Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

اختیار کرے  اللہ     عَزَّوَجَلَّ اسکو بلند مرتبہ عطا فرماتا ہے۔ ‘‘ (صحیح مسلم،کتاب البروالصلۃ والآداب،باب استحباب العفووالتواضح، الحدیث: ۲۵۸۸، ص۱۳۹۷)

اَمْن و ہدا یت والے

       حضرت ِ سیدنا سَخْبَرَہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا:  ’’  جو بندہ عطاپر شکر کرے ،  آزمائش پر صبر کرے ،  ظلم کربیٹھے تو اِسْتِغْـفَارکرے اور اگر اس پر ظلم کیاجائے تو معاف کردے، یہ فرما کر آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  خاموش ہوگئے تو صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کیا:  ’’ یارَسُولَ اللّٰہصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ! اس کے لئے کیا ہے؟  ‘‘  فرمایا:  ’’ ایسے لوگ ہی امن اور ہدایت والے ہیں ۔ ‘‘ (المعجم الکبیرللطبرانی،من اسمہ سخبرۃ الازدی،الحدیث:۶۶۱۳،ج۷،ص۱۳۸)

معاف کرو!  مغفرت پاؤ!

            حضرت ِ سیدنا عبدُ    اللّٰہبنعَمْرْوبن العاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ    نبیوں کے تاجور، سلطانِ بحروبَر،مَحبوبِ رَبِّ اکبر صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا:  ’’ رحم کیا کرو تم پر رحم کیا جائے گا او ر معاف کردیا کرو تمہاری مغفرت کردی جائے گی۔ ‘‘ (المسند للامام احمد بن حنبل، مسند عبد اللّٰہ عن عمرو بن العاص،الحدیث:۶۵۵۲، ج۲،ص۵۶۵)

بُرْدْ بَاری کی ا علٰی مثال

            حضرت امام زَین العابدین رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ کی لونڈی آپ کو وضو کرانے کے لئے بھرا لوٹا لائی، اس کے ہاتھ سے وہ لوٹا آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُپرگر گیا اور آپ زخمی ہوگئے، آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے نگاہ اٹھا کر اسے دیکھا، وہ بولی، اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَ  الْكٰظِمِیْنَ  الْغَیْظَ  ( اور غصہ پینے والے) آپ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا: میں نے غصہ پی لیا، وہ بولی:  وَ  الْعَافِیْنَ  عَنِ  النَّاسِؕ- (اور لوگوں سے درگزر کرنے والے) آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا:  رب عزَّوَجَلَّ تجھے معافی دے (میں نے بھی معاف کیا)،وہ بولی: وَ  اللّٰهُ  یُحِبُّ  الْمُحْسِنِیْنَۚ(۱۳۴) (اور احسان کرنے والے اللّٰہ کے محبوب ہیں ) آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا: جا ، تو  اللہ       عَزَّوَجَلَّکے لیے آزاد ہے۔      (تفسیر روح المعانی، اٰلِ عِمْرٰن، تحت الآیہ:۱۳۴،ج۲،ص۳۷۴)

            دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مَکتبۃُ الْمدینہ کی مطبوعہ 472 صَفْحات پر مشتمل کتاب  ’’  بیانات عطاریہ ‘‘  (حصہ دوم)صَفْحَہ 22 اور 29پر شیخ ِطریقت، امیر اہلسنت، بانیء      دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطارؔ قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ العَالِیَہ پیشگی معاف کردینے اور غصہ ضبط کرنے کے بارے میں نقل فرماتے ہیں :

پیشگی مُعاف کرنے کی فضیلت

            احیاء العلوم، جلد3، صَفْحہ219 میں ہے: ایک شخص دُعا مانگ رہاتھا :  ’’ یااللّٰہ!  میرے پاس     َٓصَدَقہ وخیرات کے لئے کوئی مال نہیں بس یِہی کہ جو مسلمان میری بے عزتی کرے میں نے اُسے مُعاف کیا۔ ‘‘  سرکار  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  پر وَحی آئی:  ’’ ہم نے اِس بندے کو بخش دیا ۔ ‘‘  (شعب الایمان للبیہقی، باب فی حسن الخلق، فصل فی التجاوز۔۔۔الخ،الحدیث:۸۰۸۴، ج۶،ص۲۶۱،۲۶۲ )

دل میں نورِ ایمان پانے کا ایک سبب

            حدیثِ پاک میں ہے:  ’’ جس شخص نے غصہ ضَبْط کرلیا باوُجُود اِس کے کہ وہ غصہ نافِذ کرنے پر قدرت رکھتا ہے تو  اللہ عَزَّوَجَلَّاُس کے دل کو سُکون وایمان سے بھردیگا۔ ‘‘  (الجامع الصغیر للسیوطی،حرف المیم،الحدیث:۸۹۹۷،ص۵۴۱)

یعنی اگر کسی کی طرف سے کوئی تکلیف پہنچ گئی اور غصہ آگیا، یہ بدلہ لے سکتا تھا مگر مَحض رِضائے الٰہی کی خاطِر غصہ پی گیا تو  اللہ عَزَّوَجَلَّاس کوسُکونِ قَلب عطا فرمائے گا اور اس کا دل نورِ ایمان سے بھردے گا۔

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب                                                       صَلَّی اللّٰہُ  تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  حلم وبردباری کا جذبہ پانے کا ایک بہترین  ذریعہ عاشقانِ رسول کے ساتھ مدنی قافلوں میں سفر بھی ہے،آئیے میں آپ کو مدنی قافلے کی  مدنی بہار سناتا ہوں :چنانچہ

            مَنڈَن گڑھ ضِلع رتنا گَری مَہا راشٹر (ہند) کے ایک اسلامی بھائی نے بتایا کہ سن2002ء کی بات ہے، میں بُرے دوستوں کی صُحبت کے باعِث غنڈہ گَینگ میں شامِل ہوگیا۔ لوگوں کو مارنا پیٹنا اور گالیاں بکنا میرا معمول تھا، جان بوجھ کر جھگڑے مول لیتا، جو نیا فیشن آتا سب سے پہلے میں اپناتا ، دن میں کئی بار کپڑے تبدیل کرتا سِوائے جینز (jeans) کے دوسری پینٹ نہ پہنتا، آوارہ دوستوں کے ساتھ گھوم پھر کر رات گئے گھر لوٹتا اور دن چڑھے تک سوتا رہتا ۔والِد صاحِب کا اِنتِقال ہوچکا تھا، بیوہ ماں سمجھاتی تو مَعَاذَ اللّٰہ زَبان درازی کرتاتھا۔ ایک مرتبہ دعوتِ اسلامی کے کسی باعمامہ اسلامی بھائی نے ملاقات پر ایک رِسالہ  ’’ جنات کا بادشاہ ‘‘  (مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) تحفے میں دیا، پڑھا تو اچھا لگا۔

            رَمَضَانُ الْمُبَارَک میں



Total Pages: 194

Go To