Book Name:Naik Bannay aur Bananay kay Tariqay

            پیارے اسلامی بھائیو !   اللہ  عَزَّوَجَلَّ ہر چیز پر قادر ہے ۔ وہ کسی بھی معاملہ میں ہرگز ہرگز کسی کا محتاج نہیں ۔اُس نے اپنی قدرت کاملہ سے دنیا کوبنایا پھر اس کو طرح طرح سے سجایا اورپھر انسانوں کو اس میں بسایا اور انسانوں کی ہدایت کے لئے وقتاً فوقتاً انبیاء ورُسل     عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کو مبعوث فرمایا ۔ وہ اگر چاہے تو انبیاء     عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے بغیر بھی بگڑے ہوئے انسانوں کی اصلاح کر سکتاہے ۔ لیکن اُس کی مشیت ہی کچھ اس طرح ہے اور اُس نے یہی پسند فرمایا کہ میرے بندے ہی نیکی کی دعوت دیں اور برائی سے منع کریں اور اس طرح وہ  میری راہ میں مشقتیں جھیلیں اور میری بارگاہ عالی سے درجات رفیعہ حاصل کریں ۔

            چنانچہ نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے منع کرنے کے منصب عالی کی بجا آوری کے لئے  اللہ    عَزَّوَجَلَّ اپنے رسولوں اور نبیوں    عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کو دنیا میں بھیجتا رہا اور آخر میں اپنے پیارے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کو بھیجا اور سرکار مدینہ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پرسلسلہ نبوت کوختم فرمایااور پھر یہ عظیم الشان منصب اپنے پیارے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اُمت کے سپر د کیا تاکہ اس اُمت کے اسلامی بھائی خود ہی آپس میں ایک دوسرے کی اصلاح کرتے رہیں اور نیکی کی دعوت کے اس اہم فریضہ کو انجام دیتے رہیں ۔ اب رہتی دنیا تک ہر مسلمان اپنی اپنی جگہ پر مبلغ ہے ۔اب ہم غلامانِ مصطفی ہی نے ایک دوسرے کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے ۔ کیونکہ اب کوئی نبی نہیں آئے گا۔اب نیکی کی دعوت کو عام کرنے کا اہم منصب اس امت کے سپر د کیا گیا ہے ۔

            جیساکہ قرآن مجید فرقانِ حمید میں  اللہ    عَزَّوَجَلَّ نے ارشادفرمایاہے:

كُنْتُمْ  خَیْرَ  اُمَّةٍ  اُخْرِجَتْ  لِلنَّاسِ   تَاْمُرُوْنَ  بِالْمَعْرُوْفِ  وَ  تَنْهَوْنَ  عَنِ  الْمُنْكَرِ  (پ۴ اٰل عمرٰن:۱۱۰)

ترجمۂ کنزالایمان:تم بہتر ہواُن سب اُمتوں میں جو لوگوں میں ظاہر ہوئیں بھلائی کا حکم دیتے ہو اور بُرائی سے منع کرتے ہو۔

مفَسِّر شہیر حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمیعَلَیہ رَحْمۃُ اللّٰہِ الْقَوِی ’’    تفسیر نورالعرفان  ‘‘ میں اس آیت کی تفسیر میں تحریر فرماتے ہیں : ’’  اس سے معلوم ہوا کہ ہر مسلمان مُبَلِّغ ہو نا چاہئے ، جومسئلہ معلوم ہو دوسرے کوبتائے اورخود اس کی اپنے عمل سے تبلیغ کرے۔

           اَلْحَمْدُ  للّٰہعَزَّوَجَلَّصحابۂ کرام اور بزرگان دین     رضوان اللّٰہ تعالٰی علیھمنے اس کام کو احسن طریقے سے کیاہے اور نیکی کی دعوت کے ذریعے سے دین اسلام کو دنیا کے کونے کونے میں پہنچایا ہے ۔ ہمارے اسلاف کی ایسی مدنی سوچ ہوا کرتی تھی کہ مرتے وقت بھی وہ اس کام کو نہیں چھوڑتے ۔

