Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

میت کو غسل د  ینے کی فضیلت

فرمانِ مصطفیصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  :  ’’ جس نے میت کو غسل دیا پھر اس کی پردہ پوشی کی تو    اللہ     عَزَّوَجَلَّ اس کے گناہوں کو دھوئے گا اور جس نے میت کو کفنایا تو   اللہ  عَزَّوَجَلَّ    اسے سُنْدُ س (یعنی نہایت باریک اورنفیس کپڑے)  کا لباس پہنائے گا۔ ‘‘ (المعجم الکبیر للطبرانی،الحدیث:۸۰۷۸،ج۸،ص۲۸۱)

بیان نمبر4:

قَبْرکی پُکار

        شیخ ِطریقت، امیر ِاہلسنّت، بانیء      دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی       دَامَتْ بَرَکَا    تُہُمُ الْعَالِیَہاپنے رسالہ  ’’  عفو ودر گزر کی فضیلت ‘‘  میں دُرود شریف کے متعلق حدیث پاک بیان فرماتے ہیں کہ سرکار صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمانِ برَکت    نشان ہے: اے لوگو !  بے شک بروزِ قیامت اس کی دہشتوں اور حساب کتاب سے جلد نَجات پانے والا شخص وہ ہوگا جس نے تم میں سے مجھ پر دنیا کے اندر بکثرت دُرود شریف پڑھے ہوں گے۔ (فردوس الاخبار للدیلمی، باب الیاء،الحدیث:۸۲۱۰،ج۲،ص۴۷۱)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب                   صَلَّی اللّٰہُ  تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

عبرت کے مَدَ نی پھول

            حضرتِ  سَیِّدُنا عمر بن عبد العزیز رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُایک جنازے کے ساتھ قبرِستان تشریف لے گئے،وہاں ایک قبر کے پاس بیٹھ کر غور وفکر میں ڈوب گئے، کسی نے عرض کی: ’’ یا اَمِیرَالْمُؤمنین!  آپ یہاں تنہا کیسے تشریف فرما ہیں ؟  فرمایا:  ’’ ابھی ابھی ایک قبر نے مجھے پُکار کربلایا اور بولی : اے عمر بن عبد العزیز!  مجھ سے کیوں نہیں پوچھتے کہ میں اپنے اندر آنے والوں کے ساتھ کیا برتاؤ کرتی ہوں ؟  میں نے اُس قبر سے کہا: مجھے ضرور بتا! وہ کہنے لگی:جب کوئی میرے اندر آتا  ہے تو میں اس کا کفن پھاڑ کر جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالتی اوراس کا گوشت کھا جاتی ہوں ! کیا آپ مجھ سے یہ نہیں پوچھیں گے کہ میں اس کے جوڑوں کے ساتھ کیا کرتی ہوں ؟  میں نے کہا: ضرور بتا!  تو کہنے لگی: ’’ ہتھیلیوں کو کلائیوں سے، گھٹنوں کوپنڈلیوں سے اور پنڈلیوں کو قدموں سے جدا کردیتی ہوں  ‘‘ اتنا کہنے کے بعد حضرتِ  سیِّدنا عمر بن عبد العزیز ہچکیاں لے کر رونے لگے، جب کچھ اِفاقہ ہوا تو کچھ اس طرح عبرت کے مدنی پھول لٹانے لگے :

