Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

سخی  اللہ عزَّوَجَلَّ کے قریب ہے

            حضرت  سَیِّدنا ابو ہریرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے،فرماتے ہیں کہ حضورِ پاک،صاحبِ لولاکصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا:  ’’ سخی   اللہ عَزَّوَجَلَّکے قریب ہے، جنت کے قریب ہے، لوگوں کے قریب ہے، آگ سے دور ہے اور کنجوس  اللہ   عَزَّوَجَلَّسے دور ہے، جنت سے دور ہے، لوگوں سے دور ہے، آگ کے قریب ہے اور یقینا جاہل سخی، کنجوس عابد سے افضل ہے۔ ‘‘ (سنن الترمذی،کتاب البروالصلۃ،باب ماجاء في السخائ،الحدیث:۱۹۶۸،ج۳،ص۳۸۷)

سخی سے مَحَبَّت

            حضرت یحییٰ بن مُعاذعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار فرماتے ہیں : سخی لوگ چاہے فاجر ہوں ان کے لئے دلوں میں محبت ہی ہوتی ہے اور بخیل چاہے کتنے ہی بھلے کیوں نہ ہوں دلوں میں ان کے لئے نفرت ہی پائی جاتی ہے۔ (احیاء علوم الدین،کتاب ذم البخل وذم حب المال،بیان ذم البخل،ج۳،ص۳۱۵)

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  یقینا سخاوت کی بہت فضیلت ہے قرآن پاک میں صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کی سخاوت اور ایثار کی تعریف بیان کی گئی ہے چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ﳴ (پ۲۸،الحشر:۹)

ترجمۂ کنز الایمان: اور اپنی جانوں پر ان کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ انہیں شدید محتاجی ہو ۔

            اس آیتِ مبارکہ کا شانِ نزول بیان کرتے ہوئے صدر الافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْھَادِی خزائن العرفان میں تحریر فرماتے ہیں : حدیث شریف میں ہے کہ رسولِ کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی خدمت میں ایک بھوکا شخص آیا، حضور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے اَزواجِ مُطَہَّرات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کے حجروں پر معلوم کرایا کیا کھانے کی کوئی چیز ہے؟  معلوم ہوا کسی بی بی صا    حبہ کے یہاں کچھ بھی نہیں ہے، تب حضور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے اصحاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْھُم سے فرمایا: جو اس شخص کو مہمان بنائے اللّٰہ تعالیٰ اس پر رحمت فرمائے،حضرت ابوطلحہ انصاری رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ کھڑے ہوگئے اور حضور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  سے اجازت لے کر مہمان کو اپنے گھر لے گئے، گھر جا کر بی بی سے دریافت کیا کچھ ہے؟ انہوں نے کہا کچھ نہیں صرف بچوں کیلئے تھوڑا سا کھانا رکھا ہے، حضرت سیدنا ابوطلحہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا: بچوں کو بَہلا کر سُلادو اور جب مہمان کھانے بیٹھے تو چراغ درست کرنے اٹھو اور چراغ کو بجھادو تاکہ وہ اچھی طرح کھا لے، یہ تجویز اس لئے کی کہ مہمان یہ نہ جان سکے کہ اہلِ خانہ اسکے ساتھ نہیں کھارہے ہیں ،  اگر اس کو یہ معلوم ہو گا تو وہ اصرار کرے گا اور کھانا کم ہے بھوکا رہ جائے گا،اس طرح مہمان کو کھلایا اور خود بھوک کی حالت میں رات گزاری، جب صبح ہوئی اور سَیّدِ عالم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضورِ اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا: رات فلاں فلاں لوگوں میں عجیب معاملہ پیش آیا اللّٰہ تعالیٰ ان سے بہت راضی ہے اور یہ آیت نازل ہوئی۔        (صحیح بخاری،ج۳،ص۳۴۸،حدیث:۴۸۸۹)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب              صَلَّی اللّٰہُ  تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حضرت صدّیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی سخاوت

            اُمّ المؤمنین حضرتِ  سَیِّدَتُنا عائشہ صِدّیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا بے حد سخی تھیں ،  حضرتِ  سیِّدنا عُروہ بن زبیررَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ امّ المؤمنین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہانے ستر ہزار دَرَا    ہِم راہِ خدا میں تقسیم کردئیے حالانکہ ان کی قمیص مُبارک میں پَیوند لگا ہوا تھا اور ایک دفعہ حضرت سَیِّدنا عبداللّٰہ بن زُبیر رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ نے ان کی خدمت میں ایک لاکھ دَرا      ہِم بھیجے تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے وہ سب دراہم ایک ہی روز میں راہِ خدا میں تقسیم کردئیے اور اُس روز آپ خود روزہ سے تھیں ،  شام کے وقت باندی نے عرض کی: کیاہی اچھا ہوتاکہ ایک دِرہم روٹی کیلئے رکھ لیتیں !  تو فرمایا:  ’’  مجھے یاد نہیں رہا، یاد رہتا تو بچا لیتی ۔  ‘‘ (مدارج النبوت،قسم پنجم،باب دوم،اُمُّ المؤمنین عائشۃ رضی اللّٰہ عنہا،ج۲،ص۴۷۳)

                         اللہ  عَزَّوَجَلَّکی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدْقے ہماری مغفِرت ہو۔

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب                   صَلَّی اللّٰہُ  تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  اُمّ المؤمنین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَانے وُسعَت کے با وُجود اپنی زندگی نہایت سادہ اور زاہِدانہ گزاردی اور جو دولت بھی حاضر ہوئی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَانے راہِ خدا