Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

سخی  اللہ عَزَّوَجَلَّ کے قریب ہے

            نبی مکرم، رسولِ مُحْتَشَم،شفیعِ مُعَظَّم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا:  ’’ سخی   اللہ عَزَّوَجَلَّکے قریب ہے، جنت کے قریب ہے، لوگوں کے قریب ہے، جہنم سے دُور ہے اور بخیل   اللہ عَزَّوَجَلَّسے دور ہے، جنت سے دور ہے، لوگوں سے دور ہے، جہنم سے قریب ہے اور جاہل سخی، بخیل عابد سے  اللہ عَزَّوَجَلَّکے نزدیک زیادہ پیارا ہے۔ ‘‘ (سنن الترمذی،ج۳، ص۳۸۷،حدیث:۱۹۶۸)

ہر مسلمان پر صَدَقہ ہے

            سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  فرماتے ہیں :

 ’’ ہر مسلمان پر صَدَقہ ہے۔ عرض کی گئی: اگر نہ پائے؟  فرمایا: اپنے ہاتھ سے کام کرے، اپنے کو نفع پہنچائے اور صَدَقہ بھی دے۔ عرض کی: اگر اس کی استطاعت نہ ہو یا نہ کرے؟  فرمایا: صاحبِ حاجت پریشان کی اعانت کرے۔ عرض کی: اگر یہ بھی نہ کرے؟  فرمایا: نیکی کا حکم کرے۔ عرض کی: اگر یہ بھی نہ کرے؟  فرمایا: شر سے باز رہے کہ یہی اُس کے لیے صَدَقہ ہے۔ (صحیح بخاری،ج۴،ص۱۰۵،حدیث:۶۰۲۲)

اہل پرخرچ کرنا صَدقہ ہے

              اللہ عَزَّوَجَلَّکے حبیبصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا:  ’’ مسلمان جو کچھ اپنے اہل پر خرچ کرتا ہے، اگر ثواب کے لیے ہے تو یہ بھی صَدَقہ ہے ۔ ‘‘  (صحیح البخاری،کتاب النفقات،باب فضل النفقۃ ۔۔۔الخ، الحدیث:۵۳۵۱، ج۳، ص۵۱۱)

صَدَقہ بھی اور صلۂ رحمی بھی

            شفیعُ الْمُذنِبِین، رَحمۃٌ لِّلْعٰـلَمِیْن صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا:   ’’ مسکین کو صَدَقہ دینا صرف صَدَقہ ہے اور رشتہ والے کو دینا، صَدَقہ بھی ہے اور صلۂ رحمی بھی۔ ‘‘  (سنن الترمذی،ج۲،ص۱۴۲،حدیث: ۶۵۸)

کنویں سے بھرنے سے پانی بڑھتا ہے

            مُفسّرِ شہیر، حَکِیْمُ الْاُمت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْحَنَّان فرماتے ہیں : زکوٰۃ دینے والے کی زکوٰۃ ہر سال بڑھتی ہی رَہتی ہے، یہ تجرِبہ ہے، جو کسان کھیت میں بیج پھینک آتا ہے وہ بظاہر بوریاں خالی کر لیتا ہے لیکن حقیقت میں مع اضافہ کے بھر لیتا ہے۔ گھر کی بوریاں چوہے، سُرسُری وغیرہ کی آفات سے ہلاک ہو جاتی ہیں یا یہ مطلب ہے کہ جس مال میں سے صَدَقہ نکلتا رہے اُس میں سے خرچ کرتے رہو، اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّبڑھتا ہی رہے گا، ُکنویں کا پانی بھرے جاؤ  ،  تو بڑھے ہی جائے گا۔ (مراٰۃ المناجیح،ج۳،ص۹۳)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب                   صَلَّی اللّٰہُ  تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  راہِ خدا میں خرچ کرنے کا جذبہ پانے، نمازوں اور سنّتوں کی عادت بنانے کے لئے دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے ہر دم وابَستہ رہئے، سنّتوں کی تربیت کیلئے مدنی قافِلوں میں عاشقانِ رسول کے ساتھ سنّتوں بھرا سفر کیجئے اور کامیاب زندگی گزارنے اور آخِرت سنوارنے کیلئے مدنی انعامات کے مطابِق عمل کرکے روزانہ فکرِ مدینہ کے ذریعے رسالہ   پُر کیجئے اور ہر مدنی ماہ کی 10 تاریخ کے اندر اندر اپنے ذمّے دار کو جمع کروایئے۔ آپ کی ترغیب کے لئے ایک مدنی بہار گوش گزار کرتا ہوں چنانچہ

            سکھر شہر (بابُ الاسلام سندھ) کے ایک اسلامی بھائی کا کچھ اس طرح بیان ہے: میں پکا دُنیا دار تھا اور مجھ پر ہر وقْت دنیا کا دَھن کمانے کی دُھن سُوار رہتی تھی، عملی دُنیا سے بَہُت دُور گناہوں کی اندھیری وادیوں میں بھٹک رہا تھا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہعَزَّوَجَلَّ بعض عاشِقانِ رسول کی مجھ پر میٹھی نظر پڑ گئی وہ رَمَضَانُ الْمُبَارَک میں بار بار میرے پاس تشریف لاتے اور مجھے اجتِماعی اِعتکاف کی دعوت دیتے مگر میں ٹال دیا کرتا۔ وہ بَہُت منجھے ہوئے تھے، گویا مایوس ہونا نہیں جانتے تھے، اُنہوں نے مجھے میرے حال پر چھوڑ نا گوارا نہ کیا، مجھے نیکی کی دعوت دے کر اپنا ثواب َکھرا کرتے رہے!  اُن کی پَیہم انفِرادی کوشِش کے نتیجے میں مجھ پاپی و بدکار پکّے دنیا دار کا دل بھی آخِر کار پَسیج ہی گیا اور میں آخِری عَشَرۂ رَمَضَانُ الْمُبَارَک (غالِباً ۱۴۱۰ ھ۔1990ء) میں اُن کے ساتھ مُعْتَـکِف ہوگیا۔

 مجھ دنیا دار کو کیا معلوم تھا کہ عاشقوں کی دنیا ہی کوئی اور ہوتی ہے!  واقعی عاشِقانِ رسول کی صحبت نے مجھ پر رنگ چڑھا دیا، اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّوَجَلَّمیں نَمازی بن گیا، میں نے داڑھی رکھ لی اور عمامہ شریف کا تاج سجا لیا۔ تَحدیث ِنعمت کے لئے ایک بات عرض کرتا ہوں : مجھے وہاں یہ مسئلہ بھی سیکھنے کو ملا کہ قِبلہ کی طرف رُخ یا پیٹھ کئے پیشاب وغیرہ کرنا حرام ہے۔ سُوئِ اتِّفاق سے اِعتکاف والی مسجِد کے اِستِنجا خانوں کا رُخ    غَلَط تھا۔ میں نے رِضائے الٰہی عزَّوَجَلَّ کی خاطِر ہاتھوں ہاتھ کاریگروں کو بلوا کر اپنی جیب سے اَخراجات پیش کر کے استنجا خانوں کے رُخ دُرُست کروا لئے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عزَّوَجَلَّ اِعتِکاف کے بعد سے اب تک کئی بار عاشِقانِ رسول کے ہمر



Total Pages: 194

Go To