Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

بیان نمبر7:

 عفو و درگزر کی فضیلت

        شیخِ طریقت، امیر ِاہلسنّت، بانیء     دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنے رسالہ  ’’  باحیا نوجوان ‘‘  میں درود شریف کے متعلق حدیثِ پاک بیان فرماتے ہیں کہ حضرتِ  سیِّدنا ابو دَرداء رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہمیٹھے میٹھے مصطفی صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا: ’’  جو شَخص صبح وشام مجھ پر دس دس بار درُود شریف پڑھے گا بروزِ قیامت میری شَفاعت اسے پہنچ کر رہے گی۔ ‘‘  (الترغیب والترہیب،کتاب النوافل،باب الترغیب فی آیات۔۔۔الخ، الحدیث:۹۹۱،ج۱،ص۳۱۲)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب                   صَلَّی اللّٰہُ  تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

مدنی آقاعلیہ الصَّلاۃ والسَّلام کا عَفْو ودرگزر

            حضرتِ  سیِّدُنا اَنس بن مالک    رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ کا بیان ہے کہ میں نبی کریم، رء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے ہمراہ چل رہا تھا اور آپ ایک نَجرانی چادر اَوڑھے ہوئے تھے جس کے کَنارے موٹے اور کُھردرے تھے، ایک دم ایک بَدوی (یعنی عَرَب شریف کے دیہاتی) نے آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی چادر مبارک کو پکڑ کراتنے زبردست جھٹکے سے کھینچا کہ سُلطانِ زَمَن، محبوبِ ربِّ ذُوالمِنَن صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی مبارک گردن پر چادر کی کَنارے سے خَراش آگئی ،  پھروہ کہنے لگا:  اللہ عَزَّوَجَلَّکا جو مال آپ کے پاس ہے، آپ حکم دیجئے کہ اُسمیں سے مجھے کچھ مل جائے۔ رحمت ِعالَم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  اُس کی طرف متوجّہ ہوئے اور مسکرا دئیے پھر اُسے کچھ مال عطا فرمانے کا حکم دیا۔(صحیح البخاری،کتاب فرض الخمس، باب ما کان النبیصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ۔۔۔الخ،الحدیث:۳۱۴۹، ج۲، ص۳۵۹)

ہرخطا پر مِری چشم پوشی ، ہر طلب پر عطاؤں کی بارش

مجھ گنہگار پرکس قَدَر ہیں مہرباں تاجدارِ مدینہ

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب               صَلَّی اللّٰہُ  تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

          پیارے اسلامی بھائیو!  دیکھا آپ نے مدنی آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّمنے بَدوی سے کیسا      حُسنِ سُلوک فرمایا، اسی طرح کوئی ہم کو خواہ کتنا ہی ستائے،  دل دُکھائے!  عَفو و درگزر سے کام لینا چاہئے اور اس کے ساتھ محبت بھرا  سُلوک کرنے  کی کوشش کرنی چاہئے ۔ قرآن مجید فرقان حمید میں بھی بدسلوکی کرنے والے کے ساتھ بھلائی کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے، چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَكَ وَ بَیْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ(۳۴) (پ۲۴،حم السجدۃ:۳۴)

ترجمۂ کنز الایمان: اے سننے والے برائی کو بھلائی سے ٹال جبھی وہ کہ تجھ میں اور اس میں دشمنی تھی ایسا ہو جائے گا جیسا کہ گہرا دوست۔

            آیت مبارکہ کے جز  ’’  برائی کو بھلائی سے ٹال ‘‘  کے تحت صدر الافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِیْ تفسیر خزائن العرفان میں فرماتے ہیں :  ’’ مثلاً غصّہ کو صبر سے اور جہل کو حلم سے ،  بدسلوکی کو عفو سے(ٹال) کہ اگر تیرے ساتھ کوئی برائی کرے تو معاف کر۔ ‘‘  (خزائن العرفان)

             شانِ مصطفٰی عَلَیہِ الصَّلاۃُ وَالسَّلام

            اُمُّ الْمؤمِنین حضرتِ  سیِّدَتُنا عائشہ صدّیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا  فرماتی ہیں کہ میرے سر تاج ،  صاحِبِ معراج ، محبوبِ ربِّ بے نیازصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نہ تو عادۃً بُری باتیں کرتے تھے اورنہ تکلّفاً اور نہ بازاروں میں شورکرنے والے تھے اور نہ ہی بُرائی کا بدلہ بُرائی سے دیتے تھے بلکہ آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  مُعاف کرتے اوردرگزر فرمایا کرتے تھے ۔ (سنن الترمذی،کتاب البر والصلۃ، باب ماجاء فی خلق النبی عَلَیہِ الصَّلاۃُ وَالسَّلام، الحدیث:۲۰۲۳،ج۳،ص۴۰۹)

حساب میں آسانی کے تین اسباب

حضرتِ  سیِّدُنا ابو ہُریرہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رسولُ اللّٰہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا :  ’’ تین باتیں جس شخص میں ہوں گی  اللہ عَزَّوَجَلَّ(قیامت کے دن) اُس کا حساب بَہُت آسان طریقے سے لے گا اور اُس کو اپنی رَحمت سے جنّت میں داخِل فرمائے گا، ‘‘  صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی : یارسولَ اللّٰہ  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ !  ہمارے ماں باپ آپ پر قربان!  وہ کون سی باتیں ہیں ؟  فرمایا:  ’’ (۱) جو تمہیں محروم کرے تم اُسے عطا کرو اور(۲) جو تم سے قَطْعِ تعلُّق کرے (یعنی تعلُّق توڑے) تم اُس سے مِلاپ کرو اور(۳)جو تم پر ظُلْم کرے تم اُس کو مُعاف کردو۔ ‘‘ (المعجم الاوسط للطبرانی،من اسمہ محمد،الحدیث:۵۰۶۴،ج۴،ص۱۸)

معزز کون

        حضرتِ  سیِّدُنا موسیٰ کلیم اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے عرض کی: اے ربّعَزَّوَجَلَّ!  تیرے نزدیک کون سا بندہ زیادہ عزّت والا ہے؟  فرمایا:  ’’ وہ جو بدلہ لینے کی قدرت کے باوجود مُعاف کردے۔ ‘‘ (شعب الایمان للبیہقی، باب فی حسن الخلق، فصل فی ترک الغضب، الحدیث:۸۳۲۷،ج۶،ص۳۱۹)

روزانہ ستر بار مُعاف کرو

            ایک شخص بارگاہِ رسالت میں حاضِر ہوا اور عرض کی : یارسول

Total Pages: 194

Go To