Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

نصیحت حاصِل نہ کی؟  کیا تونے نہ دیکھا کہ ہمارے اعمال کیسے ختْم ہوئے؟  اور تجھے تو عمل کرنے کی مہلت ملی تھی لیکن تو نے وقت ضائع کر دیا قبر کا گوشہ گوشہ اس کو پکار کر کہتا ہے:اے زمین پر اِترا کر چلنے والے!  تونے مرنے والوں سے عبرت کیوں حاصل نہ کی؟  کیا تونے نہیں دیکھا تھاکہ تیرے مردہ رشتہ داروں کو لوگ اٹھا اٹھا کر کس طرح قبروں تک لے گئے۔(شرح الصد ور،باب فی مخاطبۃ القبرللیمت،ص۱۱۲)

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  واقعی یہ حقیقت ہے کہ ہم سے پہلے مرنے والے ہمارے لئے خاموش مبلّغ کی حیثیت رکھتے ہیں ، وہ جو کچھ زبانِ حال سے کہہ رہے ہوتے ہیں اُس کو کسی نے اِس طرح نظم کیا ہے    ؎

جنازہ آگے آگے کہہ رہا ہے اے جہاں والو

مِرے پیچھے چلے آؤ  تمھارا رہنما میں ہوں

میرے اَہْل و عِیال کہاں ہیں ؟

            حضرتِ  سیِّدُنا عطا بن یَسار رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے:جب مردے کو قبر میں رکھا جاتا ہے تو سب سے پہلے اُس کا (اچھا یا برا) عمل آکر اس کی بائیں ران کو حرکت دے کر کہتا ہے کہ میں تیرا عمل ہوں ،  مردہ پوچھتا ہے میرے اہل و عِیال کہاں ہیں ؟  اور میری دُنیوی نعمتیں کہاں ہیں ؟  تو عمل کہتا ہے کہ یہ سب تیری پیٹھ پیچھے رَہ گئے اور سوائے میرے تیری قبر میں کوئی نہ آیا۔(شرح الصد ور،باب ضمۃ القبرلکل احد،ص۱۱۱)

ساتھ جگری یار بھی نہ آئیگا                           تو اکیلا قبر میں رہ جائیگا

مال دنیا کا یہیں رَہ جائیگا                                 ہر عمل اچھا برا ساتھ آئیگا

مالِ دنیا دو جہاں میں ہے وبال

کام آئیگا نہ پیشِ ذُوالْجلال

قابلِ رشک کون؟

            حضرتِ  سیِّدُنا       مَسرُوق رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : مجھے کسی پر اِس قَدر رشک نہیں آتا جس قَدر قبر میں جانے والے اس مومن پر رشک آتا ہے جو دنیا کی مشقَّت سے راحت پا گیا اور عذاب سے محفوظ رہا۔ (احیاء علوم الدین، کتاب ذکر الموت و مابعدہ،الباب التاسع فی حقیقۃ الموت۔۔۔الخ، ج۵، ص۲۴۹)

نیک شخص کی نشانی

            حضرتِ  سیِّدنا ضَحَّاک رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ایک شخص نے اِستِفسار کیا: یا رسولَ اللّٰہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  لوگوں میں سب سے زیادہ زاہد کون ہے؟  آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا: ’’  جو شخص قبر اور گل سڑجانے کو نہ بھولے، دُنیا کی زینت کو چھوڑ دے، فناء ہونے والی زندگی پر باقی رہنے والی کو ترجیح دے اور کل آنے والے دن کو اپنی زندگی میں گنتی نہ کرے نیز اپنے آپ کو قبر والوں میں شمار کرے۔ ‘‘  (شعب الایمان للبیہقی،باب فی الزہد وقصر الامل، الحدیث: ۱۰۵۶۵،ج۷، ص۳۵۵)

ابھی سے تیاری کر لیجئے!

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  واقعی عقل مند وہی ہے جو موت سے قبل موت کی تیاری کرتے ہوئے نیکیوں کا ذخیرہ اکٹھا کر لے اور سنتوں کا مدنی چراغ قبر میں ساتھ لے لے اور یوں قبر کی روشنی کا انتِظام کر لے، ورنہ قبر ہرگز یہ لحاظ نہ کرے گی کہ میرے اندر کون آیا؟  امیر ہو یا فقیر، وزیر ہو یا مشیر، حاکم ہو یا محکوم، افسر ہو یا چپراسی، سیٹھ ہو یا ملازم، ڈاکٹر ہو یا مریض، ٹھیکیدار ہو یا مزدور، اگرکسی کے ساتھ بھی توشَۂ آخِرت میں کمی رہی، نمازیں قصداً قضا کیں ،  رمَضان شریف کے روزے بلا عذْرِ شرعی نہ رکھے، فرض ہوتے ہوئے بھی زکوٰۃ نہ دی، حج فرض تھا مگر ادا نہ کیا، باوُجودِ قدرت شرعی پردہ نافذ نہ کیا، ماں باپ کی نافرمانی کی،

جھوٹ، غیبت، چغلی کی عادت رہی، فلمیں ، ڈِرامے دیکھتے رہے، گانے باجے سنتے رہے، داڑھی منڈواتے یا ایک مٹھی سے گھٹاتے رہے۔

            اَلْغَرَض خوب گناہوں کا بازار گرم رکھا تو  اللہ عَزَّوَجَلَّاور اُس کے رسول صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی ناراضی کی صورت میں سوائے حَسرت ونَدامت کے کچھ ہاتھ نہ آئے گا۔ جس نے فرائض کے ساتھ ساتھ نوافل کی بھی پابندی کی، رمَضان المبارَک کے علاوہ نفلی روزے بھی رکھے، کوچہ کوچہ ،  گلی گلی نیکی کی دعوت کی دھومیں مچائیں ،  قرآنِ پاک کی تعلیم نہ صرف خود حاصل کی بلکہ دوسروں کو بھی دی، چوک درس دینے میں ہچکچاہٹ محسوس نہ کی، گھر درس جاری کیا، سنّتوں کی تربیت کے مدنی قافلوں میں باقاعدگی سے سفر کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر مسلمانوں کوبھی اس کی ترغیب دلائی، روزانہ مدنی انعامات کا رسالہ پُر کر کے ہر ماہ اپنے ذمّہ دار کو جمع کروایا،   اللہ عَزَّوَجَلَّاور اُسکے پیارے رسول صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے فضل و کرم سے ایمان سلامت لیکر دنیا سے رخصتی ہوئی تو  اللہ  عَزَّوَجَلَّ  اس کی قبر میں حشر تک رحمتوں کا دریا موجیں مارتا رہے گا اور نورِ مصطفی کے چشمے لہراتے ر ہیں گے۔

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب               صَلَّی اللّٰہُ  تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  آپ سب دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابَستہ ہوجائیے،  اللہ عَزَّوَجَلَّ  دونوں جہاں میں بیڑا پار ہوجائے گا۔ آئیے!  آپ کو دعوتِ اسلامی کی مدنی بہاروں میں سے ایک مدنی بہار سناؤ ں ،   اللہ  عَزَّوَجَلَّآپ کا دل بھی جذباتِ تأثُّر سے جھوم اٹھے گا اور سینہ باغِ مدینہ بن جائے گا،چنانچہ



Total Pages: 194

Go To