّوَجَلَّ !  ہمیں گھر میں آنے جانے کی سنتو ں پر عمل کرنے کی تو فیق مرحمت فرما۔ ‘‘  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

٭٭٭٭٭٭

سفر کی سنتیں او رآداب

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!

            اکثر و بیشتر ہمیں سفر کی ضرو رت پیش آتی رہتی ہے بلکہ بہت سے خوش نصیب اسلامی بھائیوں کوتوراہِ خدا میں عاشقانِ رسول کے مدنی قافلوں میں سفر کرنے  کی بھی سعادت ملتی ہے ۔لہٰذا ہم کوشش کر کے سفر کی بھی کچھ نہ کچھ سنتیں اور آداب  سیکھ لیں تاکہ ان پر عمل کر کے ہم اپنے سفر کو بھی حصولِ ثواب کا ذریعہ بنا سکیں ۔

            ٭ ممکن ہو تو جمعرات کو سفر کی ابتداء کی جائے کہ جمعرات کو سفر کی ابتداء کرنا سنت ہے۔(اشعۃاللمعات،ج۵،ص۱۶۱)  چنانچہ حضرت سیدنا کعب بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضورنبی ٔ کریمصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  غزوہ تبوک کے لئے جمعرات کے دن روانہ ہوئے اورآپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  جمعرات کے دن رو انہ ہونا پسند فرماتے تھے۔ (صحیح البخاری،کتاب الجہاد،باب من اراد غزوۃ۔۔۔۔الخ،الحدیث:۲۹۵۰،ج۲،ص۴۹۶)

                  ٭ اگر سہولت ہو تو رات کو سفر کیا جائے کہ رات کو سفر جلد طے ہوتا ہے حضرت سیدناانس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ سر کار مدینہ، سلطانِ باقرینہ، قرارِ قلب وسینہ ،  فیض گنجینہ ،  صاحبِ معطر پسینہ،باعث نزول سیکنہصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا:  ’’ رات کو سفرکیا کرو ،  کیونکہ رات کو زمین لپیٹ دی جاتی ہے ۔ ‘‘  

(سنن ابی داود،کتاب الجہاد،باب فی الدرجۃ،الحدیث ۷۱ ۲۵،ج ۳،ص۴۰ )

            ٭اگر چند اسلامی بھائی مل کر قافلے کی صورت میں سفر کریں تو کسی ایک کو امیربنا لیں ۔ حضرت سیدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ

Total Pages: 194

Go To