Book Name:Aankhon ka Tara

(3)دل کامیل دورہوگیا

       کرناٹک(ہند)کے مقیم اسلامی بھائی کے تحریری بیان کالُبِّ لُباب پیش خدمت ہے:یہ ان دنوں کی بات ہے کہ جب ہم دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے’’تربیتی کورس‘‘میں سنّتوں کی تربیت حاصل کررہے تھے’’علاقائی دورہ برائے نیکی کی دعوت‘‘کے سلسلے میں ایک مسجدجاناہوا،سنّتوں بھرے بیان کے بعدانفرادی کوشش کاسلسلہ شروع ہواتومیری ملاقات ایک ایسے نوجوان سے ہوئی جو عقائدِاہلِ سنّت کی حقانیت کے متعلق ترددکاشکارتھا۔اس نوجوان نے ہمیں اپنے گھرچلنے کی دعوت پیش کی توہم اس کی دعوت پرلَبَّیْک کہتے ہوئے اس کے گھرپہنچے وہاں یہ دیکھ کربڑاصدمہ ہواکہ اس کے پاس بدمذہبوں کی بھی کئی کتابیں تھیں میرے دل میں اس کے لئے کڑھن پیداہوئی،اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  پرتوکل کرتے ہوئے میں نے دل میں یہ نیت کی کہ  اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے اس اسلامی بھائی کوبدمذہبوں  کے چنگل سے آزادکرائوں گاچنانچہ میں نے اس سے پوچھاکیا آپ کے پاس فیضانِ سنّت ہے؟توانہوں  نے نفی میں جواب دیا۔اس پرمیں نے’’فیضانِ سنّت‘‘کا اجمالی تعارف پیش کیاکہ یہ ایک ولیٔ کامل کی تالیف ہے جوکہ دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے ’’مکتبۃ المدینہ‘‘سے ہدیۃًحاصل کی جاسکتی ہے لہٰذاآپ ضروراس کا مطالعہ فرمائیں ،اس کے ہامی بھرنے پرمیں نے اسے چندرسائلِ عطاریہ تحفے میں  دیئے اورپھرہم اس کے گھرسے رخصت ہوگئے۔کافی عرصہ بعدحسنِ اتفاق سے اس نوجوان سے ملاقات ہوئی توحسبِ سابق وہ پھرمجھے اپنے گھرلے گیا،اب کی بار میں نے اس کے کمرے میں ’’فیضانِ سنّت‘‘رکھی دیکھی اس نے بتایاکہ آپ کے ترغیب دلانے پرمیں نے یہ کتاب خریدی ہے اوراَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس کامطالعہ کرنے کی سعادت بھی حاصل کررہاہوں ،یہ سن کرمیرادل باغ باغ ہوگیا۔’’فیضانِ سنّت‘‘کے مطالعہ کی بَرَکت سے عقائدِاہلِ سنّت کے متعلق اس کے دل میں جومیل تھانہ صرف وہ دورہوگیابلکہ اس کے دل میں شیخِ طریقت، امیرِ  اہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کی عقیدت ایسی گھرکرگئی کہ وہ امیرِاہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کامریدہوکرنمازروزہ کاپابندبن گیا۔

صَلُّواعَلَی الْحَبِیب !   صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(4)میری تشنگی دورہوگئی

   صادق آباد(پنجاب،پاکستان)کے ایک اسلامی بھائی کے بیان کالُبِّ لُباب ہے:بچپن ہی سے مجھے یہ شوق تھاکہ میں اپنے پیارے نبی،مکی مدنی صَلَّی اللّٰہ  تَعَالٰی عَلَیہ واٰلہٖ وَسَلّمکی ڈھیروں سنّتیں سیکھوں ۔اس مقدس شوق کی تکمیل کے لیے میں کسی ایسی کتاب کی تلاش میں تھاجس سے میری تشنگی دورہوسکے۔ایک مرتبہ ایک مُعَمّر(بڑی عمروالے)اسلامی بھائی نے میرے سامنے حسین پیرائے میں  ’’فیضانِ سنّت‘‘نامی کتاب کاذکرکیاجس سے مجھے اس کے مطالعے کااشتیاق ہوا تلاشِ بسیار کے بعدبالآخرمجھے یہ کتاب دستیاب ہوہی گئی،جب اس کامطالعہ کیاتو یہ جان کر میری خوشی ومسرت کی انتہانہ رہی کہ اس کتاب میں خوفِ خدا،عشقِ مصطفی کے ساتھ ساتھ ڈھیروں سنّتوں کاذخیرہ موجودتھامیں وقتاً فوقتاًاس کا مطالعہ کرتا رہا اور جو کچھ اس سے سیکھتااس پرنہ صرف خودعمل کرتابلکہ دوسروں کوبھی سکھاکرانھیں  شاہراہِ سنّت پرگامزن کرنے کے لئے کوشاں  رہتا۔کچھ عرصہ بعدمیراباب المدینہ (کراچی)جاناہواتوسوچا کیوں نہ اس عظیم ہستی کی زیارت کی جائے جس نے یہ مایہ ناز کتاب لکھی ہے لہٰذادعوتِ اسلامی کے عالمی مَدَنی مرکزفیضان مدینہپہنچ کرشیخِ طریقت،امیرِاہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے دیدارسے فیض یاب ہوااورآپ کی زیارت کی بَرَکت سے سرپرسبزسبزعمامہ شریف کا تاج بھی سجالیا۔ایک رات سویا تو خواب میں کیادیکھتاہوں کہ والدمرحوم ایک نہر کے کنارے ٹہل رہے تھے مجھے دیکھ کر یوں  گویا ہوئے’’بیٹامجھے تیراکام بہت پسندہے‘‘اس مبارک خواب کی بدولت مجھے اس مَدَنی ماحول میں مزیداستقامت ملی اورعمل کاجذبہ پیدا ہو گیا  تادمِ تحریر میں  ذیلی مشاورت کے خادم (نگران)کی حیثیت سے مَدَنی کاموں  میں  مصروف ہوں ۔

اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَررَحمت ہواوران کے صدقے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّواعَلَی الْحَبِیب!   صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(5)اسلامی زندگی کی راہنماتحریر

       باب المدینہ(کراچی)کے مقیم ایک اسلامی بھائی نے ایک مَدَنی بہار بیان کی جس کاخلاصہ پیشِ خدمت ہے:۱۴۱۰ ھ بمطابق1990ءکی بات ہے کہ میں مرکزالاولیائ(لاہور)میں ملازمت کرتاتھا۔ایک روزوہاں کام کے سلسلے میں  ایک نئے اسلامی بھائی آئے جودعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ تھے۔ ایک بارمیں نے ان سے کہاکہ کسی ایسی کتاب کی طرف میری رہنمائی فرمائیں  جسے پڑھ کراسلامی طرزپرزندگی گزاری جاسکے۔انہوں نے کہاکہ آپ دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہسے ’’فیضانِ سنّت‘‘خریدفرمالیجئے، بہت اچھی کتاب ہے۔ زندگی کاپہیہ اسی تیزرفتاری سے گھومتارہاگردشِ لیل ونہارسے بے خبر میں معمول کے مطابق زندگی گزارتارہااوردنیاوی مصروفیت کی وجہ سے وہ کتاب نہ خرید سکا، کچھ عرصہ بعدخداکاکرناایساہواکہ میں مستقل طورپرباب المدینہ(کراچی) شفٹ ہو گیا۔ایک روزنمازِمغرب کی ادائیگی کے لئے ایک مسجدمیں گیاتونمازادا کرنے کے بعدمیں نے دیکھاکہ سفیدلباس زیبِ تن کئے سرپرسبزسبزعمامہ شریف کاتاج سجائے ایک اسلامی بھائی درس دے رہے تھے اورکئی اسلامی بھائی ان کے اردگرد نہایت منظم اندازمیں بیٹھے انتہائی یکسوئی کے ساتھ درس سُننے میں مصروف تھے۔ میں  بہت متأثرہوااورادب سے سرجھکائے میں بھی اس درس میں بیٹھ گیا۔ جب میری نظر اس کتاب پرپڑی جس سے وہ اسلامی بھائی درس دے رہے تھے تواس پر ’’فیضانِ سنّت‘‘لکھاتھاجسے دیکھ کرمیراذہن ماضی کے دھندلکوں میں کھو گیا او ر میرے ذہن کے نہاں خانوں میں یہ بات عیاں ہوگئی کہ مرکزالاولیاء (لاہور) میں  جس اسلامی بھائی سے میری ملاقات ہوئی تھی انھوں نے مجھے اسی کتاب کو خریدنے کا مشورہ دیاتھا۔درس کے بعدمیں نے اسلامی بھائیوں  سے ملاقات کی اوران سے فیضانِ سنّت مطالعہ کرنے کے لئے لے لی۔اس خوبصورت تحریرکے ہر ایک پیرائے سے واقعتاسنّتوں کافیضان جھلک رہاتھا،اندازِتحریرنہایت سادہ اورعام فہم کہ پڑھنے والا بحرِالفاظ میں غوطہ زن ہوکرمعانی کے بھنورمیں پھنسے بغیرنہایت آسانی سے مقصود کے موتیوں  تک رسائی پاسکتاہے۔اس کتاب میں  پیارے آقا صَلَّی اللّٰہ تَعالٰی عَلَیہ وَ اٰٰلہٖ وَ سَلَّمکی سنّتوں پرعمل کرنے کی اوراحکامِ الٰہیہ کی بجاآوری کی ترغیب اس قدر پیارے اندازمیں دی گئی تھی کہسُبْحَانَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ۔ ان سب چیزوں نے میرے ذہن پرانتہائی



Total Pages: 7

Go To