            مَذہَبِ مالِکِیّہ کے عظیمُ المرتبت پَیشوا اور زبردست عاشقِ رسول جنہوں  نے اپنی تمام تر زندگی اَمْر بِالمَعْرُوْف وَ نَہی عَنِ الْمُنْکَرمیں بسر کی بِسترِ مَرْگ پر بھی اس اَہم فریضہ کو نہ بھولے۔ آخری وقت بھی اسلامی بھائیوں کو جو وصیت فرمائی اس میں اَمْربِالمَعْرُوْف وَنَہی عَنِ الْمُنْکَرپر زور دیا۔ چنانچہ آپ رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ کے آخری کلمات نقل کرتے ہوئے حضرت ِ یحییٰ بن یحییٰ      رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’  اس کے بعد حضرت سیدنا امام مالک      رَحْمَۃُ اللّٰہِ تعالٰی عَلَیْہنے رَبیع رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ کی ایک روایت بیان کی کہ ’’  کسی شخص کو نماز کے مسائل بتانا رُوئے زمین کی تمام دولت صدقہ کرنے سے بہتر ہے، اور کسی کی دینی الجھن دُور کردینا سو ۰۰احج کرنے سے افضل ہے ۔ ‘‘ اور ابنِ شہاب زُہری     رَحْمَۃُ  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ کی روایت سے بتایا کہ  ’’ کسی شخص کو دینی مشورہ دینا سو غزوات میں جہاد کرنے سے بہتر ہے ۔ ‘‘ حضرت سیِّدنا یحییٰ بن یحییٰ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تعالٰی عَلَیْہکہتے ہیں اس گفتگو کے بعد سیِّدناامام مالک رَحْمَۃُ اللّٰہِ تعالٰی عَلَیْہنے کوئی بات نہیں کی اور اپنی جان جانِ آفرین کے سُپرد کردی۔  ‘‘ (بُسْتَانُ الْمُحَدِّثِین، ص۳۹)

           پیارے اسلامی بھائیو ! ہمارے بزرگانِ دین رَحِمَھُمُ اللّٰہُ المُبِیْن گویا اس بات کے مصداق تھے کہ مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے ۔

           اَلْحَمْدُ  للّٰہعَزَّوَجَلَّ نیکی کی دعوت دینے والوں اور برائی سے منع کرنے والوں سے  اللہ   عَزَّوَجَلَّ کس قدر راضی ہوتا ہے اور ان پر کس قدر رحمتِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ کا نزول ہوتا ہے اور ان کو کس قدر انعامات عطا فرماتا ہے ۔

ایک سال کی عبادت کاثواب

            چنانچہ سیدنا امام محمد غزالی علیہ رَحمَۃُ اللّٰہ الوالی فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدنا موسیٰ عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے  اللہ    عَزَّوَجَلکی بارگاہ میں عرض کیا !   یااللّٰہ عَزَّوَجَلَّ!  جو اپنے بھائی کو بلائے اور اسے نیکی کا حکم کرے اور برائی سے روکے اس کی جزا کیا ہے ؟  فرمایا: ’’  میں اسکی ہر بات پر ایک سال کی عبادت کا ثواب لکھتاہوں اور اسے جہنم کی سزا دینے میں مجھے حیاء آتی ہے۔ ‘‘ (مکاشفۃ القلوب،ص۴۸)

          پیارے اسلامی بھائیو !  دیکھا آپ نے کہ نیکی کی دعوت دینے کے کس قدر فضائل وبرکات ہیں ۔تو ابھی اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ہم بھی باہر جا کر لوگوں کو نیکی کی دعوت پیش کریں گے ۔ جو نماز نہیں پڑھتے ان کو نمازوں کی دعوت دیں گے اور جو مسجدوں سے دور ہیں ،  اُنہیں مسجد میں آنے کی دعوت پیش کریں گے اور جو سنتوں سے دور ہیں ۔ اُن کو سنتوں پر عمل کرنے کی ترغیب دلائیں گے ۔ تاکہ سب مسلمان  اللہ   عَزَّوَجَلَّ اور اس کے پیارے محبوب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کی رضا و خوشنودی حاصل کرنے والے بن جائیں ۔  علاقائی دورہ برائے نیکی کی دعوت میں شرکت کی سعادت حاصل کرنے والے اسلامی بھائی میرے دائیں جانب تشریف لے آئیں ۔ اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  علاقائی دورہ برائے نیکی کی دعوت کے آداب بیان کئے جائیں گے اور جو اسلامی بھائی باہر نہیں جا سکتے وہ مسجد ہی میں تشریف رکھیں کہ مسجد میں بھی سنتوں بھرے درس کا سلسلہ جاری رہے گا  اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ۔

ہزار رکعت سے بہتر

            سرورِ عالم نورِ مجسم،شَہَنشاہِ بنی آدمصَلَّی  اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:  ’’ اے ابو ذر!  تیر ا صبح کے وقتکتابُ اللّٰہ سے ایک آیت سیکھنا تیرے لیے سورکعتیں ادا کرنے سے اچھاہے اورتیراصبح کے وقت علم کی ایک بات سیکھنا ہزار رکعت نماز پڑھنے سے اچھا ہے خواہ اس پر عمل ہویا نہ ہو۔(سنن ابن ماجہ ، کتاب السنۃ، باب فی فضل من تعلم القرآن،الحدیث ۲۱۹، ج۱،



Total Pages: 194

Go To