Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ارشاد سن لیا اور عرض کیا ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْکیا میں داخل ہوسکتا ہوں ؟  تو سرکارمدینہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے اس کو اجازت عطا فرمائی اور وہ اند ر داخل ہوا ۔ (سنن ابی داود،ج۴،ص۴۴۳،حدیث ۵۱۷۷)

            حضرت سیدناکلدہ بن حنبل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : میں حضور سید دوعالم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی خدمت بابرکت میں حاضر ہوا ۔ میں جب اندر داخل ہوا اور سلام عرض نہ کیا تو حضور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا ،  ’’  لوٹ جاؤ  اور یہ کہو  ’’ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ ‘‘  کیامیں داخل ہوسکتا ہوں ؟  ‘‘ (المرجع السابق،ج۴،ص۴۴۲،حدیث ۵۱۷۶)

            ٭اگر کوئی شخص آپ کو بلانے کے لئے بھیجے او ربھیجا ہو ا شخص آپ کو ساتھ لے کر جائے تو اب اجازت لینے کی ضرورت نہیں ۔ ساتھ والا شخص ہی خو د  ’’ اجازت ‘‘  ہے

               جیسا کہ حضرت سیدناابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ   رسولُ   اللّٰہصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا: ’’  جس وقت تم میں سے کسی کو بلایا جائے ،  اور وہ ایلچی (یعنی قاصد)کے ساتھ آئے یہ اس کا اِذن (اجازت) ہے۔ ‘‘ (المرجع السابق،ج۴، ص۴۴۷،حدیث ۵۱۹۰)

            ایک اور روایت میں ہے کہ آدمی کا کسی کو بلانے کے لئے بھیجنا اس کی طر ف سے اجازت ہے ۔(المرجع السابق،ج۴، ص۴۴۷،حدیث۵۱۸۹)

            ٭اپنی موجودگی کا احساس دلانے کے لئے کھنکارناچاہئیجیسا کہ مولائے کائنات حضرت علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں   رسولُ  اللّٰہصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی خدمت بابر کت میں ایک مرتبہ رات کے وقت اور ایک مرتبہ دن کے وقت حاضر ہوتا تھا ۔جب میں رات کے وقت آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے پاس حاضری دیتا آپصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  میرے لئے کھنکارتے ۔ ‘‘  (سنن ابن ماجہ ، ج۴،ص۲۰۶،حدیث۳۷۰۸)

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!

           جب کسی کے گھر جائیں تو دروازے سے گزرتے وقت ضرور تاً دو سرے کمرے کی طر ف جاتے ہوئے کھنکارلینا چاہیے تاکہ گھر کے دیگر افراد کو ہماری موجود گی کا احساس ہوجائے اور وہ آگے پیچھے ہوسکیں ۔

            ٭اگر دروازے پر پر دہ نہ ہو تو ایک طر ف ہٹ کر کھڑے ہوں ۔

            حضرت عبداللّٰہبن بُسْررَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ   رسولُ  اللّٰہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  جب کسی کے دروازہ پر تشریف لاتے تو دروازے کے سامنے کھڑے نہ ہوتے بلکہ دائیں یا بائیں جانب کھڑے ہوتے پھر فرماتے  ’’ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ ‘‘   ’’ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ ‘‘  اور یہ اس لئے کہ ان دنوں دروازوں پر پردے نہیں ہوتے تھے ۔(سنن ابی داود،ج۴،ص۴۴۶،حدیث:۵۱۸۶)

            ٭جب کوئی کسی کے گھر جائے تو اندر سے جب کوئی دروازے پر آئے تو پوچھے کون ہے ؟   باہر والا ’’ میں ‘‘ نہ کہے جیسا کہ آج کل بھی یہی رواج ہے ۔ بلکہ اپنا نام بتا ئے ۔جواباً  ’’  میں  ‘‘  کہنا سرکار صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کو پسند نہیں ۔  (بہار شریعت،جلد سوم،حصہ۱۶،ص۴۵۳)

                   جیساکہ حضرت سیدناجابر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے فرمایا کہ میں مدنی آقا صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی خدمت میں حاضر ہوا اور دروازہ کھٹکھٹا یا۔ آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا: ’’  کون ہے ؟  ‘‘  میں نے عرض کی  ’’ میں  ‘‘  آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا: ’’  میں ،  میں کیا ؟  ‘‘  گویا آپصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے اس کو ناپسند فرمایا۔  (صحیح البخاری،ج۴،ص۱۷۱، حدیث۶۲۵۰)

            ٭کسی کے گھر میں جھانکنا نہیں چا ہئیجیسا کہ حضرت انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے ،  رسول اکرمصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  خانہ اقدس میں تشریف فرماتھے کہ ایک شخص نے آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کوجھانکا تو آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے نیزہ کی نوک اس کی طرف کی چنا نچہ وہ پیچھے ہٹ گیا ۔ ‘‘ (جامع الترمذی،ج۴،ص۳۲۵،حدیث:۲۷۱۷)

             اسی طرح کسی موقع پر سرکارِمدینہصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  درِدولت پر جلوہ فرما تھے اور کسی نے جب سوراخ سے جھانک کردیکھا تو سرکارصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے اظہارِ ناراضگی فرمایا جیسا کہ حضرت سہل بن ساعدی رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ، نورِ مجسم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کو ایک شخص نے حجرہ مبارک کے سوراخ سے جھانکا ۔ آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  لوہے کی کنگھی سے سر مبارک کھجارہے تھے فرمایا : اگر میری توجہ اس طرف ہوتی کہ تو دیکھ رہا ہے تو اس لوہے کی کنگھی کو تیری آنکھ میں چبھودیتا۔ نظر سے بچاؤ  کے لئے ہی تو اجازت طلب کرنے کا حکم ہے ۔ (جامع الترمذی،ج۴،ص۳۲۵، حدیث:۲۷۱۷)

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  

            دوسروں کے گھروں میں جھانکنے سے بچنے کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے گھروں کے دروازے یا کھڑکیا ں بند رکھنی چاہئیں یا ان پر کوئی سادہ سا پردہ وغیرہ ڈال دینا چاہیے جس کی وجہ سے بے پردگی نہ ہو ۔

            ٭گھر کے انتظامات پر بے جا تنقید نہ کریں جس سے میزبان کی دل آزاری ہو۔ہاں ،  اگر ناجائز بات دیکھیں ،  مثلاً جاندار وں کی تصاویر وغیر ہ آویزاں ہوں تو احسن طریقے سے سمجھا دیں ۔ہوسکے توکچھ نہ کچھ تحفہ پیش کریں خواہ کتنا ہی کم قیمت ہو ، محبت بڑھے گی۔

      ٭جو کچھ کھانے پینے کو پیش کیا جائے ۔ کوئی صحیح مجبوری نہ ہو تو ضرور قبول کریں ۔ ناپسند ہو جب بھی منہ نہ بگاڑیں کہ میز بان کی دل شکنی ہوگی۔

 ’’  مدینے کی حاضِری ‘‘  کے بارہ حُرُوف کی نسبت سے گھر میں آنے جانے  کے 12 مدنی پھول



Total Pages: 194

Go To