Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

سے نابَلد،پُختہ و عمدہ مکانات کی تعمیرات کرنے، ان کو دیدہ زَیب اشیاء سے مُزَ  ّین  (DECORATE) کرنے میں مصروف تھے قَبْر کے اندھیروں اور اس کی وَحْشتوں سے بے نیازجگمگ جگمگ کرتی قِندیلوں اور قُمقُموں  سے اپنے مکانوں کو روشن کرنے میں مشغول تھے ، اَہل وعِیال  کی عارِضی اُنْسِیّت ، دوستوں کی وقتی مُصَاحَبت اور خُدّام کی خوشامدانہ خدمت کے بھرم میں قَبْرکی تنہائی کو بھولے ہوئے تھے، مگر آہ!  یکایک فَنا کا بادَل گرجا،موت کی آندھی چلی اور دنیا میں تادیر رہنے کی ان کی اُمّیدیں خا ک میں مل کر رہ گئیں ،  ان کے مُسرَّتوں اور شادمانیوں سے ہنستے بستے گھر موت نے ویران کردیئے۔ روشنیو ں سے جگمگاتے قُصُور سے گُھپ اندھیری قُبُور میں اُنہیں منتقِل کردیاگیا۔ آہ!  وہ لوگ کل تک اَہل وعِیال کی رونقوں میں شاداں ومَسرور تھے اور آج قُبُور کی وَحشتوں اورتنہائیوں میں مغموم ورَنْجُور ہیں ۔

اَجَل نے نہ کِسریٰ ہی چھوڑا نہ دارا                 اِسی سے سکندر سا فاتح بھی ہارا

ہر اِک لیکے کیا کیا نہ حسرت سِدھارا               پڑا رہ گیا سب یُونہی ٹھاٹھ سارا

جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے                       یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے

دنیا کا دھوکہ

            اِس حکایت کے آخِر میں کنیز کی نصیحت میں بھی عبرت کے بے شمار مدنی پھول ہیں ، مگر افسوس ہے اُس پر جو دنیا کی نَیرنگیاں دیکھنے کے باوُجُودبھی اس کے دھوکے میں مُبتَلارہے اور موت سے یکسر غافِل ہوجائے۔ واقعی جو دُنیا وی زندگی کے دھوکے میں پڑکر اپنی موت اور قَبْر وحَشْر کو بھول جائے اور  اللّٰہ  تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے عمل نہ کرے، نہایت ہی قابلِ مذمّت ہے۔ اِس دھوکے سے بچنے کے لئے ہمیں ہمارا پروَرْدْگار خود تَنْبِیْہ فرمارہا ہے، چُنانچِہ پارہ 22 سُورۃُ الْفَاطِر کی آیت نمبر 5 میں ارشاد ہوتا ہے:

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاٙ-وَ لَا یَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ(۵) (پ۲۲،الفاطر:۵)

ترجمۂ کنز الایمان: اے لوگو بے شک اللّٰہکا وعدہ سچ ہے تو ہر گز تمہیں دھوکہ نہ دے دنیا کی زندگی اور ہرگز تمہیں اللّٰہ کے حِلْم پر فریب نہ دے وہ بڑا فریبی (یعنی شیطان)۔

            یقینا جو موت اور اس کے بعد والے مُعامَلات سے آگاہ ہے وہ دنیا کی رنگینیوں اوراس کی آسائشوں کے دھوکے میں نہیں پڑسکتا۔

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب               صَلَّی اللّٰہُ  تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

بانس کی جَھونپڑی

            منقول ہے کہ حضرتِ  سَیِّدُنا نوح  علٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ایک سادہ سی بانس کی جَھونپڑی میں رہائش اختیار فرمائی ، عرض کیا گیا: بہتر تھا کہ آپ کوئی عمدہ مکان تعمیر فرمالیتے، فرمایا: جو مرجائے گا (یعنی جس کو موت کا یقین ہے) اس کے لئے یہ بھی بَہُت ہے۔(العقد الفرید،کتاب الزمردۃ فی المواعظ والزہد، قولہم فی الموت،ج۳،ص۱۳۶)

وہ ہے عیش و عشرت کا کوئی مَحَل بھی                                جہاں تاک میں ہر گھڑی ہو اَجَل بھی

بس اب اپنے اس جَہْل سے تُو نکل بھی                           یہ جینے کا انداز اپنا بدل بھی

جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے

یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب                   صَلَّی اللّٰہُ  تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

سب سے بہتر زادِ راہ

            امیرُ المؤمنین حضرتِ  سَیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْعَزِیْز نے اپنے ایک خُطبے میں اِرشاد فرمایا: اے لوگو!  دنیا تمہارا باقی رہنے والا ٹھکانہ نہیں ہے یہ تو وہ دارِ ناپائیدار ہے جس کے لئے اللّٰہ  تعالیٰ نے، فنا ہو نا اوراس کے رَہنے والوں پر یہاں سے رخصت ہو جانا لکھ دیا ہے۔ عنقریب مضبوط اور آباد مکان ٹوٹ پھوٹ کر ویران ہو جائیں گے اور ان مکانات کے کتنے ہی ایسے مَکین جن پر رَشک کیا جاتا ہے بَعُجْلَت تمام (یعنی جلدتر) رخصت ہوجائیں گے، پس اے لوگو!  اللّٰہ  تعالیٰ تم پر رَحْم فرمائے اس (دنیا) میں سے عمدہ چیز (یعنی نیکیاں ) لے کر اچھے حال میں نکلواور تَوشۂ سفر لے لو۔ پس بہترین تَوشَہ تَقویٰ وپرہیز گاری ہے۔ (احیاء علوم الدین،کتاب ذکر الموت و ما بعدہ، الباب الثانی،ج۵،ص۲۰۱)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب                   صَلَّی اللّٰہُ  تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

دنیا برباد ہو کر رہے گی

            کروڑوں شافعیوں کے عظیم پیشواحضرتِ  سَیِّدُنا امام شافِعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیّ نے ایک بار بیان میں ارشاد فرمایا:  ’’بے شک دنیا پھسلنے کی جگہ اور ذِلّت کا گھر ہے، اِس کی آبادی برباد ہونے والی اوراس کے ساکِنِین یعنی باشِندے قبروں میں پہنچنے والے ہیں ،  اِس کاحُصُول اس سے جُدائی پر مَوقُو ف ہے اور اس کی دولت مندی، تنگدستی کی طرف پِھرنے والی ہے، اس میں زِیادَتی حقیقت میں تنگی ہے اور اس میں تنگی دراصل آسانی ہے، پس اللّٰہ  تعالیٰ کی بارگاہ میں گھبرا کر توبہ کر اور اس کے عطا کردہ رِزق پر راضی رَہ، دارِ بَقا (یعنی آخِرت)کے اَجْر کو دارِ فنا (یعنی دنیا)کے بدلے میں ضائع نہ کر،تیری زندگی ڈھلتا سایہ اور گِرتی دیوار ہے،اپنے عمل میں زیادَتی اور اَمَل (یعنی دنیاوی اُمید) میں کمی کر۔ ‘‘  (الزہد و قصر الامل، ازہد الناس و اجود الناس، ص۶۱)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب               صَلَّی اللّٰہُ  تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

دنیاآخِرت کی تیّاری کیلئے مخصوص ہے

            حضرتِ  سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ نے سب سے آخِری خُطبہ جو ارشا د فرمایا اس میں یہ بھی ہے:  ’’  اللّٰہ تعالیٰ نے تمہیں دنیا مَحْض اس لئے عطافرمائی ہے کہ تم اس کے



Total Pages: 194

Go To