Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

٭٭٭٭٭٭

 (4) علاقے میں مدنی قافلہ کیسے تیار کیا جائے؟

  (1)   مدنی قافلے تیار کرنے کیلئے ہر اسلامی بھائی کے لئے بالعموم جبکہ مدنی قافلہ ذمہ داران کیلئے بالخصوص انفرادی کوشش کرنے کی مختلف صورتیں ہیں :

(۱)       درس میں شرکت کرنے والوں پرانفرادی کوشش…

(۲)      ہفتہ وار اجتماع میں شریک ہونے والوں پرانفرادی کوشش…

(۳)      نئے اسلامی بھائیوں پرانفرادی کوشش اور ماحول سے وابستہ ذمہ داران پر انفرادی کوشش…

(۴)      قریبی رشتہ داروں اور عزیزوں پر انفرادی کوشش…

(۵)      مارکیٹوں میں انفرادی کوشش …

(۶)       جو آپ کے پاس کام کرتے ہیں ان پر یا جن کے پاس آپ کام کرتے ہیں ان پر انفرادی کوشش …

(2)     ہم میں سے ہر ایک کو چاہئے کہ مدنی قافلے تیار کرنے کا ذہن بناتے ہوئے حکمت عملی کے ذریعے ہر ایک اسلامی بھائی تک مدنی قافلے کی دعوت پہنچانے کی کوشش کریں ۔

(3)  جب ، جس سے ، جہاں اور جس لئے بھی ملاقات ہو۔ ملاقات کے اختتام پر حقِ صحبت ادا کرنے کی نیت سے مدنی قافلے کی دعوت ضرور دیں کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ’’ جس کسی نے کسی کی صحبت اختیار کی اگرچہ لمحہ بھرکے لیے ہو، بروزَ قیامت سوال ہوگا کہ حق صحبت ادا کیا تھا یا ضائع ۔ ‘‘ (احیاء العلوم مع اتحاف ج۷ ص ۸۲)

            اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ ہم جس جس اسلامی بھائی کو حکمت عملی سے بار بار مدنی قافلوں میں سفر کی دعوت دیتے رہیں گے تو یہ دعوت کانوں کے راستے اس کے دل پر نقش ہوجائے گی۔ کیونکہ عربی مقولہ ہے : ’’ اِذَا کَرَّرَ تَقَرَّرَ۔جب کوئی بات باربار کہی جائے تو وہ دل میں قرار پکڑ لیتی ہے ۔ ‘‘  جس طرح عطر کی لمحہ بھر کی صحبت بھی انسان کوخوشبوکا احساس دلاتی ہے اور پھول کا مٹی کے ساتھ رہنا مٹی کو خوشبودار کر دیتا ہے،بالکل اسی طرح ہماری مختصر صحبت بھی اسلامی بھائی کو یہ احساس دلائے کہ  ’’ مجھے مدنی قافلوں کا مسافر بننا چاہئے ۔ ‘‘

 (4)     یہ دعوت مدنی قافلوں کے تعارف،راہِ خدا     عَزَّوَجَل میں سفر کے فضائل اور مدنی قافلے کا مسافر بننے کے لئے بھر پور ترغیبی کلمات پر مشتمل ہونی چاہئے۔پھر آخر میں مدنی قافلے میں سفر کرنے کی نیت کروانا اور اس کا نام وپتہ لکھنا نہ بھولئے۔

(5)   یہ نام وپتہ نیت کرنے والے اسلامی بھائی کے علاقے کے مدنی قافلہ ذمہ دار تک پہنچا دیجئے اور خود بھی اس پر انفرادی کوشش کا سلسلہ جاری رکھئے۔پھر  مدنی قافلہ ذمہ دارکو چاہئے کہ مدنی قافلہ میں سفر کی نیت کرنے والے تمام اسلامی بھائیوں کی ایک فہرست مرتب کر لے ۔ پھر وہ روزانہ ان میں سے منتخب اسلامی بھائیوں سے بالخصوص اور دوسرے اسلامی بھائیوں سے بالعموم ان کے گھر ،  دکان یا دفتر وغیرہ میں ملاقات کرے اور مدنی قافلے میں سفر کی ترغیبی یاد دہانی کرواتا رہے ، حتّٰی کہ مدنی قافلے کے سفر کی تاریخ سے پہلے پہلے تمام نیت کرنے والے اسلامی بھائیوں سے ملاقات مکمل کر لے ۔ملاقات کے لئے جاتے وقت مدنی قافلہ پیڈ اور قلم ساتھ ہونا ضروری ہے ۔