            اے اسلامی بھائیو!  اِس دنیا میں ہمیں بہت تھوڑ اعرصہ رہنا ہے،جو اِس دنیا میں (سخت گنہگار ہونے کے باوجود) صاحبِ اقتدار ہے وہ (آخِر ت میں ) انتہائی ذلیل وخوار ہے،جو اس جہاں میں مالدار ہے وہ (آخرت میں ) فقیر ہوگا، اس کا جوان بوڑھا ہوجائے گا اور جو زندہ ہے وہ مرجائے گا، دنیا کا تمہاری طرف آنا تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے! کیونکہ تم جانتے ہو کہ یہ بہت جلد رخصت ہوجاتی ہے۔ کہاں گئے تلاوتِ قرآن کرنے والے؟  کہاں گئے    بیتُ اللّٰہ کا حج کرنے والے؟  کہاں گئے ماہِ رمَضان کے روزے رکھنے والے!  خاک نے ان کے جسموں کا کیا حال کردیا!  قبر کے کیڑوں نے ان کے گوشت کا کیا انجام کردیا!  ان کی ہڈیوں اور جوڑوں کے ساتھ کیا ہوا!    اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم! د نیا میں یہ آرام دِہ نرم نرم بستر پر ہوتے تھے لیکن اب وہ اپنے گھر والوں اور وطن کو چھوڑ کر راحت کے بعد تنگی میں ہیں ،  ان کی بیواؤں نے دوسرے نکاح کرکے دوبارہ گھر بسا لئے، ان کی اولاد گلیوں میں دربدر ہے،ان کے رشتہ داروں نے ان کے مکانا ت ومیراث آپس میں بانٹ لی۔ و َاللّٰہ!  ان میں کچھ خوش نصیب ہیں جو قبروں میں مزے لوٹ رہے ہیں اور وَاللّٰہ!   بعض قبر میں عذاب میں گرفتار ہیں ۔

            افسوس صد ہزار افسوس اے نادان!  جو آج مرتے وقت کبھی اپنے والد کی، کبھی اپنے بیٹے کی توکبھی سگے بھائی کی آنکھیں بند کر رہا ہے،ان میں سے کسی کو نہلا رہا ہے، کسی کو کفن پہنا رہا ہے، کسی کے جنازے کو کندھے پر اٹھارہا ہے،کسی کے جنازے کے ساتھ جا رہا ہے،کسی کو قبر کے گڑھے میں اتار کر دفنا رہا ہے(یاد رکھ!  کل یہ سبھی کچھ تیرے ساتھ بھی ہونے والا ہے) کاش!  مجھے علم ہوتا! کون سا گال (قبر میں )پہلے خراب ہوگا!  پھر حضرت سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ رونے لگے اور روتے روتے بے ہوش ہوگئے اور ایک ہفتہ کے بعد اس دنیا سے تشریف لے گئے۔ (الروض الفائق،المجلس الثامن عشر فی قولہ تعالٰی یوم تبیض۔۔۔الخ،ص۱۰۷)

قبر روزانہ یہ کرتی ہے پکار

            حضرتِ  سیِّدُنا فَقِیہ اَبُواللَّیْث سَمَرقَنْدیرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنقل فرماتے ہیں کہ قبر روزانہ پانچ مرتبہ یہ ندا کرتی ہے: اے آدَمی!  تو میری پیٹھ پر چلتا ہے حالانکہ میرا پیٹ تیرا ٹھکانہ ہے، اے آدَمی!  تو مجھ پر عمدہ عمدہ کھانے کھاتا ہے  عنقریب میرے پیٹ میں تجھے کیڑے کھائیں گے، اے آدَمی!  تو میری پیٹھ پر ہنستا ہے جلد ہی میرے اندر آکر روئے گا، اے آدَمی!  تو میری پیٹھ پر خوشیاں مناتا ہے عنقریب مجھ میں غمگین ہوگا، اے آدَمی!  تو میری پیٹھ پر گناہ کرتا ہے عنقریب میرے پیٹ میں مُبتَلائے عذاب ہوگا ۔(تنبیہ الغافلین، باب عذاب القبروشدتہ،ص۲۳)

قبر روزانہ یہ کرتی ہے پکار                             مجھ میں ہیں کیڑے مکوڑے بے شمار

یاد رکھ!  میں ہوں اندھیری کوٹھڑی             مجھ میں سن وحشت تجھے ہوگی بڑی

میرے اندر تو اکیلا آئے گا                           ہاں !  مگر اعمال لیتا آئے گا

تیرا فن تیرا ہنر عہدہ ترا                              کام آئے گا نہ سرمایہ تِرا

 



Total Pages: 194

Go To