Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

ہر نظر کے بدلے حج مبرور کا ثواب لکھتا ہے، ‘‘  لوگوں نے کہا اگرچہ دن میں سو۱۰۰مرتبہنظر کرے؟ فرمایا: ’’ ہاں !   اللہ   عَزَّوَجَلَّ اکبر اور اطیب ہے۔ ‘‘     (شعب الایمان للبیہقی،باب فی برالوالدین،الحدیث:۷۸۵۶،ج۶،ص۱۸۶)

 یعنی اُسے سب کچھ قدرت ہے، اِس سے پاک ہے کہ اُس کو اس کے دینے سے عاجز کہا جائے۔(بہارِ شریعت ، جلدسوم،حصہ۱۶،ص۵۵۴)

         والدین کے ساتھ ساتھ دیگر اہلِ خاندان مثَلا ًبھائی بہنوں کا بھی خیال رکھنا چاہئے، والد صاحب کے بعد دادا جان اور بڑے بھائی کا رتبہ ہے کہ بڑا بھائی والد کی جگہ ہوتا ہے،اسی طرح مرد کو چاہئے کہ اپنی زوجہ کے ساتھ حسنِ سُلوک کرے،اسے حکمتِ عملی کے ساتھ چلائے اور خلافِ مزاج حرکتیں سرزد ہوجانے پر صبر کرتا رہے۔

             سرکارِ مَدینہ، قرارِ قلب و سینہ، فیض گنجینہصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمانِ باقرینہ ہے:  ’’  کامل ایمان والوں میں سے وہ بھی ہے جو عمدہ اَخلاق والا اور اپنی زوجہ کے ساتھ سب سے زیادہ نرم طبیعت ہو۔ ‘‘ (سنن الترمذی،کتاب الایمان،  باب ما جاء فی استکمال الایمان۔۔۔الخ، الحدیث:۲۶۲۱،ج۴،ص۲۷۸)

اولاد کو ادب سکھائیے

            والدین کو چاہئے کہ اپنی اولاد کے حُقوق کا خیال رکھیں ، انہیں ماڈَرن بنانے کے بجائے سنتوں کاچلتا پھرتا نمونہ بنائیں ،  ان کے اَخلاق سنواریں ،  بُری صحبت سے دور رکھیں ،  سنتوں بھرے مدنی ماحول سے وابَستہ کریں ،  فلموں ،  ڈِراموں اور بُرے رسم ورَواج والے، گانوں سے بھر پور، یادِ الٰہیسے دور کرنے والے  فُحش فنکشنوں سے بچائیں ۔آج کل شایدماں باپ اولاد کے حُقوق یہی سمجھتے ہیں کہ ان کو صرف دُنْیوی تعلیم ، ہنر اور مال کمانا آجائے ۔آہ! لباس اور بدن کوتو میل کچیل سے بچانے کا ذہن ہوتا ہے مگربچے کے دل اور اَعمال کی پاکیزگی کا کوئی خیال نہیں ہوتا۔

            نبی کریمصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشادفرمایا: ’’ کوئی شَخص اپنی اولاد کو ادب سکھائے ، وہ اس کیلئے ایک صاع  صدَقہ کرنے سے افضل ہے۔ ‘‘ (سنن الترمذی ، کتاب البر والصلۃ، باب ماجاء فی ادب الولد، الحدیث:۱۹۵۸،ج۳،ص۳۸۲)

ایک اور حدیث پاک میں ہے کہ ’’  کسی باپ نے اپنی اولاد کو کوئی چیز ایسی نہیں دی جو اچھے ادب سے بہتر ہو۔ ‘‘                (المرجع السابق، الحدیث:۱۹۵۹، ج۳،ص۳۸۳)

رشتہ داروں کا احترام

            رشتہ دار بھی حسن سلوک کے حق دار ہیں ،  تمام رشتہ داروں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا چاہئے ، حضرتِ  سیِّدنا عا صم  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ رسولِ اکرم،نُوْرِمُجَسَّمْ،شَہَنْشاہِ بنی آدمصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:  ’’ جس کو یہ پسند ہو کہ عمر میں درازی اور رزق میں فراخی ہو اور بُری موت دفع ہو وہ اللّٰہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے اور رشتہ داروں سے حسنِ سُلوک کرے۔ ‘‘ (المستدرک،کتاب البروالصلۃ،باب من سرہ ان یدفع۔۔۔الخ، الحدیث: ۷۳۶۲،ج۵،ص۲۲۲)

 سرکارِ مدینہصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا:  ’’ رشتہ کاٹنے والا جنت میں نہیں جائے گا۔ ‘‘ (صحیح البخاری،کتاب الادب،باب اثم القاطع، الحدیث:۵۹۸۴،ج۴،ص۹۷)

ناراض رشتے داروں سے صلح کرلیجئے

          ان احادیثِ مبارَکہ سے ان لوگوں کو عبرت حاصل کرنی چاہئے جو بات بات پر اپنے رشتہ داروں سے ناراض ہوجاتے اور ان سے مراسِم توڑ ڈالتے ہیں ایسوں کو چاہئے کہ اگر چہ رشتہ داروں ہی کاقُصور ہو صلح کیلئے خود پہل کریں (جبکہ کوئی شرعی مَصلحت مانع نہ ہو) اور خندہ پیشانی کے ساتھ مل کر ان سے تعلُّقات سنوار لیں ۔

پڑوسیوں کی اَہمیّت

          پیارے   اسلامی بھائیو!  ہم میں سے ہر ایک کو چاہئے کہ اپنے پڑوسیوں  کے ساتھ بھی اچھا برتاؤ  کریں اور بلا مَصلحتِ شرعی ان کے احترام میں کمی نہ کریں ،   ایک شخص نے حضور سراپا نورصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی خدمت میں عرض کی یارَسولَ  اللّٰہصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ !  مجھے یہ کیوں کر معلوم ہو کہ میں نے اچھا کیا یا برا ؟ فرمایا:  ’’ جب تم پڑوسیوں کو یہ کہتے سنو کہ تم نے اچھا کیا تو بیشک تم نے اچھا  کیا اور جب یہ کہتے سنو کہ تم نے برا کیا تو بے شک تم نے بُرا کیا ہے۔ ‘‘ (سنن ابن ماجہ ، کتاب الزہد،

Total Pages: 194

Go To