Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

یہاں سے نہیں اٹھوں گا ۔   ؎

میں ان کے در پر پڑا رہوں گا                       پڑے ہی رہنے سے کام ہوگا

نگاہِ رحمت ضرور ہوگی                                 طعام کا انتِظام ہوگا

            حضرتِ  سیِّدنا ابن الْمُقْرِی اور حضرت سیِّدنا ابو الشیخ رَحِمَہُمَا اللّٰہُ تعالٰی اپنی قیام گاہ پر تشریف لے آئے ،  تھوڑی دیر کے بعد کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا ،  دروازہ کھولا  تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک عَلَوی بزرگ دو غلاموں کے ساتھ کھا نا لئے کھڑے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ آپ حضرات نے دربارِ رسولصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں بھوک کی شکایت کی توابھی ابھی خواب میں نبی ٔرحمت ،  قا سمِ نعمتصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنی زیارت سے مشرَّف فرما کر مجھے حکم فرمایا کہ میں آپ لوگوں کے پاس کھاناپہنچا دوں چنانچہ جو کچھ بر وقت مجھ سے ہو سکا حاضر کر دیا ہے آپ حضرات قبول فرما لیجئے ۔       ( تذکرۃ الحفاظ، الطبقۃ الثانیۃ عشرۃ، ج۲، ص۱۲۱)

 اللہ    عَزَّوَجَلَّ کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفِرت ہو ۔

ہر طرف مدینے میں بھیڑ ہے فقیروں کی

ایک دینے والا ہے کل جہاں سُوالی ہے

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب                   صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدٍ

            میٹھے میٹھے اسلامی بھا ئیو!  دیکھا آپ نے!  ہمارے اسلاف رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام حُصو لِ علم کی خاطر کس قدر تکلیفیں برداشت کرتے تھے ،  فاقوں پر فاقے کرکے انہوں نے علمِ دین حاصل کیا ،  انتہائی جا نفشانی ا ور خوب عرَق ریزی کے ساتھ تصنیفات وتالیفات کے مُشکبار مدنی گلدستے تیار کر کے ہماری طرف بڑھائے مگر افسوس!  اب اکثر مسلمان ان کی طرف بالکل بھی التفات نہیں کرتے ،  ان بزرگوں کو سرما یۂ آخرت کی طلب اور لگن تھی اور آج کے مسلمانوں کی اکثریت کو صرف دُنیا کا دَھن (یعنی مال ودولت)کمانے کی دُھن ہے ۔

            اِس حکایت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ہمارے بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ المُبینپر جب کڑا وقت آتا تو نہا یت ہی دل جمعی کے ساتھ بارگاہ ِرسالت میں حاجت روائی کے لئے فریاد کرتے، سرکارِ نامدار صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے دربار میں دل کی گہرائیوں سے نکلی ہوئی صدا ضرور مَسمُوع ہوتی ( یعنی سنی جاتی ) ہے ،  میرے آقا اعلیٰ حضرت ، عا شقِ ماہِ ر سالت مو لیٰنا شاہ احمدرضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن حدائقِ بخشش شریف میں فرماتے ہیں :    ؎

وَاللّٰہ وہ  سن  لیں  گے  فریاد  کو  پہنچیں  گے

اتنا بھی تو ہو کوئی جو  ’’ آہ  ‘‘  کرے دل سے

            اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عزَّوَجَلَّ بارگاہِ رسالت میں کی ہو ئی فریاد فو راً سنی گئی اور سرکارِ نامدار ،  جناب ِاحمد مختار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم نے فوراً حا جت روائی فرما ئی اور اپنے بھوکے دیوانوں کیلئے کھانا بھیج دیا۔

درِ رسول سے اے رازؔ کیا نہیں ملتا؟

کوئی پلٹ کے نہ خالی گیا مدینے سے

سو روٹیاں

            حافِظ الحدیث حضرتِ  سیِّدنا  حَجاج بغدادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْھَادِیجب تحصیلِ علمِ دین کے لئے سفر پر روانہ ہوئے تو والِدہ محترمہ نے سو عدد کلچے (یعنی خمیری روٹیاں ) ایک مٹی کے گھڑے میں بھر کر ساتھ کردیئے ،  آپ عظیم محدث حضرتِ   سیِّدنا      شبابہ رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ کی خدمتِ بابرَکت میں حاضر ہو کر علمِ حدیث پڑھنے میں مشغول ہوئے، روٹیاں تو امی جان نے عنایت کر ہی دی تھیں ،  آپ رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ نے سالن کا خود ہی بندوبست کیا اور وہ سالن بھی ایسا جو صدہا برس گزر جانے کے بعد بھی سدا تازہ ہی تازہ اور برَکت ایسی کہ کبھی اس میں کوئی کمی ہی نہ ہوئی، وہ انوکھا سالن کو ن سا ؟  دریائے دِجلہ کا پانی، روزانہ ایک کُلچہ دریائے دِجلہ کے پانی میں بِھگو کر تنا وُل فرما لیتے اور دن رات خوب جاں فشانی کے ساتھ سبق پڑھتے رہتے ،  جب وہ سو کلچے ختم ہو گئے تو مجبوراً استاذِمحترم سے رخصت لینی پڑی۔  (تذکرۃالحفاظ،الطبقۃ التاسعۃ،ج۱،ص۱۰۰)                                         اللہ  عَزَّوَجَلَّکی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفِرت ہو ۔

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  علمِ دین حاصل کرنے میں یقینادونوں جہاں کی بہتریاں ہیں کتنے خوش نصیب ہیں وہ اسلامی بھائی جو دینی مدارس و جامعات میں باقاعدہ علم دین سیکھتے اور سکھاتے ہیں آپ بھی کوشش کیجئے بالفرض کسی مدرسے یاجامعہ میں مستقل داخلہ لینے کی ترکیب نہیں بن پاتی تو دعوتِ اسلامی کی کسی مدنی تربیّت گاہ میں کم از کم 63 دن کا مدنی تربیتی کورس ہی کر لیجئے ،  مدنی تربیتی کورس کی بھی کیا خوب بہاریں ہیں :

اِلَرجی کا مرض ٹھیک ہوگیا

            چنانچہ ایک اسلامی بھائی کا کچھ اس طرح بیان ہے: مجھے اِلَرجی کی بیماری تھی دھوپ اور سردی میں کافی تکلیف ہوتی نیز جب بارِش ہوتی اُس وقت میں شدتِ درد سے ماہی ٔبے آب ( یعنی بے پانی کی مچھلی) کی طرح تڑپتا، مجھے ایک عاشقِ رسول نے دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول میں رَہ کر تربیتی کورس کرنے کا مشورہ دیا لہٰذا عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ بابُ المدینہ کراچی میں 19 نومبر 2004ء کو شروع ہونے والے 63 روزہ تربیتی کورس میں داخلہ لے لیا، میں حیران ہوں کہ کئی ڈاکٹروں سے علاج کروانے اور خوب رقم خرچ کرنے کے باوُجود اِلَرجی کی جو موذ ی بیماری عرصۂ دراز سے ختم ہونے کا نام نہیں لیتی تھی وہ عاشقانِ رسول کی صحبت میں رہ کر 63 دن کا تربیتی کورس کرنے کی برَکت سے جا تی رہی۔

دعوتِ اسلامی کی قیّوم ،  دونوں جہاں میں مچ جائے دھوم

 



Total Pages: 194

Go To