Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

محمد احسان عطاری کا لاشہ

            بابُ المدینہ کراچی کے عَلاقے گلبہار کے ایک ماڈرن نوجوان بنام  ’’ محمد اِحسان ‘‘  دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابَستہ ہوئے اور شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَا    تُہُمُ الْعَالِیَہ کے ذریعے سرکارِ بغداد حضورِ غوثِ پاک رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ کے مرید بن گئے۔ سرکارِ غوثِ پاک کے مرید تو کیا ہوئے ان کی زندگی میں مدنی انقِلاب برپا ہوگیا، چہرہ ایک مٹھی داڑھی کے ذریعے مدنی چہرہ بن گیا اور سر پر مستِقل طور پر سبز عمامہ کا تاج جگمگ جگمگ کرنے لگا۔ انہوں نے دعوتِ اسلامی کے مَدْرَسَۃُ الْمَدِیْنَہ (بالِغان) میں قرآنِ پاک ناظِرہ خَتم کرلیا اور لوگوں کے پاس خود جا جا کر نیکی کی دعوت کی دھومیں مچانے اور اِنفرادی کوشش فرمانے لگے۔ ایک دن اچانک انہیں گلے میں درد محسوس ہوا، علاج بھی کروایا  ’’ مگر درد بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی ‘‘  کے مِصداق گلے کے مرض نے بہت زیادہ  شدت اختیار کرلی یہاں تک کہ قریبُ المرگ ہوگئے، اِسی حالت میں انہوں نے دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مَکْتَبَۃُ الْمَدِیْنَہ کا مطبوعہ 16 صَفْحات پر مشتمل رسالہ  ’’ مدنی وصیّت نامہ ‘‘  سامنے رکھ کر اپنا وصیّت نامہ تیار کروا کر دعوتِ اسلامی کے اپنے علاقے کے ذمّہ دار کے سِپُرد کردیا اور پھر سدا کیلئے آنکھیں مُوند لیں ،  بوقتِ وفات ان کی عمر تقریباً 35 سال ہوگی، انہیں گلبہار کے قبرِستان میں سِپُرد خاک کردیا گیا، حسب ِوصیَّت کم و بیش بارہ گھنٹے تک ان کی قبر کے قریب اسلامی بھائیوں نے اجتماعِ ذکر و نعت جاری رکھا، وفات کے تقریباً ساڑھے تین سال بعد بروز منگل6 جُمادَی الاخریٰ       ۱۴۱۸؁ ھ (07-10-97) کا واقعہ ہے کہ ایک اور اسلامی بھائی محمد عثمان عطاری کا جنازہ اُسی قبرستان میں لایا گیا، کچھ اسلامی بھائی مرحوم محمد اِحسان عطاریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی کی قبر پر فاتحہ کے لیے آئے تو یہ منظر دیکھ کر ان کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں کہ قبر کی ایک جانب بہت بڑا شگاف ہوگیا ہے اور تقریباً ساڑھے تین سال قبل وفات پانے والے مرحوم محمد احسان عطاری سر پر سبز سبز عمامہ شریف کا تاج سجائے خوشبو دار کفن اوڑھے مزے سے لیٹے ہوئے ہیں ۔ آناً فاناً یہ خبر ہر طرف پھیل گئی اور رات گئے تک زائرین محمد اِحسان عطاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیکے کفن میں لپٹے ہوئے ترو تازہ لاشے کی زیارت کرتے رہے۔

            تبلیغِ قرآن و سنَّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک، ــــ ـدعوتِ اسلامی کے بارے میں غلَط فہمیوں کا شکار رہنے والے افراد بھی دعوتِ اسلامی والوں پر  اللہ عَزَّوَجَلَّکے اس عظیم فضل وکرم کا کھلی آنکھوں سے مُشاہَدہ کرکے بَصدتحسین و آفرین پکار اُٹھے اور دعوتِ اسلامی کے مُحِبّ بن گئے۔

جو اپنی زندگی میں سنتیں ان کی سجاتے ہیں

خدا و مصطفی اپنا انہیں پیارا بناتے ہیں

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب                   صَلَّی اللّٰہُ  تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  بیان کو اِختِتام کی طرف لاتے ہوئے سنّت کی فضیلت اور چند سنّتیں اور آداب بیان کرنے کی سعادت حاصِل کرتا ہوں ۔

          تاجدارِ رسالت، شَہَنْشاہِ نُبُوَّت، مصطفی جانِ رحمت، شمعِ بزمِ ہدایت ، نوشۂ بزمِ جنت صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمانِ جنت نشان ہے: جس نے میری سنّت سے مَحَبَّت کی اُس نے مجھ سے مَحَبَّت کی اور جس نے مجھ سے مَحَبَّت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا۔(تاریخ مدینۃ دمشق، انس بن مالک،ج۹،ص۳۴۳)

            لہٰذا پانی پینے کے 12 مدنی پھول قبول فرمائیے،(اس کتاب کے صفحہ نمبر630سے بیان کریں )

٭٭٭٭٭٭

بیان نمبر5:

 اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی خُفْیَہ تَدْ بِیْر

          شیخ ِطریقت، امیر ِاہلسنّت، بانیء دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہاپنے رسالہ  ’’ قیامت کا امتحان ‘‘  میں درود شریف کے متعلق حدیث پاک بیان فرماتے ہیں کہ حضرتِ  سیِّدُنا ابو درداء رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ شفیع ُا    لمُذْ نِبین، رحمۃٌ     لِّلْعالمین صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: جس نے صبح و شام مجھ پر دس دس بار دُرُودِ پاک پڑھا  بروزِ قیامت اُس کو میری شفاعت نصیب ہوگی۔(مجمع الزوائد ، کتاب الاذکار، باب مایقول اذا اصبح ۔۔۔الخ،الحدیث:۱۷۰۲۲،ج۱۰،ص۱۶۳)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب              صَلَّی اللّٰہُ  تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

تین عیوب کی نحوست

         مِنْہَاجُ الْعابِدِین میں ہے: ’’ حضرتِ  سیِّدُنا فُضَیل بن عِیاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّاراپنے ایک شاگرد کی نَزع کے وقت تشریف لائے اور اسکے پاس بیٹھ کر سورۂ    یٰسٓ شریف پڑھنے لگے تو اس شاگرد نے کہا :  ’’  سورۂ            یٰسٓ پڑھنا بند کر دو  ‘‘ پھر آپ  رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اسے کَلِمَہ شریف کی تلقین([1]) فرمائی، وہ بولا:  ’’  میں ہرگزیہ کَلِمَہ نہیں پڑھوں گا میں اِس سے بَیزار ہوں ۔ ‘‘ بس انہیں الفاظ پر اس کی موت واقع ہوگئی۔

            حضرتِ  سیِّدنا فُضَیل رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکو اپنے شاگرد کے بُرے خاتِمے کا سخت صدمہ ہوا، چالیس 40 روز تک اپنے گھر میں بیٹھے