Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

بیان نمبر9:

جُود وسخا

          شیخ ِطریقت، امیر ِاہلسنّت، بانیء دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنے رسالہ  ’’    جنتی محل کا سودا        ‘‘  میں درود شریف کے متعلق حدیث پاک نقل فرماتے ہیں کہ شاہِ بحر وبر،مدینے کے تاجور، رسولِ انور صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کافرمانِ بخشش نشان ہے :  اللہ    عَزَّوَجَلَّکی خاطر آپس میں محبت رکھنے والے جب باہم ملیں اور مُصَافَحَہ کریں اور نبی صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  پر درُودِ پاک بھیجیں تو اُن کے جُدا ہونے سے پہلے دونوں کے اگلے پچھلے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں ۔(مسند ابی یعلٰی، مسند انس بن مالک، الحدیث:۲۹۵۱،ج۳،ص۹۵)

          رَمَضان المبارک کی آمد آمدتھی اور مشہور مؤرِّخ حضرتِ  واقِدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْھَادِیْکے پاس کچھ نہ تھا،آپ نے اپنے ایک علَوی دوست کی طرف یہ رُقْعہ بھیجا:  ’’  رَمَضان شریف کا مہینہ آنے والا ہے اور میرے پاس خرچ کیلئے کچھ نہیں مجھے قرضِ حَسَنہ کے طور پر ایک ہزار 1000 دِرْہم بھیجئے۔  ‘‘  چُنانچِہ اُس علَوی نے ایک ہزار دِرہم کی تھیلی بھیج دی،تھوڑی دیر کے بعد حضرتِ  واقِدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْھَادِیْ  کے ایک دوست کا رُقعہ حضرتِ  واقِدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْھَادِیْ کی طرف آگیا: ’’ رَمَضان  شریف کے مہینے میں خرچ کیلئے مجھے ایک ہزاردِرہم کی ضرورت ہے۔ ‘‘  حضرتِ  واقِدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْھَادِیْ نے وہی تھیلی وہاں بھیج دی۔ دوسرے روز وہی علَوی دوست جن سے حضرتِ  واقدی  نے قرض لیا تھااور وہ دوسرے دوست جنہوں نے حضرت واقِدی سے قرض لیا تھادونوں حضرتِ  واقِدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْھَادِیْ کے گھر آئے، علَوی کہنے لگے: رمَضان المبارک کا مہینہ آرہاہے اور میرے پاس ان ہزار درہموں کے سِوا ا ور کچھ نہ تھا مگر جب آپ کا رُقعہ آیا تو میں نے یہ ہزار دِرہم آپ کو بھیج دیئے اور اپنی ضرورت کیلئے اپنے اِن دوست کو رُقعہ لکھا کہ مجھے ایک ہزار دِرہم بطورِ قرض بھیج دیجئے، انہوں نے وہی تھیلی جو میں نے آپ کو بھیجی تھی مجھے بھیج دی۔تو پتا چلا کہ آپ نے مجھ سے قرض مانگا،میں نے اپنے اِن دوست سے قرض مانگا اور اُنہوں نے آپ سے مانگا،اور جو تھیلی میں نے آپ کو بھیجی تھی وہ آپ نے اسے بھیج دی اور اس نے وہی تھیلی مجھے بھیج دی۔

                          پھر ان تینوں حضرات نے اتِّفاقِ رائے سے اس رقم کے تین حصّے کر کے آپس میں تقسیم کر لئے،اِسی رات حضر تِ سَیِّدنا واقِدی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْھَادِیْ کو خواب میں جنابِ رِسالت مآب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی زیارت ہوئی اور فرمایا: اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّکل تمہیں بہت کچھ مل جائے گا،چنانچہ دوسرے روز امیر  یحییٰ بَرمَکِی نے سَیِّدنا واقِدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْھَادِیکو بلا کر پوچھا:  ’’ میں نے رات خواب میں آپ کو پریشان دیکھا ہے کیا بات ہے؟  ‘‘ حضرتِ  سیِّدنا واقِدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْھَادِیْ نے سار ا قصّہ سنایا تویحییٰ بَرمَکِی نے کہا:  ’’ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ آپ تینوں میں سے کون زیادہ سخی ہے۔ آپ تینوں ہی سخی اور وا   جبُ ا لا حترام ہیں پھر اس نے تیس ہزار دِرہم حضرت واقِدی    عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْھَادِیْ  کو اور بیس بیس ہزار ان دونوں کو دئیے اور حضرتِ  سَیِّدنا واقِدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْھَادِیْ کو قاضی بھی مقرر کردیا۔(حجۃ اللّٰہ علی العٰلمین، الفصل الثالث،الاستغاثۃ بہ للسقیا،ص۵۷۷)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب                   صَلَّی اللّٰہُ  تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  سچّے مسلمان سخی اور پیکرِ ایثار ہوتے ہیں اور اپنے اسلامی بھائی کی تکلیف دور کرنے کی خاطر اپنی مشکلات کی ذرہ برابر پرواہ نہیں کرتے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ    اللہ عَزَّوَجَلَّکے محبوب،دانائے غُیوب،مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اُمت کے حالات سے باخبر ہیں اور سخاوت  کرنے والوں پر نظر ِرحمت فرماتے ہیں اور یہ بھی معلوم ہوا کہ سخاوت سے ہمیشہ فائدہ ہی ہوتا ہے،مال گھٹتا نہیں بلکہ بڑھتا ہے۔

سخاوت کرو مزید عطا کئے جاؤگے

            حضرت سَیِّدُنا ابنِ عباسرَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُم اسے مروی ہے، فرماتے ہیں کہ رسولُ اللّٰہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا:  ’’ سخاوت  اللہ عَزَّوَجَلَّکی عطا سے ہے، سخاوت کرو،  اللہ     عَزَّوَجَلَّتمہیں مزید عطا فرمائے گا، سنو!    اللہ  عَزَّوَجَلَّ نے سخاوت کو پیدا فرما کر ایک مرد کی صورت عطا فرمائی اور اس کی اصل کو طوبیٰ درخت کی جڑ میں راسخ کردیا اور ٹہنیوں کو سِدْرَۃُ الْمُنْتَہٰیکی ٹہنیوں کے ساتھ مضبوط کر دیا اور اس کی بعض شاخوں کو دنیا کی طرف جھکا دیا تو جو شخص اسکی ایک ہی ٹہنی پکڑ لے  اللہ عَزَّوَجَلَّاسے جنت میں داخل فرمادیتا ہے، سنو!  بیشک سخاوت ایمان ہی سے ہے اور ایمان جنت میں ہے اور  اللہ عَزَّوَجَلَّنے بخل کو اپنے غضب سے پیدا فرمایا اور اس کی اصل کو شَجَرِزَقُّوْم(جہنم کے کانٹے دار درخت)کی جڑ میں مضبوط کر دیا، اس کی بعض شاخیں زمین کی جانب مائل فرما دیں تو جو شخص اس کی کسی بھی ٹہنی کو تھامتا ہے  اللہ عَزَّوَجَلَّاسے جہنم میں داخل فرما دیتا ہے، جان لو!  بخل ناشکری ہے اور ناشکری جہنم میں داخل ہونے کا سبب ہے۔ (کنزالعمال،کتاب الزکاۃ،الباب الثانی فی السخاء والصدقۃ،الفصل الاوّل، الحدیث:۱۶۲۱۳،ج۳،ص۱۶۹)