 (6)     مدنی قافلے کے سفر کی تاریخ پہلے مقرر ہونی چاہئے۔

(7)     جب بھی کسی کومدنی قافلہ میں سفر کی دعوت دینے کی غرض سے ملاقات کرنے جائیں تو باوضو ہو کر جائیں ، اس سے آپ کی خود اعتمادی میں اضافہ ہوگا۔

 (8)      مدنی قافلہ تیار کرنے کے دوران ہمیں کتنی ہی دشواریاں پیش آئیں ،  امید کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے اور مایوسی ہمارے قریب بھی نہ پھٹکنے پائے کیونکہ مایوس ہونے سے ہمت جواب دے جاتی ہے ، جس کے نتیجے میں جذبہ پہلے تو کم ہوناشروع ہوتا ہے پھربالآخر ختم ہوجاتاہے۔لہٰذاہمت ہارے بغیر انفرادی کوشش مسلسل جاری رکھیں ۔مشہور ہے کہ ایک بادشاہ جس کا لشکر شکست کھاچکا تھا ، سخت مایوسی کے عالم میں ایک غار میں پناہ لئے ہوئے تھا ۔ اچانک اس کی نگاہ ایک مکڑی  پر پڑی جس نے غار کی دیوار پرچڑھنے کی کوشش کی مگر ناکام رہی ،  لیکن اس نے ہمت نہ ہاری اور اپنی کوشش جاری رکھی، بالآخر وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئی۔ اس بادشاہ کو یہ بات سمجھ آگئی کہ جہد مسلسل کی بناء پر مشکل سے مشکل مہم کو سَر کیا جاسکتا ہے ۔چنانچہ اس نے اپنی تمام تر ہمت مجتمع کرتے ہوئے اپنے بکھرے ہوئے لشکر کو جمع کیا اور پھرسے دشمن پر حملہ کیا اور فتح یاب ہوا۔

            اسی طرح سخت پتھر پر پانی کے چند قطرے گرائے جائیں تو اس میں سوراخ ہونا مشکل بلکہ ناممکن ہے لیکن اگر یہی قطرے مسلسل تیس دن گرتے رہیں تو پتھر میں چھوٹا سا سوراخ ضرور ہوجائے گا ۔بالکل اسی طرح اگر ہم کسی اسلامی بھائی کو مسلسل دعوت دیتے رہیں گے ،  بالآخر وہ مدنی قافلے کا مسافر بننے کے لئے تیار ہو ہی جائے گا۔اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ 

 (9)    تاجدارِ مدینہ ، سلطانِ باقرینہ،راحتِ قلب و سینہصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا: اَلدُّعَآءُ سِلاحُ الْمُْؤمِنِ وَعِمَادُالدِّیْنِ وَنُوْرُالسَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِیعنی دعامومن کا ہتھیار ہے اور دین کا ستون اور آسمان وزمین کا نور ہے۔ (المستدرک، کتاب الدعاء ، باب الدعا ء سلاح المومن ، الحدیث:۱۸۵۵، ج ۲،ص۱۶۲)

            اس لیے مدنی قافلے کی تیاری کے لئے عملی کوشش کرنے کے ساتھ ساتھ صدقِ دل سے رب تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا بھی کرتے رہیں کہ دعا مومن کا ہتھیار ہے ۔اس کے علاوہ جب بھی گھر سے مدنی قافلے کی تیاری کے لئے چلیں تو  والدین سے دعا کروائیں ۔

 (10)     یہ کام مشکل ضرور ہے، لیکن یادرکھئے کہ جو کام جتنا دشوار ہوتا ہے اتنا ہی اس کا اجر زیادہ ہوتا ہے۔چنانچہ حضرت ابراہیم بن ادھم علیہ رحمۃ اللّٰہ الصمد فرماتے ہیں : ’’ جو عمل دنیا میں جتنا دشوار گزار ہوگا میزان عمل پر وہ اتنا ہی زیادہ  وزن دار ہوگا۔ ‘‘ (حلیۃ الاولیاء، ابراہیم بن ادھم، الرقم:۱۱۲۱۵،ج۸،ص ۱۶)

 (11)     مدنی قافلے میں سفرکی دعوت کے دوران اگر کوئی اسلامی بھائی اپنی پریشانی بتائے تو افسوس کرتے ہوئے ہمدردی کا اظہار کریں اوراگرمناسب سمجھیں تواس کی پریشانی کا حل بھی پیش کریں ۔اس کے بعد مدنی قافلوں کی برکت سے مصائب سے چھٹکارہ پانے والوں کے واقعات سناتے ہوئے راہِ خدا عَزَّوَجَل میں سفر کی ترغیب بھی دیں ۔ اور اگر وہ خوشی کی خبر سنائے تو



Total Pages: 194

Go To